Welcome to Tawheed TV, where I share Javed Ahmed Ghamidi's insights on Islam. May these videos deepen your understanding and bring you closer to the truth. Subscribe for thoughtful discussions and divine guidance.
For any inquiries, information, or issues, feel free to contact me at⤵️
📧 1tawheedtvofficial@gmail.com
Tawheed Tv
سورۂ انعام کی آیت ۱۲۳ میں ’جَعَلْنَا‘ کا مفہوم
(’’البیان‘‘ کے ترجمے پر اعتراض کا جائزہ)
(محمد حسن الیاس)
بعض ملحدین کی نسبت سے یہ اعتراض ہم تک پہنچا ہے کہ استادِ مکرم جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی تفسیر ’’البیان‘‘ میں سورۂ انعام کی آیت ۱۲۳ میں ’جَعَلْنَا‘ کا ترجمہ ’’ڈھیل دی‘‘ کیا ہے اور حاشیے میں واضح کیا ہے کہ یہاں یہ لفظ ’اَمْهَلْنَا‘ کے مفہوم میں آیا ہے۔
آیت کے الفاظ یہ ہیں:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ۔
(الانعام ۶: ۱۲۳)
غامدی صاحب نے اِس کے پہلے حصے کا ترجمہ کیا ہے:
’’ہر بستی میں اُس کے بڑے بڑے مجرموں کو ہم نے اِسی طرح ڈھیل دی کہ اُس میں اپنی چالیں چل لیں۔‘‘
معترضین کا سوال ہے کہ ’جَعَلْنَا‘ سے ’’ڈھیل دینے‘‘ کا مفہوم کس بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے؟ اگر مقصود مہلت دینا تھا تو عربی میں ’اَمْهَلْنَا‘ کا لفظ موجود تھا؛ قرآن نے وہی لفظ کیوں نہیں استعمال کیا؟ اُن کے نزدیک یہاں مہلت کا مفہوم اختیار کرنا قرآن کے الفاظ میں اپنی طرف سے معنی داخل کرنا ہے، اور غامدی صاحب اِس تعبیر میں متفرد ہیں۔
اُن کا مزید دعویٰ ہے کہ آیت کا اصل مفہوم مجرموں کے افعال کی ذمہ داری اُن کے خالق پر ڈالتا اور انسان کے اختیار کی نفی کرتا ہے۔ اُن کے بقول غامدی صاحب نے اِسی نتیجے سے بچنے کے لیے آیت کا مفہوم بدل کر ترجمے میں ’’ڈھیل دی‘‘ کے الفاظ اختیار کیے ہیں۔
اِس اعتراض کے جواب میں چند طالب علمانہ گزارشات پیش خدمت ہیں۔
استادِ مکرم کا یہ ترجمہ اوّلًا آیت کے سیاق اور پھر قرآن مجید میں بیان کردہ سننِ الٰہیہ کے مطالعے پر مبنی ہے۔ اِس فہم میں وہ متفرد بھی نہیں ہیں؛ تفسیری روایت میں اِس کے شواہد موجود ہیں۔ اِسے سمجھنے کے لیے کسی لفظ کے عمومی لغوی مفہوم اور کسی خاص ترکیب میں اُس کی مراد کا فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
۱۔ ’جَعَلَ‘ کے معنی ترکیب اور سیاق سے متعین ہوتے ہیں
عربی زبان میں ’جَعَلَ‘ ایک وسیع الاستعمال فعل ہے۔ یہ پیدا کرنے، کسی چیز کو کسی حالت میں کر دینے، مقرر کرنے اور کسی کو کسی حیثیت سے قرار دینے کے لیے آتا ہے۔ بعض ترکیبوں میں کسی کام کو شروع کر دینے کا مفہوم بھی ادا کرتا ہے۔ راغب اصفہانی نے ’’المفردات‘‘ میں اِس کے مختلف استعمالات بیان کیے ہیں۔ چنانچہ اِس کا ترجمہ ہر جگہ ایک ہی لفظ سے نہیں کیا جا سکتا؛ چنانچہ فعل کی ترکیب، اُس کے مفعول و متعلقات اور سیاق کو سامنے رکھ کر مفہوم متعین کرنا ہوتا ہے۔
سورۂ انعام ہی سے چند مثالیں دیکھیے:
۱ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ اندھیروں اور روشنی کو پیدا کرنا
۹۶ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا رات کو سکون کی چیز بنانا
۱۰۰ وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ جنوں کو خدا کا شریک ٹھیرانا
۱۰۷ وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا نگران مقرر کرنا
۱۲۲ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا روشنی عطا کرنا
۱۲۵ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا سینہ تنگ کر دینا
یہاں ہر جگہ فعل ایک ہی ہے، مگر اردو میں اُس کی تعبیر موقع کے لحاظ سے بدل جاتی ہے۔ ہماری زبان میں بھی ’’کھانا بنانا‘‘، ’’بات بنانا‘‘ اور ’’کسی کو بے وقوف بنانا‘‘ الگ مفہوم رکھتے ہیں۔ ترجمے میں پوری ترکیب کا مفہوم ادا کیا جاتا ہے۔ زیرِ بحث آیت میں ’’ڈھیل‘‘ کے مفہوم کی تعیین بھی اِسی اصول پر ہوگی۔
۲۔ سیاق میں مہلت اور آزمایش کا مضمون
زیرِ بحث آیت میں ’جَعَلْنَا‘ سے مہلت کا مفہوم مراد لینے کی وجہ اِسی سلسلۂ کلام میں موجود ہے۔ آیت ۱۲۳ میں بستیوں کے بڑے مجرموں کی چالوں کا ذکر ہے اور آیت ۱۱۲ میں انبیا کی مخالفت کرنے والے شیاطین کا۔ دونوں مقامات پر ’جَعَلْنَا‘ کے لفظ سے اِس صورتِ حال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے۔ آیت ۱۱۲ میں اِس کے ساتھ جو وضاحت آئی ہے، وہ اِس نسبت کی نوعیت سمجھنے میں رہنمائی کرتی ہے۔ فرمایا ہے:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ۔
یعنی اِسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیاطین کو دشمن بنایا۔ پھر اُسی آیت میں فرمایا:
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ۔
یعنی تیرا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کر پاتے، سو اُنھیں اُن کی افتراپردازیوں میں پڑا رہنے دو۔
اِس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین کی مخالفت خدا کی قدرت سے باہر کوئی واقعہ نہیں۔ وہ چاہے تو اُنھیں روک دے، مگر اُس نے اُنھیں اپنے اختیار سے کام کرنے کی آزادی دے رکھی ہے۔ غامدی صاحب نے اِسی بنا پر یہاں فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہونے کو اُس کے قانونِ امتحان کے بیان کا اسلوب قرار دیا ہے۔ اُن کے نزدیک شیاطین کو نبی کا دشمن بنانے کا ذکر اُس سنتِ ابتلا کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت اُنھیں اپنے ارادوں پر عمل کرنے کی مہلت دی جاتی ہے۔
اگلی آیت میں ’وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُمْ مُقْتَرِفُونَ‘ فرمایا ہے، یعنی وہ جو کمائی کرنے والے ہیں، کر لیں۔ ’’البیان‘‘ کی توضیح کے مطابق اشرار اور اُن کے پیرووں کو اِس لیے مہلت ملتی ہے کہ اُن کے اندر کا فساد پوری طرح سامنے آجائے اور وہ اپنے اوپر اللہ کی حجت تمام کر لیں۔
چنانچہ اب آیت ۱۲۳ کو اِس پس منظر میں پڑھیے تو مضمون واضح ہو جاتا ہے: ہر بستی میں حق کے مخالف بڑے مجرموں کو اپنی چالیں چلنے کا موقع ملتا ہے۔ اُنھیں فوراً روک نہیں دیا جاتا، لیکن اُن کی تدبیروں کا آخری وبال اُنھی پر پڑتا ہے۔ اِسی لیے آیت کے آخر میں ’وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنْفُسِهِمْ‘ فرمایا ہے، یعنی وہ اپنی چالوں سے خود اپنے ہی خلاف تدبیر کر رہے ہیں۔ اگلی آیت میں اُن کی مکاریوں کی پاداش میں سزا کا ذکر اِسی انجام کو مزید واضح کر دیتا ہے۔
لہذا غامدی صاحب کا ترجمہ ’’ڈھیل دی‘‘ اِسی آزادی اور مہلت کو اردو میں ادا کرتا ہے جس کی وضاحت اِسی سلسلۂ کلام میں پہلے ہو چکی ہے۔
۳۔ تفرد یا تفسیری روایت کا تسلسل
کسی تفسیری راے کا نیا یا پرانا ہونا بذاتِ خود اُس کی صحت یا عدمِ صحت کی دلیل نہیں ہے۔ زبان و بیان کے معاملے میں فیصلہ الفاظ کی دلالت، کلام کی تالیف اور سیاق و سباق کی روشنی میں ہوتا ہے۔ تاہم، جب کسی تعبیر کو مترجم کی اپنی وضع کردہ تعبیر قرار دیا جائے تو یہ واضح کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے یا تفسیری روایت میں پہلے سے موجود ہے۔
اِس پہلو سے دیکھیے تو زیرِ بحث مفہوم کی تائید زمخشری کی کشاف سے ہوتی ہے۔ وہ اِسی آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَمَعْنَاهُ: خَلَّيْنَاهُمْ لِيَمْكُرُوا وَمَا كَفَفْنَاهُمْ عَنِ الْمَكْرِ۔
یعنی ہم نے اُنھیں چالیں چلنے کے لیے چھوڑ دیا اور اُنھیں مکاری سے روکا نہیں۔ یہ ’’ڈھیل دینے‘‘ ہی کی توضیح ہے۔
مولانا امین احسن اصلاحی نے بھی ’’تدبرِ قرآن‘‘ میں یہاں مہلت ہی کا مفہوم اختیار کیا ہے۔ اُن کے نزدیک دعوتِ حق کی مخالفت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق ایک مدت تک ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ جو کمائی کرنا چاہتے ہیں، کر لیں۔ ’’البیان‘‘ کا ترجمہ اِسی تفسیری فہم پر قائم ہے۔
۴۔ مہلت اور خدا کا قانون
قرآن مجید میں مجرموں کو مہلت دینے، اُن کے اپنی روش پر آگے بڑھنے اور بالآخر اپنے کیے کا نتیجہ بھگتنے کا مضمون متعدد مقامات پر آیا ہے۔ سورۂ آل عمران میں فرمایا ہے:
إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا۔
(آل عمران ۳: ۱۷۸)
یہاں مہلت دینے کے ساتھ گناہ میں بڑھنے کا ذکر ہے۔ قرآن اُس موقع کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے جس میں منکرین اپنی اختیار کردہ بدعملی میں آگے بڑھتے ہیں۔
سورۂ اعراف میں اِسی مہلت کا تعلق خدا کی تدبیر سے بیان ہوا ہے:
سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ۔
(الاعراف ۷: ۱۸۲–۱۸۳)
یعنی اُنھیں ایسے طریقے سے اُن کے انجام کی طرف لے جایا جاتا ہے جس کا اُنھیں احساس نہیں ہوتا اور اِس دوران میں اُنھیں ڈھیل ملتی ہے۔
سورۂ حج میں بستیوں ہی کے بارے میں فرمایا ہے:
وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا۔
(الحج ۲۲: ۴۸)
یعنی کتنی ہی بستیاں تھیں جنھیں ظلم کے باوجود مہلت دی گئی، پھر اُنھیں گرفت میں لے لیا گیا۔
سورۂ طارق میں مخالفین کی چالوں کے ذکر کے فوراً بعد فرمایا ہے:
فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا۔
(الطارق ۸۶: ۱۷)
یعنی اِن منکروں کو کچھ مہلت دے دو۔ یہاں چالوں اور مہلت کا مضمون ایک ہی سلسلۂ کلام میں جمع ہے۔
۵۔ ’اَمْهَلْنَا‘ کے بجاے ’جَعَلْنَا‘ کیوں فرمایا؟
عربی میں ’اَمْهَلْنَا‘ کا لفظ موجود ہونا اِس بات کی دلیل نہیں کہ مہلت کا مفہوم کسی دوسری ترکیب سے ادا نہیں ہو سکتا۔ لفظ کا انتخاب اُس پورے مضمون کے لحاظ سے ہوتا ہے جو کلام میں بیان کرنا مقصود ہو۔
’اَمْهَلْنَا‘ مہلت دینے کو براہِ راست بیان کرتا ہے، جب کہ ’جَعَلْنَا‘ میں یہاں ایک پوری صورتِ حال کے قائم ہونے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے: ہر بستی میں بااثر مجرموں کا موجود ہونا اور اُنھیں اپنی تدبیریں کرنے کا موقع ملنا۔ غامدی صاحب اِس نسبت کو اُس قانونِ امتحان کے تحت سمجھتے ہیں جس کی وضاحت آیات ۱۱۲–۱۱۳ میں ہوئی ہے۔ ’’ڈھیل دی‘‘ کے الفاظ اِسی صورتِ حال میں مراد لیے گئے موقع اور مہلت کو نمایاں کرتے ہیں۔
اِس تعبیر کے مطابق، مجرموں کو مہلت دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اور مکر کرنے کی نسبت خود اُن کی طرف۔ خدا اُنھیں اپنے اختیار سے کام کرنے کا موقع دیتا ہے اور وہ اِس موقع کو مکاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آیت کے آخر میں اُن کی تدبیروں کا وبال خود اُنھی پر پڑنے اور اگلی آیت میں اُن کی مکاریوں کی پاداش میں سزا پانے کا ذکر اِسی ذمہ داری کو واضح کرتا ہے۔ چنانچہ خدا کی طرف فعل کی نسبت کو انسان کے ارادے اور ذمہ داری کی نفی کے مترادف سمجھنا اِس لسانی فہم کی درست ترجمانی نہیں ہے۔
ان دلائل کی روشنی میں البیان کے ترجمے میں ڈھیل دینے کے مفہوم کو سمجھا جا سکتا ہے۔
نومبر 7، 2026
9 hours ago | [YT] | 132
View 4 replies
Tawheed Tv
🔥Don’t Miss This Expose‼️
5 days ago | [YT] | 4
View 0 replies
Tawheed Tv
💕
2 weeks ago | [YT] | 1,475
View 45 replies
Tawheed Tv
Don’t Miss‼️
3 weeks ago | [YT] | 1
View 0 replies
Tawheed Tv
Don’t Miss‼️
3 weeks ago | [YT] | 4
View 0 replies
Tawheed Tv
Don’t Miss‼️
1 month ago | [YT] | 11
View 0 replies
Tawheed Tv
Don’t Miss‼️
1 month ago | [YT] | 8
View 0 replies
Tawheed Tv
Don’t Miss‼️
1 month ago | [YT] | 4
View 0 replies
Tawheed Tv
Don’t Miss‼️
1 month ago | [YT] | 3
View 0 replies
Tawheed Tv
Don’t Miss✨
1 month ago | [YT] | 6
View 0 replies
Load more