Welcome to the official YouTube channel of Writer Umme Hania, a place where stories breathe life, emotions speak louder than words, and every episode takes you on a journey you’ll never forget.
This is not just a reading channel — it's a personal diary of imagination, where the writer Umme Hania shares her original Urdu novels,
📚 Self-written Urdu fiction
💫 Emotional, spiritual & meaningful storytelling
🖊️ Characters that inspire, challenge, and reflect reality
🌸 Peaceful screen reading experience — no background music
📖 Stories that blend love, purpose, struggles & hope
🌙 A voice for truth, identity, and healing through fiction
🔔 Don’t forget to Subscribe, Like, and Share to support original Urdu writing
#UrduWriter #EmotionalStories #IslamicFiction #PeacefulReading #ScreenReading #NoVoiceover #SelfWritten #SpiritualJourney #HeartTouchingTales #UrduLiterature #PakistaniFiction
#motivationalnovels #Urdunovels #romanticnovels
For further quries Email address
crana757@gmail.com
Writer Umme Hania
زوہان کی گاڑی آگے بڑھ گئی تو اینجل لائبریری کے اندر جانے کے لئے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔ ابھی چند قدم آگے ہی بڑھی تھی جب اسے یکدم احساس ہوا کے وہ گویا کسی کی نگاہوں کے حصار میں ہے۔۔۔ یہ احساس اسقدر طاقتور تھا کے وہ جی جان سے لرز کر رہ گئ
اسنے گھبراتے ہوئے پلٹ کر پیچھے دیکھا۔۔۔ دائیں پھر بائیں۔۔۔
زوہان کی گاڑی آنکھوں سے اوجھل ہو چکی تھی
وہاں معمول کی زندگی رواں دواں تھیں۔۔ ایک جانب چند زیروکس کی شاپس تھیں جہاں لوگ آ جا رہے تھے۔۔
پاس ہی بننے چنے اور کھانے پینے کے چند سٹال لگے تھے۔۔۔
وہ گھبراتے ہوئے شش و پنج میں مبتلا سیڑھیاں چڑھ کر لائبریری آگئ۔۔۔
https://youtu.be/vL_iNai-aSM
2 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
Writer Umme Hania
میسج پڑھتے ہی نور کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔۔ وہ کیسے جانتا تھا اسکی پرسنل لائف کے بارے میں اتنا۔۔۔ اسنے تو کبھی اپنی پرسنل لائف کو پروفیشنل لائف سے مکس نہیں کیا تھا۔۔۔ ہمیشہ سب سے اپنا آپ تک چھپا کر رکھا تھا پھر یہ کیسے۔۔۔ گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔ اسے پہلے مرتبہ اس شخص سے خوف محسوس ہوا۔۔۔
آپکو میری پرسنل لائف میں دخل اندازی کرنے کی اجازت کس نے دی سر۔۔۔ میں آپکی بہت عزت کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ آپ دوبارہ کچھ ایسا نہیں کہیں گے کہ میں غصے میں بھی آپ سے بدتمیزی کر جاوں۔۔۔ اپنے خوف پر قابو پاتے نور نے سختی سے کہتے حد بندی متعین کرنی چاہی۔۔۔
دریاب اسکا میسج پڑھتا مسلسل مسکرا رہا تھا۔۔۔
ہالہ یار میں نے ایسا کیا کہہ دیا جس سے تم غصہ ہو رہی ہو۔۔۔ میں تو محض سچ بتا رہا تھا۔۔۔ یہ تو تم بھی جانتی ہو نا کہ سچ ہے ۔۔۔ تمہارے شوہر کو تم میں رتی برابر دلچسپی نہیں۔۔۔ اس میں اب میرا کیا قصور ۔۔۔ میں تو تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ ساتھ بےچارگی بھرے کئ ایموجیز تھے۔۔۔
سر آپکو کیا ہو گیا ہے۔۔ آپ ایسے تو نا تھے۔۔۔ یقین مانے میں اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہوں میری دنیا انہیں سے شروع ہو کر انہیں پر ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ میں دریاب کے ساتھ بہت خوش ہوں۔۔۔ ہونٹ چباتے اسنے بے بسی سے میسج ٹائپ کیا ۔۔۔ وہ بات بڑھانا نہیں چاہتی تھی اخر اس شخص کے ساتھ اسنے دو سال کام کیا تھا ۔۔۔ بہت اچھی انڈرسٹینڈنگ رہی تھی ان میں۔۔ وہ جانتی تھی کہ اگر معاملہ فہمی سے کام لیتی تو بات یہی ختم ہو جاتی۔۔۔ اسکے ڈیسنٹ سے سر اسکی بات سمجھتے۔۔۔
اسکی آنکھوں میں چمکتے آنسو اور اسکی بے بسی دیکھتے دریاب تڑپ کر رہ گیا۔۔۔
ہولڈ آن ہالہ۔۔ میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا بالکل نہیں تھا۔۔ پلیز ریلیکس ہو جاو۔۔۔ اگر تم اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہو تو میں تمہاری زندگی میں کبھی دخل اندازی نہیں کروں گا۔۔۔ ہم اچھے دوست تھے اور رہیں گے۔۔۔ مگر وہ شخص واقعی تمہارے قابل نہیں۔۔۔ نور کی حالت دیکھتے اسنے بعجلت میسج ٹائپ کیا۔۔۔
میسج پڑھ کر نور کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ڈوری اسنے مسکراتے ہوئے گالوں پر بہتے آنسو صاف کئے۔۔۔ تھینکیو سر۔۔۔ آپ بہت اچھے ہیں ۔۔ میں جانتی تھی کہ آپ میری بات سمجھیں گے۔۔ لیکن پلیز میرے شوہر کے بارے میں کچھ مت کہیں میں انکے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتی۔۔وہ کتنے اچھے ہیں یہ صرف میں جانتی ہوں اور یہ مجھے کسی دوسرے پر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔
وہ بتا نہیں سکتا تھا کہ ہالہ کی یہ باتیں کس طرح سے اسکے دل پر ٹھنڈی میٹھی پھوار کا کام کر رہی تھیں۔۔۔
کیا اتنی محبت کرتی ہو اس سے کہ باوجود اسکی بے وفائی کے تم اسکے خلاف بات نہیں سن سکتی۔۔۔ ناجانے دل کو اس سے کیسا اعتراف سن کر سکون ملنا تھا جو وہ اس سے پوچھ بیٹھا۔۔۔
وہ میری زندگی میں آنے والا پہلا مرد ہے سر اور آخری بھی۔۔۔ نا ان سے پہلے میری زندگی میں کوئی تھا اور نا انکے بعد کسی کی گنجائش ہے۔۔۔ اور وہ بے وفا نہیں ہیں سر۔۔۔ وہ بہت اچھے ہیں۔۔۔ بہت بہت اچھے۔۔۔ اتنے اچھے کہ ان جیسا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ میسج ٹائپ کرتے اسکے چہرے پر ایک الوہی چمک تھی۔۔۔ دریاب کئ لمحوں تک میسج پڑھ کر آنکھیں بند کرتا ان الفاظوں کو محسوس کرتا رہا ۔۔۔ وہ خود کو ہواوں میں اڑتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔ چاہا جانا کس قدر خوبصورت احساس تھا۔۔۔
اگر اسنے اپنی کولیگ سے شادی کر کے تمہیں چھوڑ دیا تو۔۔۔ کچھ سوچتے اسنے پھر سے ٹائپ کیا۔۔۔
وہ یہ میسج پڑھ کر یکدم خاموش ہوگئ تھی۔۔۔ بالکل گم صم ۔۔۔ یہ وہ مقام تھا جہاں آکر وہ بے بس ہو جاتی تھی۔۔ اور اب تو وہ یہ اختیار بھی زہرا بیگم کو دے چکی تھی کہ وہ صحتیاب ہو کر اسکے لئے جو فیصلہ لیں گی اسے منظور ہو گا۔۔۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی گال پر پھسلا۔۔
بد دعا دے رہے ہیں مجھے۔۔۔
نور کے چہرے ہر اذیت دیکھتا وہ تڑپ اٹھا۔۔ مانا کہ تمہیں پانا چاہتا ہوں مگر اس کے لئے میں تمہیں کبھی تمہارے گھر اجڑنے کی بددعا نہیں دے سکتا۔۔ بے چین ہوتے اسنے بعجلت ٹائپ کیا۔۔
تو پھر دعا کریں سر کہ ایسا کچھ نا ہو کیونکہ اگر ایسا ہوا تو میں مر جاوں گی۔۔۔ دریاب کے بنا تو زندگی کا تصور بھی محال ہے۔۔۔
آنسو پھسل پھسل کر اسکے چہرے پر گر رہے تھے۔۔۔ دریاب نے لب بھینچتے یہ منظر دیکھا۔۔۔ دل چاہا کہ بھاگ کر جائے اور اس جان جہاں کو سینے میں چھپا لے۔۔۔
محبت اتنی اور اعتبار زرا سا بھی نہیں۔۔ سنجیدگی سے اگلا میسج ٹائپ کیا۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے سر۔۔۔ مجھے ان پر خود سے زیادہ یقین ہے۔۔ مگر میں خود چاہتی ہوں کہ انہیں انکی حقیقی خوشیاں ملیں جس کے وہ حقدار ہیں۔۔۔ اگر انکی خوشی انکی کولیگ سے وابسطہ ہے تو انہیں اپنی کولیگ سے شادی ضرور کرنی چاہیے چاہے پھر یہ سب برداشت کرنا میرے لئے جتنا بھی محال ہو۔۔ انکی خوشی میں ہی میری خوشی یے۔۔۔
دریاب کئ پلوں تک ہل نہیں پایا تھا اس جواب پر۔۔۔ اندر سینے میں ڈھرکتا دل شور مچا اٹھا تھا۔۔۔ آنکھیں نم ہو اٹھیں تھیں۔۔۔ کیا کوئی کسی سے اتنی محبت بھی کر سکتا ہے۔۔۔
آپ دریاب کو کیسے جانتے ہیں سر۔۔۔ اگلے میسج کی بپ پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا۔۔۔ میسج پڑھ کر ایک مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر رینگی۔۔۔ جذبات مین بہہ کر وہ یہ تو بھول ہی گیا کہ وہ تو نورِہالہ کو تنگ کر رہا تھا۔۔۔ مسکراہٹ لبوں میں دابے اسنے اگلا میسج ٹائپ کیا۔۔۔
بالکل ایسے ہی جیسے میں یہ جانتا ہوں کہ آج پرپل کلر تم پر بہت سوٹ کر رہا ہے۔۔۔
میسج پڑھتے ہی نور کی آنکھیں پھٹ پڑیں۔۔۔ یا خدا۔۔۔ یہ انسان ہیں یا جن۔۔۔ بے ساختہ اسنے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا ساتھ ہی وہ آف لائن ہو گئ۔۔۔ اسے دیکھتا دریاب پیٹ ہر ہاتھ رکھے ہس ہس کر دہرا ہو گیا۔۔۔۔
ہواس باختہ سی نور موبائل کو زور سے ہاتھ میں بھینچے بھاگتی ہوئی کچن سے باہر نکلی۔۔۔
کیا ہوا نور سب ٹھیک ہے۔۔۔ کوئی پریشانی تو نہیں۔۔ نور لاوئنج سے بھاگ کر گزرتی اپنے کمرے کیطرف جا رہی تھی جب دریاب کی آواز نے اسکے قدم زنجیر کئے۔۔۔ وہ خود کو کمپوز کرتی واپس پلٹی۔۔۔ کک کوئی پریشانی نہیں۔۔۔ اسنے پھولے سانس کو سمبھالتے مسکرا کر کہتے اسکی تسلی کروانا چاہی مگر آواز لڑکھڑا کر رہ گئ۔۔۔
پھر اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو۔۔۔ دریاب نے چمکتی نگاہوں سے حیران ہوتے استفسار کیا۔۔ پر۔۔پریشان۔۔۔ نہیں تو۔۔۔ آپکی طبیعت اب کیسی ہے۔۔۔ مسکرا کر اپنی ہواس باختگی پر قابو پاتی وہ بات بدل گئ۔۔۔
ہمم۔۔ کافی بہتر ہے۔۔ میں آنٹی کو دیکھنے جا رہی تھی۔۔۔ کہتی ہی وہ واپس پلٹی اور بھاگتی ہوئی جھٹ سے کمرے میں گم ہو گئ۔۔۔
دریاب مسکراتا ہوا صوفے پر بیٹھا۔۔ جس دن تمہیں پتہ چلا نا کہ تمہیں تنگ کرنے والا میں ہی تھا اس دن مجھے کچا چبا جانا ہے تم نے۔۔۔
Complete Novel 🖇️ available here 👇
youtube.com/playlist?list=PLv...
2 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
Writer Umme Hania
✨ Episode Update ✨
The episode is complete, but unfortunately, due to a viral infection (fever & flu), the editing has been delayed.
In Sha Allah, I’m hoping to have it uploaded very soon. 🤍
Thank you for your patience and understanding. 🌸
3 days ago | [YT] | 12
View 2 replies
Writer Umme Hania
✨ AI turns this sneak peek into a beautiful cinematic video! 🎬
A little glimpse of the upcoming episode, brought to life with AI.
Watch it and share your honest review — how did you like this AI version of the sneak peek? 🤍
Your feedback means a lot! ✨
https://youtu.be/J-TEllqrqfc
5 days ago | [YT] | 3
View 1 reply
Writer Umme Hania
https://youtu.be/nQ82J3VgZTc
6 days ago | [YT] | 0
View 1 reply
Writer Umme Hania
وھاٹ ممی۔۔۔ گھر۔۔۔
بھلا اسے گھر لیجانے کی کیا تک بنتی ہے۔۔۔
زوہان ہسپتال کی لابی میں کھڑا تھا جب ایمان کی بات سن کر اسے ہسپتال کی چھت اپنے سر پر گرتی محسوس ہوئی۔۔۔
کیا مطلب ہے اس بات کا زونی وہ۔۔۔
ممی وہ اچھا خاصا ہاسٹل میں رہ رہی ہے۔۔ سب ٹھیک چل رہا ہے آپ کیوں خوامخواہ میں بات کو مزید الجھا رہی ہیں۔۔۔
ہم اسے گھر کیسے لیجا سکتے ہیں۔۔ مطلب کیسے۔۔۔
https://youtu.be/-rRxtUg28r4?si=Ristb...
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Writer Umme Hania
خان کل صبح کی میٹنگ میں یہ پڑاجیکٹ ہر حال میں فائنل ہو جانا چاہیے اور ہاں۔۔۔ وہ اس سے بات کرتا لاوئنج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا جب تیزی سے قدم اٹھاتا اچانک کسی نازک اندام شخصیت سے ٹکرا گیا۔۔۔
میرال جو ابھی ابھی واش روم سے نکلی اوپر جانے والی تھی اس اچانک زبردست قسم کے تصادم پر چیخ مارتی آنکھیں میچ گئ۔۔۔کسی مضبوط چٹان سے ٹکرانے کے باعث اسکا سر ابھی تک چکرا رہا تھا۔۔۔
علمیر نے بعجلت اسے کمر سے تھامتے گرنے سے بچایا۔۔۔
جھٹکے کے باعث سر سے آنچل پھسل گیا جبکہ ریشمی زلفیں کیچر ڈھیلا ہونے کے باعث شانوں سے پھسل پھسل گئ۔۔۔
علمیر کو لمحہ لگا تھا اس لڑکی کو پہچاننے میں۔۔۔ یہ وہی چہرا تھآ جو صبح شام نگاہوں کے سامنے ثبت ہو گیا تھا
۔۔ وہ مسمرائز سا اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ بھلا وہ تصور میں رہنے ولی لڑکی مجسم حقیقت بن کر اسکے سامنے کیسے آن موجود ہوئی۔۔۔
کیا یہ اتفاق تھا۔۔۔ اگر ہاں تو بہت خوبصورت اتفاق تھا۔۔۔
دفعتا خود کو کسی کی گرفت میں محسوس کر کے اسنے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور سامنے اسی روز والے مقناطیسی آنکھوں کے حامل شخص کو دیکھ کر وہ تھوک نگلتی تڑپ کر اسکی گرفت سے نکلی۔۔
آ۔۔۔ آپ یہاں کیسے۔۔۔ وہ بوکھلا کر گویا ہوئی جبکہ المیر شاہ ستائشی انداز میں آئی برو اچکا کر رہ گیا۔۔
لائک سیریسلی۔۔۔ وہ اس لڑکی کی حالت سے محظوظ ہوتا گویا ہوا۔۔۔
محترمہ تم میرے گھر میں ہی کھڑی ہو کر مجھ سے ہی یہ سوال پوچھ رہی ہو۔۔۔ ایم امپریسڈ۔۔۔۔۔
المیر شاہ کے جواب پر میرال مزید گھبرا گئ۔۔۔ آپ۔۔۔ آپکا گھر۔۔۔ کپکپاتے لبوں سے لفظ ٹوٹ کر نکلے۔۔۔ وہ گہری نظروں سے میرال کا ایک ایک انداز نوٹ کر رہا تھا۔۔۔ اور اسکے یہ انداز ہی میرال کو مزید حواس باختہ کر رہے تھے۔۔۔ اسنے آنچل کو کپکپاتے ہاتھ کی مٹھی میں میچا اور تھوک نگلتے حواس باختگی میں اوپر کی جانب دیکھا۔۔۔ کہ شاید وہاں سے کہیں افق نظر آ جائے۔۔۔
کیا ہوا زبان ادھار دے دی کیا۔۔۔ اسکی خاموشی پر علمیر شاہ ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں اڑستا پرسکون انداز میں کھڑا ہوتا دو قدم مزید اسکی جانب بڑھا تو میرال بوکھلا کر چار قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
اسکی نگاہوں کا ارتکاز محسوس کر کے میرال نے خود پر غور کیا تو جھٹ سے کپکپاتے ہاتھوں سے بال پیچھے کرتے آنچل سر پر درست کیا اور آنکھ چراتے علمیر کی محویت کو دیکھنا چاہا جو ہنوز بلا خوف و خطر اسے ہی تک رہ تھا۔۔۔
ایک اس شخص کی مرغوب کرتی شخصیت دوسرا اسکے اندازو بے باکی اور اسکی قربت میرال کا دل چاہا وہ کسی طرح یہاں سے غائب ہو جائے۔۔۔
#ناول-حاصل-زیست
#از_ام_ہانیہ
Complete novel link 👇
https://youtu.be/4eJu8j6EsDI?si=1Dsbb...
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Writer Umme Hania
✨ New Episode Alert! ✨
📖 The Episode will be uploaded tomorrow at 7:00 AM, In Sha Allah. 🌸
⏰ Stay tuned and don’t miss it! 💫
❤️ Your love & support means a lot!
🌷 See you tomorrow at 7 AM
1 week ago | [YT] | 1
View 0 replies
Writer Umme Hania
https://youtu.be/HXa38hdULFo?si=lt86E...
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Writer Umme Hania
مسٹر زوہان شامیر خان ۔۔۔ جب کسی کی زمہ داری اٹھائی جائے نا تو اسے پوری ایمانداری سے نبھایا بھی جاتا ہے۔۔۔
یوں نہیں ہوتا کے کسی کو اپنے سہارے دیار غیر سے اپنے ملک لا کر اسے بے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے مرنے کے لئے۔۔۔
یوں کے پھر اسے پلٹ کر پوچھا ہی نا جائے۔۔۔
اگر ایسے ہی کرنا تھا تو مر تو میں وہیں بھی جاتی۔۔۔ کیوں میرا بیماری میں خیال رکھا مجھے جینے کی امید دی مجھے اپنے ساتھ یہاں تک لائے ۔۔ جب تم نے یہاں لا کا کر مجھے بے یارومددگا۔۔۔
کون ۔۔۔ کون بات کر رہا ہے۔۔۔
ایمان کے ہاتھ میں تھاما موبائل لرزا
https://youtu.be/86wRQFX2lIo?si=--zXt...
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more