*سوانح حیات: محبِ علم و عمل، مرحوم محمد شیر خان صاحب*
ابتدائی حالات اور شجرہ نسب وادیِ اڑی کے پُر وقار فرزند اور علم و حکمت کے شیدائی، محمد شیر خان صاحب کی پیدائش تقسیمِ ہند سے قبل (تقریباً 1907ء کے آس پاس) اپنے آبائی گاؤں اڑی میں ہوئی تھی۔ آپ کا تعلق ایک معزز علمی و نسبی خاندان سے تھا، آپ کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے: > محمد شیر خان بن میر محمد خان بن فیض طلب خان بن ہاشم علی خان بن کرم بخش خان بن شیرا خان۔ > ابھی آپ کی عمر محض سات برس تھی کہ سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا۔ یتیمی کے کٹھن دور میں آپ کی دادی "بیگم بی" (جو اپنے وقت کی نہایت دانا اور صاحبِ بصیرت خاتون تھیں) نے آپ کی تربیت کی ذمہ داری سنبھالی۔ *تعلیمی سفر اور بچپن* اس دور میں جب جہالت اور غربت کا دور دورہ تھا، آپ کی دادی نے آپ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے مقامِ ہرنی (موجودہ ہائیر سیکنڈری اسکول) کے پرائمری اسکول میں داخل کرایا، آپ نے اپنی ذہانت اور محنت سے بہت جلد اساتذہ کے دل جیت لیے اور پوری جماعت کے مانیٹر مقرر ہوئے۔ محض 10 سال کی عمر میں آپ نے پانچویں کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا، آپ کی خوش نویسی کا یہ عالم تھا کہ آپ کا اردو رسم الخط کسی کمپیوٹرائزڈ تحریر کی مانند خوبصورت اور دلکش تھا۔ *جوانی کا دور: ہمت اور استقامت کی مثال* اسکول سے فراغت کے بعد معاشرتی حالات سازگار نہ تھے، اور کوئی دوسرا سربراہ نہ تھا جو آپ کی حوصلہ افزائی کرکے آپ کو مزید تعلیم جاری رکھنے کا کہتا،مگر آپ نے ہمت نہ ہاری، آپ کی ذہانت کی وجہ بڑے ساہو کار آپ کے مخالف ہوگئے اور آپ کے خلاف سازشیں کرنے لگے ،آپ نے نہ صرف مفسدین اور مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اللہ نے آپ کو مثالی جسمانی طاقت اور خوبصورتی سے بھی نوازا تھا، آپ اپنے دور کے نامور پہلوانوں کو پچھاڑنے کی سکت رکھتے تھے، جس کی وجہ سے بااثر لوگ بھی آپ کی ہیبت سے لرزتے تھے، تاہم اس طاقت کے باوجود آپ بچپن ہی سے نماز کے پابند اور نیک سیرت انسان تھے۔ *علمی و روحانی شغف* آپ کی زندگی کا ایک روشن پہلو آپ کا علمی و دینی کتب مطالعہ تھا، آپ نے شرح مشکوٰۃ شریف مظاہر حق جیسی مستند دینی کتابوں کا خود مطالعہ کیا، آپ "علمِ ابجد" کے ماہر تھے اور وقت کے بڑے بڑے علماء کی محفلوں میں شریک ہونا سعادت سمجھتے تھے، دیوبندی مکتبہ فکر کے جید عالم مولانا عبد العزیز صاحب سے آپ کی گہری قربت تھی، یہاں تک کہ وہ ایک ماہ تک آپ کے گھر مقیم رہے اور آپ نے ان سے فیض حاصل کیا، روحانیت کے سفر میں آپ نے حضرت بابا صاحب لاڑوی کے فرزندِ ارجمند حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے ہاتھ پر بیعت کی اور طریقت کی راہ اختیار کی، زندگی کے آخری ایام تک آپ ورد و وظائف اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے۔ *محنت کشی اور ہنرمندی* آپ ایک جفاکش کاشتکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کاریگر بھی تھے، اپنے مکان کی تعمیر کے لیے جنگل سے وزنی شہتیر خود لانا اور بڑھئی کے کام میں مہارت رکھنا آپ کا خاصہ تھا، آپ کے ہاتھوں کی تراشی ہوئی قرآن پاک کی رحلیں آج بھی آپ کی ہنرمندی کے ٹھوس ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔ *عائلی زندگی اور اولادِ صالح* آپ نے یکے بعد دیگرے دو شادیاں کیں۔ پہلی اہلیہ سے آپ کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں، جن میں سے تین بیٹے اور ایک بیٹی بچپن ہی میں فوت ہو گئے، آپ کے بڑے صاحبزادے محمد افضل خان حیات ہیں، جن کی اولاد میں ماشاء اللہ تین بیٹے (محمد عبداللہ خان، عبدالسلام خان-ٹیچر، اور محمد اسد اللہ خان-حافظ، عالمِ فاضل اور مفتی) اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ مرحوم کی دوسری شادی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ بڑا صاحبزادے غلام سرور بچپن ہی میں دس سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ دوسرے صاحبزادے کا نام محمد اشرف خان ہے، جو پیدائشی طور پر قوتِ سماعت و گویائی سے محروم ہونے کے باوجود نہایت ہنرمند درزی، مستری اور مکینک ہیں، ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے جن میں سے ایک صاحبزادے طارق محمود خان دینی عالم اور مفتی ہیں جو تدریس اور امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ *وفات* تقریباً 93 سال کی بھرپور زندگی گزارنے کے بعد، آپ 23 دسمبر 2000ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے، اللہ پاک اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ (سورۃ النحل: 125) > ترجمہ: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے، اور ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کیجیے جو سب سے بہتر ہو۔" قرآن پاک کی یہ ایک آیت ہمیں دعوت اور مکالمے کے تین بڑے اصول سکھاتی ہے: 1️⃣ حکمت: دانائی کے ساتھ بات کرنا۔ 2️⃣ بہترین نصیحت: دل کو چھو لینے والا انداز۔ 3️⃣ بہترین بحث: اگر اختلاف ہو جائے تو بدتمیزی کے بجائے "احسن طریقے" (سب سے عمدہ اسلوب) سے بات کرنا۔ حاصلِ کلام: ہمارا مقصد حق سچ پہنچانا ہونا چاہیے، کسی کو نیچا دکھانا نہیں۔ #القرآن#ادب#حکمت#سوشل_میڈیا_اخلاقیات
*خلا سے لی گئی خانہ کعبہ کی دل چھو لینے والی تصویر کا سوشل میڈیا پر چرچہ* مسلمانوں کے مقدس ترین مقام کی ایک تصویر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جارہی ہے، خانہ کعبہ اس کی دلکش تصویر کو خلا سے بنایا گیا ہے، اس تصویر میں مقدس مقام انتہائی روشن نقطے کی طرح نظر آرہا ہے، یہ تصویر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے تقریباً 400 کلومیٹر کی بلندی پر لی گئی۔
📜 *مناظرہ کی شرعی حیثیت اور موجودہ حالات* : *خاموشی نہیں، حق کا دفاع فرض* ہے ⚔️ اسلام خاموشی کا نہیں، حق کی وضاحت اور باطل کے رد کا دین ہے، جب اہلِ باطل اسلام یا اہلِ حق پر پروپیگنڈا کریں، الزام تراشیاں یا غلط عقائد عوام میں پھیلائیں تو قرآن و سنت یہ نہیں کہتے کہ چپ ہو کر دیکھتے رہو، بلکہ حکم دیتے ہیں کہ اَحسن انداز میں دلیل کے ساتھ جواب دو۔ قرآن میں انبیاء کے واقعات بار بار یہ سکھاتے ہیں کہ الزام کا جواب دینا کمزوری نہیں، انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوموں کو کہا: “لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ… لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ” — یعنی ہم گمراہ نہیں، بے وقوف نہیں، بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حق پر اگر اعتراض ہو تو وضاحت کرنا سنتِ انبیاء ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خود نبی کریم ﷺ کی طرف سے جھوٹے الزامات کا رد فرمایا: "مَا أَنْتَ بِمَجْنُون" "وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِر" یہ آیات اعلان کرتی ہیں کہ جب باطل فتنہ اٹھائے تو حق کی طرف سے جواب ضرور آتا ہے۔ قرآن کا حکم "وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ" (بہترین طریقے سے ان سے بحث و مباحثہ کرو) یہ واضح کرتا ہے کہ مکالمہ، گفتگو اور مناظرہ دین کا مشروع طریقہ ہے۔ سیرتِ طیبہ میں حضور ﷺ نے میڈیا کے اُس دور کے انداز "اشعار و خطبات" میں ہونے والے پروپیگنڈے کا جواب دینے کا حکم دیا ، جب ابو سفیان بن حارث نے اشعار میں گستاخی کی تو آپ ﷺ نے حضرت حسان بن ثابتؓ کو بلایا اور فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مدد لے کر " اُس کے اشعار کا جواب دو " یہ بتانے کے لیے کہ پروپیگنڈے کو پروپیگنڈے کے میدان میں ہی روکا جاتا ہے، صحابہؓ کرام بھی ضرورت کے وقت مناظرہ کرتے تھے، حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا خوارج کے ساتھ تاریخی مناظرہ پوری امت کے لیے دلیلِ روشن ہے، ائمہ و محدثین کا طریقہ بھی یہی تھا ، خطیب بغدادیؒ کہتے ہیں: "ہم نے ہر دور میں علماء کو مناظرہ کرتے اور حق واضح کرتے دیکھا ہے۔" اکابرِ دیوبند کی تاریخ بھی اسی پر قائم ہے ، انہوں نے اہلِ بدعت، قادیانیوں اور دیگر گمراہ فرقوں کے ساتھ بے شمار علمی مناظرے کیے،یاد رہے کہ خطہ پیر پنجال میں بھی خاص طور پر پونچھ سمیت دیگر علاقوں میں اہلِ بدعت اور قادیانیوں کے ساتھ کئی بار کامیاب مناظرے ہوئے، اور دارالعلوم دیوبند کے مناظرین کو خصوصی طور پر بلایا گیا ، یہ سب ثابت شدہ تاریخی حقائق ہیں۔ آج بعض لوگ نوجوان علماء کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کے لئے کہتے ہیں : "میڈیا پر کام کا فائدہ نہیں " لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں: " فلان شخص نے میڈیا کے ذریعے بہت سارے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے اور دیکھو کہ لوگ کتنے کنفیوز ہو رہے ہیں یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ سوشل میڈیا انتہائی مؤثر ہے، اب اِس میڈیا کے ذریعے اگر گمراہی پھیل رہی ہے تو حق بھی اسی میڈیا سے دفاع چاہتا ہے، آج سوشل میڈیا میدانِ کار کا نیا رخ ہے، اسے چھوڑ دینا پسپائی ہے، حکمت نہیں، جب باطل اہلِ سنت پر الزامات لگائے، اکابر کی توہین کرے، عوام کو گمراہ کرے، اور کھلے عام مناظرے کے چیلنج دے، تو خاموش رہنا نہ حکمت ہے، نہ دین کی منشا۔ لہٰذا اس وقت ضرورت ہے کہ اہلِ حق آگے آئیں، مہذب اور علمی انداز میں جواب دیں، اور دفاعِ دین کے اس دور کے تقاضے پورے کریں۔ مناظرہ کمزوری نہیں یہ سنتِ انبیاء ، طریقۂ صحابہ، ائمہ اور اکابر کی روشن روایت ہے۔
مفتی اسداللہ خان رحیمی: سوانحی خاکہ (مع اضافی تفصیلات) نام: *محمد اسداللہ خان* ولدیت: *محمد افضل خان* تاریخ پیدائش: 1 جنوری 1985ء پیدائشی مقام: محلہ منگرالاں، گاؤں: اڑی، تحصیل مینڈھر، ضلع پونچھ، جموں و کشمیر *مفتی اسداللہ خان رحیمی* صاحب ایک جید عالم، کامیاب مدرس، اور مبلغ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی دین کی تعلیم اور خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ *ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن* آپ کی ابتدائی تعلیم کا آغاز چھ سال کی عمر میں ہوا، مزید تعلیم کے لیے گیارہ سال کی عمر میں آپ نے دارالعلوم محمودیہ مینڈھر میں داخلہ لیا، جہاں آٹھویں جماعت تک تعلیم مکمل کی، اس کے بعد آپ نے پونےتین سال کے قلیل عرصے میں حفظِ قرآن کریم کی سعادت حاصل کی۔ *دورہ حدیث اور درسی علوم* حفظ کے بعد آپ نے مزید علوم کی تحصیل کے لیے گجرات کا رُخ کیا اور جامعہ رشیدیہ نانی نرولی سورت میں دَور، اردو، فارسی، اور عربی اول کی تعلیم تین سال میں مکمل کی،علم دین میں پختگی اور مزید اختصاص کے لیے، آپ نے شعبان 2004ء میں *دارالعلوم رحیمیہ* بانڈی پورہ خانقاہ محمودیہ کشمیر میں حاضری دی، یہیں پر آپ نے جامع شریعت و طریقت حضرت مولانا محمد رحمت اللہ میر القاسمی چشتی قادری سہروردی نقشبندی سے بیعت کی اور ان کی روحانی سرپرستی میں درسِ نظامی کی تعلیم مکمل کی اور اگست 2010ء میں دارالعلوم رحیمیہ سے فراغت حاصل کی۔ *تدریسی و عملی خدمات* فراغت کے بعد دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ نے آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا اور آپ کو وہیں بطور استاذ مقرر کیا گیا، آپ نے 2014ء تک کامیابی کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دیں، اِس دوران دارالعلوم رحیمیہ کی مسجد میں امامت بھی کرتے رہے ، اپنے پیر و مرشد حضرت مولانا محمد رحمت اللہ صاحب سے اجازت لینے کے بعد آپ اپنے آبائی علاقے مینڈھر واپس لوٹے، اور 2015ء سے تاحال آپ دارالعلوم محمودیہ مینڈھر ضلع پونچھ جموں و کشمیر میں علم کی شمع روشن کر رہے ہیں اور تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ مدرسہ کی مرکزی جامع مسجد انور مینڈھر میں وقتاً فوقتاً امامت و خطابت کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں، اور بوقت ضرورت آس پاس کی مساجد میں بھی جمعہ کے مواقع پر خطابت فرماتے ہیں۔ *عصری اور دینی اسناد* مفتی اسداللہ خان رحیمی صاحب نے اپنی روایتی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو بھی اہمیت دی، آپ نے تدریس کے دوران ہی جامعہ اُردو دینیات دیوبند سے فاضل کی ڈگری حاصل کی اور پھر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد سے *ایم اے اسلامیات* کی تکمیل کی، اس کے علاوہ آپ نے تکمیل افتاء و قضاء (مفتی اور قاضی بننے) کی اسناد بھی حاصل کیں،جو آپ کی فقہی مہارت اور قانونی بصیرت کا ثبوت ہیں۔ مفتی صاحب نے نہ صرف تعلیم و تربیت کے میدان میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں بلکہ اپنی زندگی کو ایک مثالی عالم دین، مدرس اور مبلغ کے طور پر پیش کیا ہے۔
"*ہمارے دلوں میں ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی محبت*" "I love Muhammad" یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن ہے، یہ وہ محبت ہے جو ہمیں کائنات کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے، ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارے ایمان کا وہ حصہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، یہ محبت قرآن اور احادیث کی روشنی میں ہمارے ایمان کا کمال ہے۔ *محبت ایک فطری جذبہ ہے* ایک مسلمان اپنی زندگی کے ہر لمحے میں نبی ﷺ کی سیرت کو مشعلِ راہ بناتا ہے، ان کی محبت صرف ایک جذباتی تعلق نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، یہ وہ محبت ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنے دین اور ایمان پر قائم ہیں، حال ہی میں "I love Muhammad" کے پوسٹر لگانے پر ملک عزیز میں جو کارروائیاں ہو رہی ہیں، وہ نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ ہمارے جمہوری آئین کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
*جمہوری حقوق کا تحفظ ضروری ہے* ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر کھل کر عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے، یہ ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ سے اپنی محبت کا اظہار کریں، اس محبت کا اظہار کرنے پر ایف آئی آر درج کرنا اور لوگوں کو گرفتار کرنا آزادی اظہار رائے اور مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ ہے،ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی محبت کے معاملے میں کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گے، یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے اور ہم اپنے ایمان پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتے، ہماری محبت نہ تو کسی کے لیے خطرہ ہے اور نہ ہی اس میں کوئی قانونی غلطی ہے، یہ خالصتاً ایک مذہبی اور ذاتی عقیدہ ہے۔ ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پرامن رہیں لیکن اپنے حق پر بھی قائم رہیں، محبت کے اس پیغام کو پھیلائیں اور دنیا کو بتائیں کہ ہمارے دل میں محمد ﷺ کی محبت زندہ ہے۔ #IloveMuhammad#محبت_رسول#ہمارا_ایمان#جمہوری_حقوق
*کشمیر کی اقتصادی بنیادیں کھوکھلی ہو کر رہ گئی ہیں*
کشمیر میں کچھ عرصے سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض حالات کی خرابی نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا حملہ ہے۔ ہماری معیشت کو پے در پے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہماری روزی روٹی کے بڑے ذرائع ایک ایک کر کے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری وادی کی اقتصادی ریڑھ کی ہڈی کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ *سیاحت کی خاموش موت* پہلے جو سیاحت ہماری ویش کا فخر تھی، آج وہ صرف ایک افسوسناک یاد بن کر رہ گئی ہے۔ کبھی ڈل جھیل پر کشتیوں میں غیر ملکی سیاحوں کا چہچہانا اور بازاروں میں ان کی موجودگی کاروبار کی رونق بڑھاتی تھی۔ لیکن اب خوف اور غیر یقینی کی صورتحال نے ہماری مہمان نوازی کو خاموش کر دیا ہے۔ ہوٹل، گائیڈ، اور دستکاریوں کا کام کرنے والے لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں اور کشمیر کی سیاحت صرف تصویروں میں رہ گئی ہے۔ خوراک کے کاروبار پر سازش کا سایہ اس کے بعد، گوشت کے کاروبار کو بدنام کیا گیا۔ یہ ایک سازش تھی جس میں مقامی حلال اور تازہ گوشت کو "غیر حلال" اور "ناقص" قرار دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے باہر سے سستا اور خراب معیار کا گوشت درآمد کیا گیا، جس سے ہمارے قصابوں اور تاجروں کا کاروبار مکمل طور پر بیٹھ گیا۔ یہ صرف گوشت کا نقصان نہیں تھا بلکہ ہزاروں گھروں کی آمدنی کو ختم کرنے کی ایک چال تھی۔ *سیب کی صنعت کا بدحالی* اب ہماری سیب کی صنعت بھی اسی سازش کا شکار ہے۔ جو سیب دنیا بھر میں اپنی لذت اور خوشبو کے لیے مشہور ہے، اسے ٹرانسپورٹ میں رکاوٹوں اور دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ بیرون ملک سے خراب کوالٹی کے سیب مارکیٹ میں لائے گئے، جس نے ہماری مقامی فصل کو نقصان پہنچایا ہے۔ کسانوں کی محنت بے کار ہو رہی ہے اور ان کے چہروں پر وہ خوشی نظر نہیں آتی جو کبھی فصل کی اچھی پیداوار سے ملتی تھی۔ یہ واقعات صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ کشمیر کے لوگوں کی خود اعتمادی اور جدوجہد کی شکست ہے، لیکن ہمت ابھی باقی ہے، ہمیں اپنی معیشت کی حفاظت کے لیے متحد ہونا ہوگا اور ان سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ کشمیر کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ قوم کبھی ہار نہیں مانتی۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! *عزیز بھائیوں اور بہنوں* ! آج ہم سب ہندوستان، پاکستان، افغانستان اور خاص کر ہمارے اپنے جموں و کشمیر میں آنے والی قدرتی آفات کو دیکھ رہے ہیں۔ شدید بارشیں، خوفناک لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب... کیا یہ سب محض ایک قدرتی عمل ہے یا اس میں ہمارے لیے کوئی گہرا پیغام چھپا ہے؟
*اللہ کا الارم، ہمارے لیے ایک تنبیہ!* قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب انسان اللہ کے راستے سے بھٹک جاتا ہے، گناہوں اور نافرمانیوں میں ڈوب جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ مختلف مصیبتوں اور آزمائشوں کے ذریعے اپنے بندوں کو جھنجھوڑتا ہے تاکہ وہ ہوش میں آئیں اور اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔ یہ آفات کوئی محض اتفاق نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ایک الارم ہیں! قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ (سورۃ الشوریٰ، آیت 30) ترجمہ: ”اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے، اور وہ بہت سے گناہوں کو معاف بھی کر دیتا ہے۔“ یہ آیت ہمیں صاف صاف بتاتی ہے کہ آج ہم جن مصیبتوں سے گزر رہے ہیں، وہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ہماری غفلت، بے حیائی، جھوٹ، ظلم اور اللہ کے احکامات سے دوری نے زمین پر فساد پیدا کر دیا ہے۔ *اللہ کا غضب یا رحمت؟* ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ (سورۃ الروم، آیت 41) ترجمہ: ”خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے فساد پھیل گیا، تاکہ اللہ انہیں ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ (گناہوں سے) باز آ جائیں۔“ یہ مصیبتیں ہمارے لیے ایک موقع ہیں کہ ہم اپنی زندگیوں پر غور کریں۔ کیا ہم آج بھی اسی طرح غفلت کی نیند سوتے رہیں گے؟ یا ہم اپنے رب کی طرف رجوع کریں گے؟ یہ آفات دراصل اللہ کی طرف سے ایک پکار ہیں: "اے میرے بندو! واپس آ جاؤ، توبہ کر لو!" *آؤ! اللہ کی طرف رجوع کریں* یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کریں اور توبہ و استغفار کریں۔ ان مصیبتوں کو صرف اللہ کا غضب سمجھ کر خوفزدہ نہ ہوں، بلکہ اسے ایک موقع سمجھیں اپنی زندگی کو بدلنے کا۔ آئیے، آج سے ہی ہم سب یہ عہد کریں: * گناہوں سے سچی توبہ کریں: تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معافی مانگیں اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کریں۔ * نماز کو قائم کریں: اپنی نمازوں کو وقت پر ادا کریں۔ * نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں: لوگوں کی مدد کریں اور معاشرے میں بھلائی پھیلائیں۔ * قرآن کو سمجھ کر پڑھیں: قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ہم سب مل کر اپنے رب کی ناراضگی سے بچ سکیں۔ اللہ ہمیں صحیح راستہ دکھائے اور اپنی رحمت سے نوازے۔ آمین!
*محمد اسداللہ خان رحیمی* _مدرس دارالعلوم محمودیہ مینڈھر_
میرے پہلے والے مضمون کے جواب میں ایک مضمون آیا ، یہ اُسکا جواب ہے 🖍️میلاد مصطفیٰ ﷺ کا جواز اور اس کی حقیقت پر ایک تنقیدی جائزہ
آپ نے جو نکات پیش کیے ہیں، ان کا جائزہ ایک ایک کر کے لیا جائے تو حقیقت واضح ہو جائے گی۔ 1. محبت رسول ﷺ کا اظہار اور "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ" کی حقیقت یہ بات بالکل صحیح ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کے کئی انداز ہیں، اور امت اپنے آقا ﷺ کے ذکر کو بلند کرے یہ ایک جائز اور مبارک عمل ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ طریقہ شریعت کے حدود میں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے ذکر کو بلند فرمایا، یہ ایک الٰہی فعل ہے، جو کسی بھی انسانی عمل سے بالا ہے۔ اللہ نے نبی ﷺ کے ذکر کو قرآن میں، اذان میں، نماز میں، اور ہر جگہ بلند کیا، اور یہی ذکر بلند کرنے کا صحیح طریقہ ہے جو شریعت نے ہمیں سکھایا ہے۔ لیکن میلاد کے نام پر ایک مخصوص دن کو جمع ہونا، نعتیں پڑھنا اور سیرت بیان کرنا بذاتِ خود ایک ایسا عمل ہے جو نہ نبی ﷺ سے ثابت ہے، نہ صحابہ کرام سے، اور نہ ہی تابعین سے۔ اگر یہ عمل اتنا اہم ہوتا تو نبی ﷺ خود اپنی حیاتِ مبارکہ میں صحابہ کو اس کی تعلیم دیتے۔
2. "بدعت حسنہ" اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول "نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ" کو بدعتِ حسنہ کے جواز کے لیے پیش کیا ہے۔ یہ ایک گمراہ کن دلیل ہے، حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس کام کے لیے یہ الفاظ استعمال فرمائے تھے وہ کوئی بدعت نہیں تھے، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازِ تراویح باجماعت پڑھانا ثابت تھا، لیکن آپ نے امت پر فرض ہو جانے کے اندیشے سے اس پر ہمیشہ عمل نہیں فرمایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی خواہش کے مطابق اسی ثابت شدہ عمل کو باقاعدہ ایک امام کے پیچھے جاری کر دیا، لہٰذا یہ پہلے سے ثابت شدہ حکم کا احیاء تھا، کوئی نئی چیز دین میں شامل کرنا نہیں تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عمل کو لغوی معنی میں "بدعت" کہا ہے ، نیز یہ قول ایسی شخصیت کا ہے جس نے اِس احیاءِ سنت (تراویح میں لوگوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کرنا) کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے لغوی طور پر فرمایا تھا جس کے اپنے عمل کو بھی خود نبی ﷺ نے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے: "عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ" (میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو)۔ لہٰذا اپنے اس بدعت والے عمل کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے جوڑ کر جواز حاصل کرنے کی کوشش کرنا روا نہیں ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل مبارک کو بدعت سے جوڑنا بہت بڑی جسارت اور گستاخی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے اُن کے عمل کو سُنت فرمایا ہے۔
3. میلاد کا تاریخی پس منظر اور "احداث للدین" اور "احداث فی الدین" کا فرق آپ نے قرآن کے جمع، نقطوں اور اعراب لگانے، اور مدارس و خانقاہوں کے قیام کا حوالہ دے کر میلاد کو جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہاں آپ نے ایک انتہائی بنیادی فرق کو نظر انداز کیا ہے، اور خیانت اور دھوکہ دہی سے کام لیا ہے، ایک ہوتا ہے "احداث للدین" اور ایک ہوتا ہے "احداث فی الدین"۔ * احداث للدین وہ کام ہیں جو دین کی خدمت اور حفاظت کے لیے کیے جاتے ہیں، جیسے قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں جمع کرنا، کیونکہ اس وقت حفاظ کرام شہید ہو رہے تھے۔ اسی طرح قرآن پر نقطے اور اعراب لگانا تاکہ غیر عرب لوگ صحیح پڑھ سکیں۔ مدارس کا قیام بھی دین کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ یہ تمام کام عبادت نہیں سمجھے جاتے اور نہ ہی ان کا انکار کرنے والوں کو برا کہا جاتا ہے۔ * احداث فی الدین وہ کام ہیں جو دین کا حصہ سمجھ کر اور اسے عبادت مان کر کیے جاتے ہیں، جن کا ثبوت قرآن و سنت سے نہیں ملتا۔ میلاد اسی احداث فی الدین کی قبیل سے تعلق رکھتا ہے، اس عمل کو کرنے والے اسے ایک لازمی دینی کام سمجھتے ہیں اور اس میں شامل نہ ہونے والوں کو "گستاخِ رسول" کہتے ہیں اور بدمذہب وغیرہ کے القاب سے نوازتے ہیں،اس لیے میلاد کو قرآن کے جمع یا مدارس کے قیام جیسے امور سے تشبیہ دینا سراسر گمراہ کن اور نا انصافی ہے۔
4. نبی ﷺ کا اپنی ولادت کا تذکرہ اور پیر کا روزہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیر کے دن روزہ رکھنا اور یہ فرمانا کہ "یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی" ایک عبادت ہے۔ نبی ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کو ایک عبادت یعنی روزے کے ساتھ جوڑا، نہ کہ کسی مخصوص جشن یا محفل کے ساتھ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس دن پر اظہارِ شکر کا سب سے بہترین طریقہ نبی ﷺ کا اختیار کردہ طریقہ یعنی روزہ ہے ، اس کے برخلاف میلاد منانے والے نبی ﷺ کی سنت سے ہٹ کر ایک ایسا طریقہ اختیار کرتے ہیں جو نبی ﷺ کے عمل کے خلاف ہے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اسی عمل کی توسیع ہے، یہ ایک ناقابلِ قبول دلیل ہے۔
5. صحابہ کرام کی محبت اور میلاد کا عمل یہ بات بالکل درست ہے کہ صحابہ کرام کو نبی ﷺ سے بے انتہا محبت تھی، وہ آپ کے پسینے اور بالوں کو بھی تبرک سمجھتے تھے، لیکن یہ محبت کا اظہار اس انداز میں تھا جو نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق تھا، ان میں سے کسی ایک بھی صحابی نے کبھی کوئی "میلاد کی محفل" منعقد نہیں کی، اگر اس میں کوئی خیر ہوتی تو نبی ﷺ کے سب سے زیادہ محبت کرنے والے صحابہ کرام ضرور اس پر عمل کرتے۔ آج اگر ہم نئی نسلوں کو سیرت سے جوڑنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے وہ طریقے اختیار کرنے ہوں گے جو نبی ﷺ اور صحابہ کرام نے اختیار کیے، نہ کہ نئے طریقے ایجاد کیے جائیں۔ سیرت کی مجالس، سیرت کا مطالعہ، اور نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل ہی حقیقی محبت ہے۔
6. میلاد کا مقصد اور فائدہ آپ نے فرمایا کہ میلاد کا مقصد محبتِ رسول کو تازہ کرنا ہے اور یہ کوئی نیا دین نہیں ہے، لیکن یہ بات سمجھنی چاہیے کہ دین میں کسی بھی نیک مقصد کے لیے کوئی نیا طریقہ ایجاد کرنا بدعت کہلاتا ہے، بدعت کی تعریف ہی یہی ہے کہ "جو کام دین سمجھ کر کیا جائے لیکن اس کا ثبوت شریعت سے نہ ملے"۔ ہم سب کا مقصد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ہے، لیکن یہ رضا صرف انہی طریقوں پر عمل کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں۔ نتیجہ میلاد منانا اگرچہ کچھ لوگوں کی نظر میں ایک جائز اور مبارک عمل ہے، لیکن شریعت کے اصولوں اور دلائل کی روشنی میں یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا ثبوت نبی ﷺ، صحابہ اور تابعین کے عمل سے نہیں ملتا، اس کو کسی بھی طرح سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے جوڑنا یا مدارس کے قیام جیسے امور سے تشبیہ دینا درست نہیں، ہمیں دین میں وہی کام کرنے چاہئیں جن کی ہمیں ہدایت دی گئی ہے۔ کسی بھی عمل کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، اگر اس کا طریقہ شریعت کے مطابق نہ ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
Karwan e Ahl e Sunnat 2021
*سوانح حیات: محبِ علم و عمل، مرحوم محمد شیر خان صاحب*
ابتدائی حالات اور شجرہ نسب
وادیِ اڑی کے پُر وقار فرزند اور علم و حکمت کے شیدائی، محمد شیر خان صاحب کی پیدائش تقسیمِ ہند سے قبل (تقریباً 1907ء کے آس پاس) اپنے آبائی گاؤں اڑی میں ہوئی تھی۔ آپ کا تعلق ایک معزز علمی و نسبی خاندان سے تھا، آپ کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے:
> محمد شیر خان بن میر محمد خان بن فیض طلب خان بن ہاشم علی خان بن کرم بخش خان بن شیرا خان۔
>
ابھی آپ کی عمر محض سات برس تھی کہ سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا۔ یتیمی کے کٹھن دور میں آپ کی دادی "بیگم بی" (جو اپنے وقت کی نہایت دانا اور صاحبِ بصیرت خاتون تھیں) نے آپ کی تربیت کی ذمہ داری سنبھالی۔
*تعلیمی سفر اور بچپن*
اس دور میں جب جہالت اور غربت کا دور دورہ تھا، آپ کی دادی نے آپ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے مقامِ ہرنی (موجودہ ہائیر سیکنڈری اسکول) کے پرائمری اسکول میں داخل کرایا، آپ نے اپنی ذہانت اور محنت سے بہت جلد اساتذہ کے دل جیت لیے اور پوری جماعت کے مانیٹر مقرر ہوئے۔ محض 10 سال کی عمر میں آپ نے پانچویں کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا، آپ کی خوش نویسی کا یہ عالم تھا کہ آپ کا اردو رسم الخط کسی کمپیوٹرائزڈ تحریر کی مانند خوبصورت اور دلکش تھا۔
*جوانی کا دور: ہمت اور استقامت کی مثال*
اسکول سے فراغت کے بعد معاشرتی حالات سازگار نہ تھے، اور کوئی دوسرا سربراہ نہ تھا جو آپ کی حوصلہ افزائی کرکے آپ کو مزید تعلیم جاری رکھنے کا کہتا،مگر آپ نے ہمت نہ ہاری، آپ کی ذہانت کی وجہ بڑے ساہو کار آپ کے مخالف ہوگئے اور آپ کے خلاف سازشیں کرنے لگے ،آپ نے نہ صرف مفسدین اور مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اللہ نے آپ کو مثالی جسمانی طاقت اور خوبصورتی سے بھی نوازا تھا، آپ اپنے دور کے نامور پہلوانوں کو پچھاڑنے کی سکت رکھتے تھے، جس کی وجہ سے بااثر لوگ بھی آپ کی ہیبت سے لرزتے تھے، تاہم اس طاقت کے باوجود آپ بچپن ہی سے نماز کے پابند اور نیک سیرت انسان تھے۔
*علمی و روحانی شغف*
آپ کی زندگی کا ایک روشن پہلو آپ کا علمی و دینی کتب مطالعہ تھا، آپ نے شرح مشکوٰۃ شریف مظاہر حق جیسی مستند دینی کتابوں کا خود مطالعہ کیا، آپ "علمِ ابجد" کے ماہر تھے اور وقت کے بڑے بڑے علماء کی محفلوں میں شریک ہونا سعادت سمجھتے تھے، دیوبندی مکتبہ فکر کے جید عالم مولانا عبد العزیز صاحب سے آپ کی گہری قربت تھی، یہاں تک کہ وہ ایک ماہ تک آپ کے گھر مقیم رہے اور آپ نے ان سے فیض حاصل کیا، روحانیت کے سفر میں آپ نے حضرت بابا صاحب لاڑوی کے فرزندِ ارجمند حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے ہاتھ پر بیعت کی اور طریقت کی راہ اختیار کی، زندگی کے آخری ایام تک آپ ورد و وظائف اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے۔
*محنت کشی اور ہنرمندی*
آپ ایک جفاکش کاشتکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کاریگر بھی تھے، اپنے مکان کی تعمیر کے لیے جنگل سے وزنی شہتیر خود لانا اور بڑھئی کے کام میں مہارت رکھنا آپ کا خاصہ تھا، آپ کے ہاتھوں کی تراشی ہوئی قرآن پاک کی رحلیں آج بھی آپ کی ہنرمندی کے ٹھوس ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔
*عائلی زندگی اور اولادِ صالح*
آپ نے یکے بعد دیگرے دو شادیاں کیں۔ پہلی اہلیہ سے آپ کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں، جن میں سے تین بیٹے اور ایک بیٹی بچپن ہی میں فوت ہو گئے، آپ کے بڑے صاحبزادے محمد افضل خان حیات ہیں، جن کی اولاد میں ماشاء اللہ تین بیٹے (محمد عبداللہ خان، عبدالسلام خان-ٹیچر، اور محمد اسد اللہ خان-حافظ، عالمِ فاضل اور مفتی) اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
مرحوم کی دوسری شادی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ بڑا صاحبزادے غلام سرور بچپن ہی میں دس سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ دوسرے صاحبزادے کا نام محمد اشرف خان ہے، جو پیدائشی طور پر قوتِ سماعت و گویائی سے محروم ہونے کے باوجود نہایت ہنرمند درزی، مستری اور مکینک ہیں، ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے جن میں سے ایک صاحبزادے طارق محمود خان دینی عالم اور مفتی ہیں جو تدریس اور امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
*وفات*
تقریباً 93 سال کی بھرپور زندگی گزارنے کے بعد، آپ 23 دسمبر 2000ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے، اللہ پاک اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین
6 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Karwan e Ahl e Sunnat 2021
عنوان: گفتگو کا قرآنی سلیقہ ✨
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ (سورۃ النحل: 125)
>
ترجمہ:
"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے، اور ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کیجیے جو سب سے بہتر ہو۔"
قرآن پاک کی یہ ایک آیت ہمیں دعوت اور مکالمے کے تین بڑے اصول سکھاتی ہے:
1️⃣ حکمت: دانائی کے ساتھ بات کرنا۔
2️⃣ بہترین نصیحت: دل کو چھو لینے والا انداز۔
3️⃣ بہترین بحث: اگر اختلاف ہو جائے تو بدتمیزی کے بجائے "احسن طریقے" (سب سے عمدہ اسلوب) سے بات کرنا۔
حاصلِ کلام: ہمارا مقصد حق سچ پہنچانا ہونا چاہیے، کسی کو نیچا دکھانا نہیں۔
#القرآن #ادب #حکمت #سوشل_میڈیا_اخلاقیات
9 months ago | [YT] | 1
View 1 reply
Karwan e Ahl e Sunnat 2021
*خلا سے لی گئی خانہ کعبہ کی دل چھو لینے والی تصویر کا سوشل میڈیا پر چرچہ*
مسلمانوں کے مقدس ترین مقام کی ایک تصویر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جارہی ہے، خانہ کعبہ اس کی دلکش تصویر کو خلا سے بنایا گیا ہے، اس تصویر میں مقدس مقام انتہائی روشن نقطے کی طرح نظر آرہا ہے، یہ تصویر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے تقریباً 400 کلومیٹر کی بلندی پر لی گئی۔
10 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Karwan e Ahl e Sunnat 2021
📜 *مناظرہ کی شرعی حیثیت اور موجودہ حالات* : *خاموشی نہیں، حق کا دفاع فرض* ہے ⚔️
اسلام خاموشی کا نہیں، حق کی وضاحت اور باطل کے رد کا دین ہے، جب اہلِ باطل اسلام یا اہلِ حق پر پروپیگنڈا کریں، الزام تراشیاں یا غلط عقائد عوام میں پھیلائیں تو قرآن و سنت یہ نہیں کہتے کہ چپ ہو کر دیکھتے رہو، بلکہ حکم دیتے ہیں کہ اَحسن انداز میں دلیل کے ساتھ جواب دو۔
قرآن میں انبیاء کے واقعات بار بار یہ سکھاتے ہیں کہ الزام کا جواب دینا کمزوری نہیں، انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوموں کو کہا: “لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ… لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ” — یعنی ہم گمراہ نہیں، بے وقوف نہیں، بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حق پر اگر اعتراض ہو تو وضاحت کرنا سنتِ انبیاء ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خود نبی کریم ﷺ کی طرف سے جھوٹے الزامات کا رد فرمایا: "مَا أَنْتَ بِمَجْنُون" "وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِر" یہ آیات اعلان کرتی ہیں کہ جب باطل فتنہ اٹھائے تو حق کی طرف سے جواب ضرور آتا ہے۔ قرآن کا حکم "وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ" (بہترین طریقے سے ان سے بحث و مباحثہ کرو) یہ واضح کرتا ہے کہ مکالمہ، گفتگو اور مناظرہ دین کا مشروع طریقہ ہے۔
سیرتِ طیبہ میں حضور ﷺ نے میڈیا کے اُس دور کے انداز "اشعار و خطبات" میں ہونے والے پروپیگنڈے کا جواب دینے کا حکم دیا ، جب ابو سفیان بن حارث نے اشعار میں گستاخی کی تو آپ ﷺ نے حضرت حسان بن ثابتؓ کو بلایا اور فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مدد لے کر " اُس کے اشعار کا جواب دو " یہ بتانے کے لیے کہ پروپیگنڈے کو پروپیگنڈے کے میدان میں ہی روکا جاتا ہے، صحابہؓ کرام بھی ضرورت کے وقت مناظرہ کرتے تھے، حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا خوارج کے ساتھ تاریخی مناظرہ پوری امت کے لیے دلیلِ روشن ہے، ائمہ و محدثین کا طریقہ بھی یہی تھا ، خطیب بغدادیؒ کہتے ہیں: "ہم نے ہر دور میں علماء کو مناظرہ کرتے اور حق واضح کرتے دیکھا ہے۔" اکابرِ دیوبند کی تاریخ بھی اسی پر قائم ہے ، انہوں نے اہلِ بدعت، قادیانیوں اور دیگر گمراہ فرقوں کے ساتھ بے شمار علمی مناظرے کیے،یاد رہے کہ خطہ پیر پنجال میں بھی خاص طور پر پونچھ سمیت دیگر علاقوں میں اہلِ بدعت اور قادیانیوں کے ساتھ کئی بار کامیاب مناظرے ہوئے، اور دارالعلوم دیوبند کے مناظرین کو خصوصی طور پر بلایا گیا ، یہ سب ثابت شدہ تاریخی حقائق ہیں۔
آج بعض لوگ نوجوان علماء کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کے لئے کہتے ہیں : "میڈیا پر کام کا فائدہ نہیں " لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں: " فلان شخص نے میڈیا کے ذریعے بہت سارے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے اور دیکھو کہ لوگ کتنے کنفیوز ہو رہے ہیں یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ سوشل میڈیا انتہائی مؤثر ہے،
اب اِس میڈیا کے ذریعے اگر گمراہی پھیل رہی ہے تو حق بھی اسی میڈیا سے دفاع چاہتا ہے، آج سوشل میڈیا میدانِ کار کا نیا رخ ہے، اسے چھوڑ دینا پسپائی ہے، حکمت نہیں، جب باطل اہلِ سنت پر الزامات لگائے، اکابر کی توہین کرے، عوام کو گمراہ کرے، اور کھلے عام مناظرے کے چیلنج دے، تو خاموش رہنا نہ حکمت ہے، نہ دین کی منشا۔
لہٰذا اس وقت ضرورت ہے کہ اہلِ حق آگے آئیں، مہذب اور علمی انداز میں جواب دیں، اور دفاعِ دین کے اس دور کے تقاضے پورے کریں۔ مناظرہ کمزوری نہیں یہ سنتِ انبیاء ، طریقۂ صحابہ، ائمہ اور اکابر کی روشن روایت ہے۔
*ابو الفضل رحیمی*
7 جمادی الاخری 1447ھ
#مناظرہ_کی_شرعی_حیثیت #دفاع_دین #حق_اور_باطل #رد_بدعات #علمی_مکالمہ #سوشل_میڈیا_جہاد #سنت_انبیاء #اہل_حق #علماء_اہل_سنت #فتنہ_عصر_حاضر #پونچھ_مناظرے
10 months ago (edited) | [YT] | 5
View 2 replies
Karwan e Ahl e Sunnat 2021
مفتی اسداللہ خان رحیمی: سوانحی خاکہ (مع اضافی تفصیلات)
نام: *محمد اسداللہ خان*
ولدیت: *محمد افضل خان*
تاریخ پیدائش: 1 جنوری 1985ء
پیدائشی مقام: محلہ منگرالاں، گاؤں: اڑی، تحصیل مینڈھر، ضلع پونچھ، جموں و کشمیر
*مفتی اسداللہ خان رحیمی* صاحب ایک جید عالم، کامیاب مدرس، اور مبلغ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی دین کی تعلیم اور خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔
*ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن*
آپ کی ابتدائی تعلیم کا آغاز چھ سال کی عمر میں ہوا، مزید تعلیم کے لیے گیارہ سال کی عمر میں آپ نے دارالعلوم محمودیہ مینڈھر میں داخلہ لیا، جہاں آٹھویں جماعت تک تعلیم مکمل کی، اس کے بعد آپ نے پونےتین سال کے قلیل عرصے میں حفظِ قرآن کریم کی سعادت حاصل کی۔
*دورہ حدیث اور درسی علوم*
حفظ کے بعد آپ نے مزید علوم کی تحصیل کے لیے گجرات کا رُخ کیا اور جامعہ رشیدیہ نانی نرولی سورت میں دَور، اردو، فارسی، اور عربی اول کی تعلیم تین سال میں مکمل کی،علم دین میں پختگی اور مزید اختصاص کے لیے، آپ نے شعبان 2004ء میں *دارالعلوم رحیمیہ* بانڈی پورہ خانقاہ محمودیہ کشمیر میں حاضری دی، یہیں پر آپ نے جامع شریعت و طریقت حضرت مولانا محمد رحمت اللہ میر القاسمی چشتی قادری سہروردی نقشبندی سے بیعت کی اور ان کی روحانی سرپرستی میں درسِ نظامی کی تعلیم مکمل کی اور اگست 2010ء میں دارالعلوم رحیمیہ سے فراغت حاصل کی۔
*تدریسی و عملی خدمات*
فراغت کے بعد دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ نے آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا اور آپ کو وہیں بطور استاذ مقرر کیا گیا، آپ نے 2014ء تک کامیابی کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دیں، اِس دوران دارالعلوم رحیمیہ کی مسجد میں امامت بھی کرتے رہے ،
اپنے پیر و مرشد حضرت مولانا محمد رحمت اللہ صاحب سے اجازت لینے کے بعد آپ اپنے آبائی علاقے مینڈھر واپس لوٹے، اور 2015ء سے تاحال آپ دارالعلوم محمودیہ مینڈھر ضلع پونچھ جموں و کشمیر میں علم کی شمع روشن کر رہے ہیں اور تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ مدرسہ کی مرکزی جامع مسجد انور مینڈھر میں وقتاً فوقتاً امامت و خطابت کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں، اور بوقت ضرورت آس پاس کی مساجد میں بھی جمعہ کے مواقع پر خطابت فرماتے ہیں۔
*عصری اور دینی اسناد*
مفتی اسداللہ خان رحیمی صاحب نے اپنی روایتی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو بھی اہمیت دی، آپ نے تدریس کے دوران ہی جامعہ اُردو دینیات دیوبند سے فاضل کی ڈگری حاصل کی اور پھر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد سے *ایم اے اسلامیات* کی تکمیل کی، اس کے علاوہ آپ نے تکمیل افتاء و قضاء (مفتی اور قاضی بننے) کی اسناد بھی حاصل کیں،جو آپ کی فقہی مہارت اور قانونی بصیرت کا ثبوت ہیں۔
مفتی صاحب نے نہ صرف تعلیم و تربیت کے میدان میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں بلکہ اپنی زندگی کو ایک مثالی عالم دین، مدرس اور مبلغ کے طور پر پیش کیا ہے۔
1 year ago | [YT] | 5
View 1 reply
Karwan e Ahl e Sunnat 2021
"*ہمارے دلوں میں ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی محبت*"
"I love Muhammad" یہ صرف ایک جملہ نہیں
بلکہ ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن ہے، یہ وہ محبت ہے جو ہمیں کائنات کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے، ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارے ایمان کا وہ حصہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، یہ محبت قرآن اور احادیث کی روشنی میں ہمارے ایمان کا کمال ہے۔
*محبت ایک فطری جذبہ ہے*
ایک مسلمان اپنی زندگی کے ہر لمحے میں نبی ﷺ کی سیرت کو مشعلِ راہ بناتا ہے، ان کی محبت صرف ایک جذباتی تعلق نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، یہ وہ محبت ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنے دین اور ایمان پر قائم ہیں، حال ہی میں "I love Muhammad" کے پوسٹر لگانے پر ملک عزیز میں جو کارروائیاں ہو رہی ہیں، وہ نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ ہمارے جمہوری آئین کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
*جمہوری حقوق کا تحفظ ضروری ہے*
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر کھل کر عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے، یہ ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ سے اپنی محبت کا اظہار کریں، اس محبت کا اظہار کرنے پر ایف آئی آر درج کرنا اور لوگوں کو گرفتار کرنا آزادی اظہار رائے اور مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ ہے،ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی محبت کے معاملے میں کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گے، یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے اور ہم اپنے ایمان پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتے، ہماری محبت نہ تو کسی کے لیے خطرہ ہے اور نہ ہی اس میں کوئی قانونی غلطی ہے، یہ خالصتاً ایک مذہبی اور ذاتی عقیدہ ہے۔
ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پرامن رہیں لیکن اپنے حق پر بھی قائم رہیں، محبت کے اس پیغام کو پھیلائیں اور دنیا کو بتائیں کہ ہمارے دل میں محمد ﷺ کی محبت زندہ ہے۔
#IloveMuhammad #محبت_رسول #ہمارا_ایمان #جمہوری_حقوق
محمد اسداللہ خان رحیمی
25ستمبر 2025ء
1 year ago | [YT] | 5
View 0 replies
Karwan e Ahl e Sunnat 2021
1 year ago | [YT] | 5
View 1 reply
Karwan e Ahl e Sunnat 2021
*کشمیر کی اقتصادی بنیادیں کھوکھلی ہو کر رہ گئی ہیں*
کشمیر میں کچھ عرصے سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض حالات کی خرابی نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا حملہ ہے۔ ہماری معیشت کو پے در پے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہماری روزی روٹی کے بڑے ذرائع ایک ایک کر کے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری وادی کی اقتصادی ریڑھ کی ہڈی کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔
*سیاحت کی خاموش موت*
پہلے جو سیاحت ہماری ویش کا فخر تھی، آج وہ صرف ایک افسوسناک یاد بن کر رہ گئی ہے۔ کبھی ڈل جھیل پر کشتیوں میں غیر ملکی سیاحوں کا چہچہانا اور بازاروں میں ان کی موجودگی کاروبار کی رونق بڑھاتی تھی۔ لیکن اب خوف اور غیر یقینی کی صورتحال نے ہماری مہمان نوازی کو خاموش کر دیا ہے۔ ہوٹل، گائیڈ، اور دستکاریوں کا کام کرنے والے لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں اور کشمیر کی سیاحت صرف تصویروں میں رہ گئی ہے۔
خوراک کے کاروبار پر سازش کا سایہ
اس کے بعد، گوشت کے کاروبار کو بدنام کیا گیا۔ یہ ایک سازش تھی جس میں مقامی حلال اور تازہ گوشت کو "غیر حلال" اور "ناقص" قرار دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے باہر سے سستا اور خراب معیار کا گوشت درآمد کیا گیا، جس سے ہمارے قصابوں اور تاجروں کا کاروبار مکمل طور پر بیٹھ گیا۔ یہ صرف گوشت کا نقصان نہیں تھا بلکہ ہزاروں گھروں کی آمدنی کو ختم کرنے کی ایک چال تھی۔
*سیب کی صنعت کا بدحالی*
اب ہماری سیب کی صنعت بھی اسی سازش کا شکار ہے۔ جو سیب دنیا بھر میں اپنی لذت اور خوشبو کے لیے مشہور ہے، اسے ٹرانسپورٹ میں رکاوٹوں اور دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ بیرون ملک سے خراب کوالٹی کے سیب مارکیٹ میں لائے گئے، جس نے ہماری مقامی فصل کو نقصان پہنچایا ہے۔ کسانوں کی محنت بے کار ہو رہی ہے اور ان کے چہروں پر وہ خوشی نظر نہیں آتی جو کبھی فصل کی اچھی پیداوار سے ملتی تھی۔
یہ واقعات صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ کشمیر کے لوگوں کی خود اعتمادی اور جدوجہد کی شکست ہے، لیکن ہمت ابھی باقی ہے، ہمیں اپنی معیشت کی حفاظت کے لیے متحد ہونا ہوگا اور ان سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ کشمیر کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ قوم کبھی ہار نہیں مانتی۔
ابو الفضل رحیمی
1 year ago | [YT] | 6
View 0 replies
Karwan e Ahl e Sunnat 2021
_موسمیاتی تبدیلیاں_
*اتفاق یا عذاب*
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
*عزیز بھائیوں اور بہنوں* !
آج ہم سب ہندوستان، پاکستان، افغانستان اور خاص کر ہمارے اپنے جموں و کشمیر میں آنے والی قدرتی آفات کو دیکھ رہے ہیں۔ شدید بارشیں، خوفناک لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب... کیا یہ سب محض ایک قدرتی عمل ہے یا اس میں ہمارے لیے کوئی گہرا پیغام چھپا ہے؟
*اللہ کا الارم، ہمارے لیے ایک تنبیہ!*
قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب انسان اللہ کے راستے سے بھٹک جاتا ہے، گناہوں اور نافرمانیوں میں ڈوب جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ مختلف مصیبتوں اور آزمائشوں کے ذریعے اپنے بندوں کو جھنجھوڑتا ہے تاکہ وہ ہوش میں آئیں اور اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔ یہ آفات کوئی محض اتفاق نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ایک الارم ہیں!
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ
(سورۃ الشوریٰ، آیت 30)
ترجمہ: ”اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے، اور وہ بہت سے گناہوں کو معاف بھی کر دیتا ہے۔“
یہ آیت ہمیں صاف صاف بتاتی ہے کہ آج ہم جن مصیبتوں سے گزر رہے ہیں، وہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ہماری غفلت، بے حیائی، جھوٹ، ظلم اور اللہ کے احکامات سے دوری نے زمین پر فساد پیدا کر دیا ہے۔
*اللہ کا غضب یا رحمت؟*
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ
(سورۃ الروم، آیت 41)
ترجمہ: ”خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے فساد پھیل گیا، تاکہ اللہ انہیں ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ (گناہوں سے) باز آ جائیں۔“
یہ مصیبتیں ہمارے لیے ایک موقع ہیں کہ ہم اپنی زندگیوں پر غور کریں۔ کیا ہم آج بھی اسی طرح غفلت کی نیند سوتے رہیں گے؟ یا ہم اپنے رب کی طرف رجوع کریں گے؟
یہ آفات دراصل اللہ کی طرف سے ایک پکار ہیں: "اے میرے بندو! واپس آ جاؤ، توبہ کر لو!"
*آؤ! اللہ کی طرف رجوع کریں*
یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کریں اور توبہ و استغفار کریں۔ ان مصیبتوں کو صرف اللہ کا غضب سمجھ کر خوفزدہ نہ ہوں، بلکہ اسے ایک موقع سمجھیں اپنی زندگی کو بدلنے کا۔
آئیے، آج سے ہی ہم سب یہ عہد کریں:
* گناہوں سے سچی توبہ کریں: تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معافی مانگیں اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کریں۔
* نماز کو قائم کریں: اپنی نمازوں کو وقت پر ادا کریں۔
* نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں: لوگوں کی مدد کریں اور معاشرے میں بھلائی پھیلائیں۔
* قرآن کو سمجھ کر پڑھیں: قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ہم سب مل کر اپنے رب کی ناراضگی سے بچ سکیں۔
اللہ ہمیں صحیح راستہ دکھائے اور اپنی رحمت سے نوازے۔ آمین!
*محمد اسداللہ خان رحیمی*
_مدرس دارالعلوم محمودیہ مینڈھر_
15 ستمبر 2025ء
1 year ago | [YT] | 4
View 1 reply
Karwan e Ahl e Sunnat 2021
میرے پہلے والے مضمون کے جواب میں ایک مضمون آیا ، یہ اُسکا جواب ہے
🖍️میلاد مصطفیٰ ﷺ کا جواز اور اس کی حقیقت پر ایک تنقیدی جائزہ
آپ نے جو نکات پیش کیے ہیں، ان کا جائزہ ایک ایک کر کے لیا جائے تو حقیقت واضح ہو جائے گی۔
1. محبت رسول ﷺ کا اظہار اور "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ" کی حقیقت
یہ بات بالکل صحیح ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کے کئی انداز ہیں، اور امت اپنے آقا ﷺ کے ذکر کو بلند کرے یہ ایک جائز اور مبارک عمل ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ طریقہ شریعت کے حدود میں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے ذکر کو بلند فرمایا، یہ ایک الٰہی فعل ہے، جو کسی بھی انسانی عمل سے بالا ہے۔ اللہ نے نبی ﷺ کے ذکر کو قرآن میں، اذان میں، نماز میں، اور ہر جگہ بلند کیا، اور یہی ذکر بلند کرنے کا صحیح طریقہ ہے جو شریعت نے ہمیں سکھایا ہے۔
لیکن میلاد کے نام پر ایک مخصوص دن کو جمع ہونا، نعتیں پڑھنا اور سیرت بیان کرنا بذاتِ خود ایک ایسا عمل ہے جو نہ نبی ﷺ سے ثابت ہے، نہ صحابہ کرام سے، اور نہ ہی تابعین سے۔ اگر یہ عمل اتنا اہم ہوتا تو نبی ﷺ خود اپنی حیاتِ مبارکہ میں صحابہ کو اس کی تعلیم دیتے۔
2. "بدعت حسنہ" اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول
آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول "نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ" کو بدعتِ حسنہ کے جواز کے لیے پیش کیا ہے۔ یہ ایک گمراہ کن دلیل ہے،
حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس کام کے لیے یہ الفاظ استعمال فرمائے تھے وہ کوئی بدعت نہیں تھے، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازِ تراویح باجماعت پڑھانا ثابت تھا، لیکن آپ نے امت پر فرض ہو جانے کے اندیشے سے اس پر ہمیشہ عمل نہیں فرمایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی خواہش کے مطابق اسی ثابت شدہ عمل کو باقاعدہ ایک امام کے پیچھے جاری کر دیا، لہٰذا یہ پہلے سے ثابت شدہ حکم کا احیاء تھا، کوئی نئی چیز دین میں شامل کرنا نہیں تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عمل کو لغوی معنی میں "بدعت" کہا ہے ، نیز یہ قول ایسی شخصیت کا ہے جس نے اِس احیاءِ سنت (تراویح میں لوگوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کرنا) کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے لغوی طور پر فرمایا تھا جس کے اپنے عمل کو بھی خود نبی ﷺ نے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے: "عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ" (میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو)۔
لہٰذا اپنے اس بدعت والے عمل کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے جوڑ کر جواز حاصل کرنے کی کوشش کرنا روا نہیں ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل مبارک کو بدعت سے جوڑنا بہت بڑی جسارت اور گستاخی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے اُن کے عمل کو سُنت فرمایا ہے۔
3. میلاد کا تاریخی پس منظر اور "احداث للدین" اور "احداث فی الدین" کا فرق
آپ نے قرآن کے جمع، نقطوں اور اعراب لگانے، اور مدارس و خانقاہوں کے قیام کا حوالہ دے کر میلاد کو جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہاں آپ نے ایک انتہائی بنیادی فرق کو نظر انداز کیا ہے، اور خیانت اور دھوکہ دہی سے کام لیا ہے،
ایک ہوتا ہے "احداث للدین" اور ایک ہوتا ہے "احداث فی الدین"۔
* احداث للدین وہ کام ہیں جو دین کی خدمت اور حفاظت کے لیے کیے جاتے ہیں، جیسے قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں جمع کرنا، کیونکہ اس وقت حفاظ کرام شہید ہو رہے تھے۔ اسی طرح قرآن پر نقطے اور اعراب لگانا تاکہ غیر عرب لوگ صحیح پڑھ سکیں۔ مدارس کا قیام بھی دین کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ یہ تمام کام عبادت نہیں سمجھے جاتے اور نہ ہی ان کا انکار کرنے والوں کو برا کہا جاتا ہے۔
* احداث فی الدین وہ کام ہیں جو دین کا حصہ سمجھ کر اور اسے عبادت مان کر کیے جاتے ہیں، جن کا ثبوت قرآن و سنت سے نہیں ملتا۔ میلاد اسی احداث فی الدین کی قبیل سے تعلق رکھتا ہے، اس عمل کو کرنے والے اسے ایک لازمی دینی کام سمجھتے ہیں اور اس میں شامل نہ ہونے والوں کو "گستاخِ رسول" کہتے ہیں اور بدمذہب وغیرہ کے القاب سے نوازتے ہیں،اس لیے میلاد کو قرآن کے جمع یا مدارس کے قیام جیسے امور سے تشبیہ دینا سراسر گمراہ کن اور نا انصافی ہے۔
4. نبی ﷺ کا اپنی ولادت کا تذکرہ اور پیر کا روزہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیر کے دن روزہ رکھنا اور یہ فرمانا کہ "یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی" ایک عبادت ہے۔ نبی ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کو ایک عبادت یعنی روزے کے ساتھ جوڑا، نہ کہ کسی مخصوص جشن یا محفل کے ساتھ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس دن پر اظہارِ شکر کا سب سے بہترین طریقہ نبی ﷺ کا اختیار کردہ طریقہ یعنی روزہ ہے ، اس کے برخلاف میلاد منانے والے نبی ﷺ کی سنت سے ہٹ کر ایک ایسا طریقہ اختیار کرتے ہیں جو نبی ﷺ کے عمل کے خلاف ہے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اسی عمل کی توسیع ہے، یہ ایک ناقابلِ قبول دلیل ہے۔
5. صحابہ کرام کی محبت اور میلاد کا عمل
یہ بات بالکل درست ہے کہ صحابہ کرام کو نبی ﷺ سے بے انتہا محبت تھی، وہ آپ کے پسینے اور بالوں کو بھی تبرک سمجھتے تھے، لیکن یہ محبت کا اظہار اس انداز میں تھا جو نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق تھا، ان میں سے کسی ایک بھی صحابی نے کبھی کوئی "میلاد کی محفل" منعقد نہیں کی، اگر اس میں کوئی خیر ہوتی تو نبی ﷺ کے سب سے زیادہ محبت کرنے والے صحابہ کرام ضرور اس پر عمل کرتے۔
آج اگر ہم نئی نسلوں کو سیرت سے جوڑنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے وہ طریقے اختیار کرنے ہوں گے جو نبی ﷺ اور صحابہ کرام نے اختیار کیے، نہ کہ نئے طریقے ایجاد کیے جائیں۔ سیرت کی مجالس، سیرت کا مطالعہ، اور نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل ہی حقیقی محبت ہے۔
6. میلاد کا مقصد اور فائدہ
آپ نے فرمایا کہ میلاد کا مقصد محبتِ رسول کو تازہ کرنا ہے اور یہ کوئی نیا دین نہیں ہے، لیکن یہ بات سمجھنی چاہیے کہ دین میں کسی بھی نیک مقصد کے لیے کوئی نیا طریقہ ایجاد کرنا بدعت کہلاتا ہے، بدعت کی تعریف ہی یہی ہے کہ "جو کام دین سمجھ کر کیا جائے لیکن اس کا ثبوت شریعت سے نہ ملے"۔
ہم سب کا مقصد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ہے، لیکن یہ رضا صرف انہی طریقوں پر عمل کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں۔
نتیجہ
میلاد منانا اگرچہ کچھ لوگوں کی نظر میں ایک جائز اور مبارک عمل ہے، لیکن شریعت کے اصولوں اور دلائل کی روشنی میں یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا ثبوت نبی ﷺ، صحابہ اور تابعین کے عمل سے نہیں ملتا، اس کو کسی بھی طرح سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے جوڑنا یا مدارس کے قیام جیسے امور سے تشبیہ دینا درست نہیں، ہمیں دین میں وہی کام کرنے چاہئیں جن کی ہمیں ہدایت دی گئی ہے۔ کسی بھی عمل کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، اگر اس کا طریقہ شریعت کے مطابق نہ ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
محمد اسداللہ خان رحیمی
3 ستمبر 2025ء
1 year ago | [YT] | 5
View 2 replies
Load more