" ہمارے یوٹیوب چینل Asaan Zindagi 11M میں خوش آمدید"
یہ چینل ان تمام مسلمانوں کے لیے ہے جو قرآنِ پاک کو سمجھنا، سننا اور اپنی زندگی میں اس کی روشنی لانا چاہتے ہیں۔
ہمارے چینل پر آپ کو ملیں گے:
قرآن کی خوبصورت تلاوت
اردو ترجمہ کے ساتھ مکمل سورتیں
دل کو چھو لینے والی قرآنی شارٹس
نیچرل ویڈیو clip کے ساتھ شارٹس (Relaxing Nature + Quranic Ayat)
روزانہ کی بنیاد پر اپڈیٹس
ہماری کوشش ہے کہ قرآنِ پاک کی تعلیمات کو ہر دل تک پہنچایا جائے، ایک خوبصورت اور مؤثر انداز میں۔
سبسکرائب کریں آج ہی، اور اپنے ایمان کو تازہ کریں۔
اسلامی مواد کو عام کریں، ثواب کمائیں، اور ہماری یوٹیوب فیملی کا حصہ بنیں۔
#سبسکرائب_کریں #QuranTilawat #UrduTranslation #IslamicShorts #QuranShorts #IslamicVideos #DailyQuran #BeautifulTilawat #QuranInNature #IslamicContent #LearnQuran #SurahWithTranslation #TafseerUrdu #QuranWithNature #PeacefulQuran #HeartTouchingTilawat
Asaan Zindagi 11M
سوال:-کوئی غریب کسی مال دار سے نفرت کیوں کرتا ہے جب کہ مال دار کو سب لوگ بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مال کی وجہ سے معاشرے میں اس کی عزت ہوتی ہے؟
جواب:-
*غریب کو مال دار ہونے تک چار زندگیاں چاہئیں ۔ پھر بھی وہ نہیں ہو سکتا ۔
نہ اُس کے پاس وہ وسائل ہیں اور نہ اس کے پاس وہ راستہ ہے ۔
اس کے لیے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ مال دار کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے ۔ کیونکہ یہ مال دار ہیں ۔
حتٰی کہ جب راستے پر چلتی ہوئی گاڑی اگر پانی کے اوپر سے گزرے اور کوئی چھینٹ پڑ جائے تو سب مال داروں کو وہ Pedestrian گالی دے گا ۔ اور اس طرح علیٰ ہٰذا القیاس ۔ صرف ایک مال دار عزت کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے جو مال کے ذریعے فیض کا مضمون کھولے ، خدمتِ خلق کا مضمون کھولے
گنگا رام کو آپ جتنا بُرا بھلا کہو وہ فیض کا ایک نظام قائم کر گیا ۔ ہمارے ہاں جو جمع کرنے والے مال دار لوگ ہیں ان کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو بھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ مال کس طریقہ سے آیا ہے
مال کبھی سخت دلی کے بغیر نہیں آ سکتا ۔ نرم دل انسان کے پاس مال آ نہیں سکتا یا اس کے پاس جمع نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ جہاں بھی ضرورت دیکھے گا ، درد اور تکلیف دیکھے گا تو جو اس کے پاس ہے وہ تکلیف کو رفع کرنے کے لیے خرچ کرنے کو تیار ہو جائے گا ۔ یہ ضروری ہے کہ مال جو ہے انسان کو سنگ دل بنا دیتا ہے ۔
یہ واضح ہے کہ مال کی محبت ”الھٰکم التکاثر حتٰی زرتم المقابر“ غافل کر دیا تجھ کو کثرتِ مال نے حتٰی کہ تم قبروں میں جا گرے ۔ تو مال کی محبت انسان کو کمزور کر دیتی ہے اور اپنے آپ میں وہ بزدل Feel کرتا ہے بلکہ Insecure سا Feel کرتا ہے ۔ Insecure آدمی جو ہے محسوس کرتا ہے کہ وہ عزت والا نہیں ہے
عزت کا مضمون یہ نہیں ہے ، عزت تو Security میں ہے یا Sterling Value کی کوئی چیز ہو ۔ مال کے اندر بذاتِ خود آنا جانا لکھا ہوا ، دولت ٹھہرتی نہیں ہے ، یہ دھوپ چھاٶں والا معاملہ ہے
مال دار نے اپنے سے زیادہ مال دیکھا تو وہ خود بخود غریب ہو گیا چاہے اس کے پاس نسبتاً اور مقابلتاََ اس کا اتنا مال رہ گیا ہو ۔
سوال یہ ہے کہ کیا کوئی معاشرہ ایسا ہو سکتا ہے کہ جہاں کثرتِ مال باعثِ عزت ہو؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کہیں کوئی ایسا معاشرہ ہوا نہیں ہے جہاں کثرتِ مال عزت کا باعث ہو ۔ دنیا میں ، ماضی کے اندر جتنے بھی پسندیدہ اسماء آئے ، مفکرین ہوں یا کوئی اور لوگ ہوں وہ تمام کے تمام مال کے علاوه تھے
پیغمبروں کو دیکھ لیں ،
مفکروں اور Social Reformers کو دیکھ لیں ، سارے کے سارے مال دار تھے ، بہت کم لوگ ایسے تھے جو مال دار بھی تھے اور مفکر بھی تھے ۔
ورنہ فکر جو ہے یہ وہاں نہیں پلتا ، یہ دِیا وہاں نہیں جلتا
یہ وہی گُل ہے کھِلتا ہے بیابانوں میں
راس آتا نہیں رہنا جسے ایوانوں میں
مال والے کے ہاں نہیں ٹھہرتا ۔ مال کی محبت جو ہے افکار کو ختم کر دیتی ہے ۔ جہاں مال کی محبت ہو وہاں اور کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی کیونکہ وہاں تو آہِ سحر گاہی ، اپنا فکر اور دوسروں کا فکر ، ہمدردی ، Sympathise ہوتے ہیں ۔
مال میں تو سختی ہو جائے گی ، مال میں فرعونیت کرے گا ، مال تکبر پیدا کرے گا اور غرور پیدا کرے گا ۔ جہاں تکبر پیدا ہو گا وہاں انسان اپنی نظروں میں عزت والا نہیں ہو گا ۔
اگر کوئی معاشرہ مال دار ہو جائے تو اس کو دوسرا معاشرہ جا کے Hit کرے گا ۔
جس طرح کہ یہودی معاشرہ ہے ، وہ شر پسند ہو گا اور دنیا کے اندر کوئی نہ کوئی فساد مچائے گا، اسلحہ سے یا جنگ سے یا کسی اور طریقے سے فساد مچائے گا ۔
شدتِ مال یا شدتِ محبتِ مال جو ہے یہ لامحالہ انسان سے محبت کی نفی ہے کیونکہ یہ اپنی ذات کی تسکین ہے بلکہ غرور کا مقام ہے ۔
اس طرح وہ انسان کی محبت سے رہ جاتا ہے ۔
مال کا ہونا ، بُری چیز نہیں لیکن مال دار بننے کی خواہش بُری ہے ۔
اس سے غرور اور تکبر پیدا ہو جاتا ہے ۔
آپ دیکھیں کہ کس جگہ پہ ایسا ہوا کہ نہیں ہوا ۔ ہمیشہ ہی ہوا ہے ۔ دنیا میں ایسا معاشرہ کبھی ہوا ہی نہیں کہ مال کی وجہ سے اس میں عزت ہو ۔ وہ اپنی نگاہ میں کرتے ہیں ، باقی تو یہ ہے کہ اسی معاشرے میں مال والے سے Hate کرنے والا پورے کا پورا گروہ پیدا ہو جائے گا ۔ وہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھے گا ، توڑنے کی کوشش کرے گا اور جب موقع ملے گا اُسے توڑ دے گا ۔ اس لیے مال بذاتِ خود ایک Insecurity ہے اور اس میں اندیشہ ہی اندیشہ ہے ۔
جہاں جتنا زیادہ مال ہو گا وہاں اتنا زیادہ اندیشہ ہو گا ۔ مال دار اپنے مال کو استعمال کرے گا اور جو کم مال دار ہے اس کی نگاہ میں اس کی عزت نہیں ہو گی ۔
وہ کہے گا کہ اس نے وسائل روکے ہوئے ہیں اور یہ فلاں سکول میں اور کالج میں بچے پڑھاتا ہے ، اس کے پاس وسائل بہت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر آہستہ آہستہ بات چلتے چلتے کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی ہے ۔
: دنیا میں عزت والی چیزیں مکمل ہو چکی ہیں ، یہ سب آ چکا ہے ،
: کہ عزت افکار سے ہے ،
: عزت جو ہے ایمان سے ہے ،
: عزت اعمال سے ہے ،
: عزت ہمدردی سے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہی کا نام بدلنا یا اسے نئے سرے سے Define کرنا کہ عزت والی کیا چیز ہوتی ہے ، میرا خیال ہے کہ یہ بڑی مشکل بات ہے
قابلِ عزت کون لوگ ہوتے ہیں؟ یہ تو نئے سرے سے Define نہیں کرنا ۔ عزت والا کون ہے؟ یہ تو دنیا میں Define ہو چکا ہے ۔ آج تک دنیا میں جتنے علوم آئے ہیں انہوں نے بہت زیادہ Definition دے دی ہے کہ عزت یا Respect کیا ہوتی ہے ، کن لوگوں میں ہوتی ہے اور کن لوگوں میں ہونی چاہیے ۔ اس کی تعریف ہو چکی ہے
یہ کون آدمی عزت والا ہے اور کن نگاہوں میں اس کی عزت ہونی چاہیے ۔ وہ اپنی نگاہ میں عزت والا ہے؟
مالک کی نگاہ میں عزت والا کون ہے؟
یا سماج میں عزت والا ہے؟
اور سماج بھی کون سا؟
: سماج بذاتِ خود عزت والا ہونا چاہیے ۔ اگر عزت والے سماج میں عزت ہے تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ آدمی عزت والا ہے ۔
ورنہ سماج کے اندر اگر بُرائی زیادہ ہے تو بُرائی کے اندر یہ پیسہ Instrumental ہے ۔ اس لیے عزت کی تعریف کرنی پڑے گی کہ عزت کیا چیز ہے اور عزت والا کون ہوتا ہے اور عزت کرنے والے کون لوگ ہوتے ہیں ، کن نگاہوں میں وہ معزز ہے کیا وہ ”عین الخلائق “ میں معزز ہے؟پیسے والا ”عین الخلائق“ میں کبھی معزز نہیں ہوا ، کہ اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے ۔
: مال دار تو ایک گروہ ہے جو ایک دوسرے کو Dominate کرنے والا یا ڈرانے والا یا طاقت استعمال کرنے والا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
: پیسہ آج تک ایک قوت کے طور پر تو استعمال ہوا ہے
: لیکن عزت کا ذریعہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(گفتگو والیم 28 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 184 ، 185 ، 186 ، 187)
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
1 week ago | [YT] | 4
View 2 replies
Asaan Zindagi 11M
جو چیز آپ کو یاد ہے وہ اللّٰہ تعالیٰ کو کیسے بھولے گی۔آپ خود سوچیں کہ آپ کو اپنی زندگی یاد ہے، اپنے اعمال یاد ہیں تو اللّٰہ تعالیٰ کیسے بھول جائے گا۔وہ تو Memory پیدا کرتا ہے، یادداشت کا خالق ہے۔
آپ سب سے پہلے معافی مانگ کے اپنے گناہ خود بھول جائیں۔اس دن توبہ منظور ہو جاتی ہے جب انسان اپنے گناہ خود بھول جائے۔یہ توبہ کی ابتدا ہے اور آپ توبہ کرتے جائیں حتیٰ کہ آپ کو گناہ اور گناہ گار زندگی بھول جائے، آپ توبہ کرتے جائیں حتیٰ کہ آپ کو اپنا آپ بھی بھول جائے۔
یعنی کل کا ماضی ختم ہوجائے گا اورآپ نئے سرے سے Generate ہو جائیں گے، پیدا ہو جائیں گے۔اسے “ قُقنَس” کہتے ہیں۔انگریزی میں اسے Phoenix کہتے ہیں۔وہ جب مرتا ہے تو اس کی راکھ سے ایک اور پرندہ پیدا ہوتا ہے۔اس کے بارے میں کہتے یہ ہیں کہ وہ دیپک راگ گا کر مر جاتا ہے، جل جاتا ہے، اپنے آشیانے کے اندر ہی مر جاتا ہے اور پھر اسی میں سے ہی ایک نیا پرندہ پیدا ہوتا ہے۔
بس آپ کا راگ استغفار ہے۔آپ استغفار کریں اور اپنے شعلوں میں سے ہی اپنا آپ دریافت کرلیں، نئے سرے سے پیدا ہو جائیں،اور نئے سرے سے Recreate ہو جائیں۔تو پھر اللّٰہ تعالیٰ مہربانی فرمائے گا۔
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
(کتاب:۔ گفتگو ۔7)
2 weeks ago | [YT] | 12
View 0 replies
Asaan Zindagi 11M
سوال:-
ایک مرتبہ آپ نے فرمایا تھا کہ ایک ایسا مقام بھی ہوتا ہے کہ دعا نہ کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔
جواب:-
☆دعا مانگنے والی بات بندے اور رب کے درمیان ہے اور بندے کے دل میں جو خیال آتا ہے وہ اللہ کو معلوم ہوتا ہے - تو بندے کے دل میں پیدا ہونے والے خیال سے اللہ آشنا ہے - اب مانگنے کی کیا ضرورت ہے - مسنون بات یہ ہے کہ دعا مانگا کرو اور آپ ضرور مانگا کرو - ایک مرتبہ یہ بات پوچھی گئ تھی کہ ایسا واقعہ کبھی ہوا ہے کہ دعا مانگی گئ ہو اور منظور نہ ہوئی ہو - تو ایسی کئ دعائیں ہوتی ہیں - بتایا یہ جا رہا ہے کہ اللہ کے طالب جو لوگ ہیں وہ دعا پر اصرار نہیں کرتے - دعا ، مانگنا اور رضا، دینا ہے - صاحبان_رضا مانگتے نہیں ہیں - اللہ پر جو لوگ راضی ہوتے ہیں وہ یہ نہیں کہتے کہ یا اللہ اس مصیبت کو ہم سے ٹال ، یہ کیا کربلا ہمارے اوپر نازل ہو گئ ہے - وہ کبھی یہ نہیں کہیں گے - اور ان صاحبان کے نام سے آپ دعائیں مانگتے ہیں - تو جن کے نام سے آپ دعائیں مانگتے ہیں وہ کبھی یہ دعا نہیں مانگتے ہیں کہ یا اللہ یہ مصیبت ٹال - وہ کہتے ہیں اللہ بہتر کر رہا ہے جو کچھ کر رہا ہے - تو وہ لوگ جب دعا مانگتے ہیں جمیع کے لیے مانگتے ہیں کہ یااللہ سب کی مشکلات آسان کر ، اس امت پر رحم فرما ، ہمارے لوگوں پر رحم فرما ، ہمارے ساتھیوں پر رحم فرما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ یہ نہیں کہتے کہ مجھ سے یہ مشکل ٹال - مشکل تو ان کا درجہ ہے - ہم لوگ روتے ہیں کہ کربلا میں بڑا ظلم ہوا اور اگر وہاں پر حضرت امام عالی مقام علیہ السلام دعا کرتے تو وہ بلا ٹل جاتی - آپ لوگ جو مسلمان ہیں کیا آپ کا یہ یقین نہیں ہے کہ امام علیہ السلام کی مانگی ہوئی دعا منظور ہو گی - یہ ہم سب کا یقین ہے - کیا امام علیہ السلام نے مصیبت ٹلنے کی دعا مانگی؟ دعا جب بھی مانگے گا Follower مانگے گا اور امام علیہ السلام جو ہیں وہ رضا پر رہیں گے - کیا آپ لوگ علی علیہ السلام کو مشکل کشا مانتے ہیں؟ تو ان پر تو مشکلات ہی مشکلات تھیں - پھر مشکل کشائی کیا ہے؟ آپ علیہ السلام خود شہید ، اولاد شہد ، ان کے ماننے والے ہمیشہ شہید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اسی کا نام ہے مشکل کشائی
تو آپ قبول کرو ، اللہ کی طرف سے آنے والا قبول کرو - امام وہ ہوتا ہے ، ولی وہ ہوتا ہے ، اچھا بندہ وہ ہوتا ہے جو کہے کہ جو اللہ کی رضا ہے وہ قبول ، میری رضا وہ ہے جو تیری رضا ہے ، ہمیں وہ قبول ہے ، جو واقعہ ہوا ہے یہ قبول ، موت آ گئ ہے تو یہ بھی قبول ہے
پیر پیغمبر ولی درویش مردان_خدا
موت کی وادی سے گزرے ہیں بہ تسلیم و رضا
تو تسلیم و رضا ان کا شیوہ ہے - جس کا شیوہ تسلیم و رضا ہے وہ اللہ سے کیا مانگے گا - پھر مانگنا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فیصلے اور اللہ کے فیصلے میں فرق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آپ کب مانگتے ہیں؟ جب آپ کے فیصلے اور اللہ کے فیصلے میں فرق آ جائے - اگر اللہ نے کوئی مشکل ڈال دی تو انسان آسانی چاہتا ہے اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہے - اگر جو اللہ کر رہا ہے وہ ہم بھی کریں تو پھر کوئی مشکل نہیں ہے - اس لیے میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا کہ اللہ کے بندے وہ ہوتے ہیں جن کو اگر یہ کائنات دو دن کے لئے مکمل اختیار کے ساتھ مل جائے تو دو دن کے بعد وہ کائنات کو جوں کا توں واپس لوٹا دیں - اللہ کہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے؟ تو وہ کہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی - یہ ہے رضا - صاحب_اختیار ہونے کے باوجود اسے Change نہ کرے - تو مشکل کشا وہ ہے جو مشکل قبول کرے ، لوگوں کی مشکل دور کرے اور اپنے لئے مشکل قبول کرے - تو یہ مشکل کشا ہوتا ہے - تو اللہ کی طرف سے جو کچھ آ رہا ہوتا ہے وہ اپنے لیے قبول کرتے ہیں ، اپنے لیے دعا نہیں کرتے اور لوگوں کی مشکل حل کرتے ہیں _____
اب آپ لوگ اور سوال کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بولیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بولنے کا نام ہی زندگی ہے ، پھر تو یہ انسان ہے ، چپ کر جاتا ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بولیں
گفتگو 17________صفحہ نمبر 140۔۔۔۔141۔۔۔۔142
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
2 weeks ago | [YT] | 10
View 1 reply
Asaan Zindagi 11M
بیٹی روحانی وارث
ویسے تو امام واصف'باصفا سرکار نے فرمایا تھا کہ میری محفل میں سوال بھی میرے ہوتے ہیں اور جواب بھی میرے! تاہم میرے مطابق اگر محفل بغیر بھی اگر آپ حضور سے سوال کئے جاتے تھے تو وہ سوال بھی آپ کی منشاء کے بغیر نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔۔ محفل ہو یا آپ کا گھر مبارک؟
کوئی بھی آپ سرکار کی مرضی کے بغیر سوال نہیں کر سکتا تھا کہ آپ کا فرمان و مقام آپ کے ارشاد مطابق یوں بھی ہے کہ۔۔۔
آخری سانس تک ۔میری زبان سے کوئی بے معنی لفظ ادا نہیں ہو سکتا
اک روز 22 فردوس کالونی گلشن راوی لاہور میں
میں نے آپ سرکار کے دفتر میں بیٹھے ہوئے آپ سے سوال اپنے خیال کے مطابق عرض کرنے کی کوشش یوں کی ۔۔۔
عرض کیا کہ سرکار ۔۔۔۔
'روحانی وارث بیٹا ہوتا ہیے یا بیٹی؟'
آپ حضور واصف'باصفا سرکار' سے سوال کرتے ہوئے میرا مدعا یقیننا یہ تھا کہ ہمارے نبی'آخر الزماں، حضور پاک صل اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی آل و نسل پاک تو آپ صل اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی بی بی فاطمہ الزہرا، طیبہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کے حوالے سے اگے بڑھی ہیے تو اب ہم مسلمانوں میں وراثت کی طاقت ہماری بیٹیوں کے حوالے سے اگے کیوں نہیں چل رہی۔۔۔ ؟
آپ حضور نے میرا سوال سنتے ہیں چند لفظوں میں میرے سوال کا سارا معاملہ واضح طور پر یوں نمٹا دیا۔۔۔
آپ نے فرمایا کہ۔۔۔ا
" خوشی! بیٹا خاندانی وارث ہوتا ہے اور بیٹی روحانی وارث'
روحانی وراثت کے حوالے سے اللہ پاک ہماری بیٹیوں کو بھی آل رسول پاک صل اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے صدقے سے باسعادت فرمائے۔۔۔
آمین یا ربنا کریم
اللہم صل علی'سیدنا محمد'و آل سیدنا محمد و بارک وسلم
حضرات۔
یہ سوال و جواب کے واقعات اپنے قریبی امام واصف'باصفا سرکار کے چاہت گذاروں کو اکثر بیان کرتا رہتا ہوں۔۔۔کوئی جس حد تک مانے، یہ توفیق الٰہی ہے،
7 جنوری 2023 بروز ہفتہ رات کو میرے امام واصف'باصفا سرکار سے محبوبیت یافتہ فرد،
حضرت محمد اکرام چغتائی رح ہم سے رخصت ہو گئے تھے۔۔
چغتائی صاحب کی بیٹیوں نے چغتائی صاحب سے آخری مرتبہ رخصت ہونے سے کچھ دیر پہلے ان سے آخری وقتوں کی گفتگو بیان۔کی ہے ۔۔۔
حضرت چغتائی صاحب نے اپنی بیٹیوں کو آخری ملاقات میں اپنے وصال سے چند گھنٹے پہلے امام واصف'باصفا سرکار کی وہی آخری بات ان کی تشفی اور آئندہ زندگی کیلئے فرمائی ۔۔۔
انہوں نے اپنی بیٹیوں کو کہا کہ امام واصف'باصفا سرکار نے فرمایا تھا کہ
"بیٹیاں "روحانی وارث ہوتی ہیں"۔۔
یہ کہہ کر محبوبیت یافتہ فرد حضرت چغتائی صاحب نے انہیں باور یوں کروایا کہ
"اب آپ ہی میری روحانی وارث ہو۔۔'
اس پیغام کے بعد چغتائی صاحب نے آرام کرنے کا عندیہ ظاہر کیا اور پھر کچھ ہی گھنٹوں بعد باغ فردوس کو روانہ ہو گئے۔۔۔
راقم، خوشی محمد
1 month ago | [YT] | 12
View 1 reply
Asaan Zindagi 11M
اگر آپ کسی صاحبِ یقین کے ساتھ چل رہے ہیں تو اس سے یقین کی دولت ملتی رہے گی ۔گھر میں بیوی بچوں کا جو ساتھ ہے ،آپ اس ساتھ کو صرف نبھاؤ اور اس ساتھ میں سے کوئی چیز نہ نکالو ۔مثلاً آپ شادی کرتے ہو ، اس طرح میاں بیوی کا تعلق ہو گیا ۔تو تعلق کو کسی کام کے لئے استعمال نہ کرو ۔اگر اس طرح کی عادت ہے تو یہ عادت نکال دو ۔اپنی زندگی سے کون سی عادت نکالنی چاہئے ؟ کہ تعلق کو ذریعہ بنا کر کوئی کام نہ حاصل کرنا ۔ اگر یہ بات چھوڑ دو تو تعلق جو ہے بذاتِ خود بڑا کام ہے ۔ تو صاحبِ یقین کے ساتھ تعلق ہی یقین ہے .تعلق کا نبھا جانا ہی یقین ہے ۔اگر کوئی کہے کہ
مرشد کے ساتھ آپ کا تعلق کب تک رہا تو آپ کہيں کہ ہمیشہ سے تھا اور رہے گا.کیا آپ کو اس سے کچھ ملا ؟ تو آپ کہیں کہ ملنے کی بات نہیں بلکہ تعلق قائم ہے ۔ تعلق میں فائدہ حاصل کرنا بڑی بیماری ہے. تعلق کو تعلق تک رکھو ۔کل بھی تعلق تھا ، آج بھی تعلق ہے ۔ کیا ہے ؟ کل بھی تعلق تھا آج بھی تعلق ہے ۔ خواہ کام ہو جائے یا کہ نہ ہو ، تعلق کو قائم رکھو ۔مثلاً آپ کو آپ کے بھائی نے بہت نقصان پہنچایا مگر ،بھائی ہونا ایک تعلق ہے .اور بیٹا بڑا گستاخ نکل آیا مگر ، بیٹا ہونا ہی تعلق ہے . اگر کسی دوست نے کام نہیں کیا تو نہ کرے ،تعلق قائم رکھو ۔تعلق کو فائدے کا ذریعہ نہ بناؤ ۔ اسی طرح مشائخ کرام کے ساتھ تعلق دراصل خدا کے ساتھ تعلق کا ذریعہ ہے ۔
یہ تعلق کیا ہوتا ہے ؟
مشائخ کے ذریعے اللّٰہ کے ساتھ تعلق ہو گیا .کسی درویش نے اللّٰہ کے بارے میں بتا دیا تو تعلق ہو گیا-تیسرے دن آپ نے اللّٰہ تعالیٰ کو درخواستیں دینی شروع کر دیں ۔
یااللّٰہ ایک تو ہماری اچھی سی نوکری لگا ، پھر کاروبار بہتر کر دے ، دو دکانیں ، چار کارخانے دے دے ۔ اب اللّٰہ تعالیٰ کہے گا کہ اس سے بہتر ہے کہ تعلق ہی توڑ دو ۔ کیونکہ تم نے تعلق کو ہمیشہ ہی Application بنایا ،تعلق کو ہمیشہ ہی درخواستیں بنایا اور ہمیشہ Demand کرتے رہے ۔ کبھی تعلق کا Regard نہیں کیا کہ یا اللّٰہ تیری مہربانی ہے کہ آج ہم تیرے رُوبرُو ہیں ، یہ کافی بات ہے کہ
ہم آج تیرے دربار میں حاضر ہو گئے. ورنہ وہ شخص اللّٰہ کے پاس بیٹھ کے بھی Type کرتا جا رہا ہے ۔چھ سال سے مانگ رہا ہے
اور پتہ نہیں کیا کیا مانگ رہا ہے ۔
آپ لوگ نظر کی خیر مناؤ ، نظارے تو بڑے ہیں مگر نظر کمزور ہوتی جا رہی ہے اور آپ نظارے مانگ رہے ہیں ۔
نگاہ کمزور ہو جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نظارے کی قدر کیا ہوتی ہے ۔ جب تک نگاہ قائم ہے ،
دنیا کے نظاروں کا شکر کے ساتھ استقبال کرو ۔جب تک ذہن موجود ہے ، دنیا کو غور سے دیکھ لو اور
کائنات پہ غور کرتے جاؤ ۔جب تک دل موجود ہے ، کچھ دلبری کے کھیل کرتے جاؤ ۔صحت موجود ہے ، تو خدمت کرتے جاؤ.وجود کے ساتھ پیسہ موجود ہے تو غریب کی خدمت کرتے جاؤ .کیونکہ موجود اور لاموجود برابر چلتا ہے ۔ دنیا میں ہونا ، اور نہ ہونا ، ہر وقت ہوتا رہتا ہے ۔ اس لئے اپنے فن کے ساتھ ،اپنے علم کے ساتھ ،اپنے حاصل کے ساتھ اور اپنی زندگی کے ساتھدوسروں کی خدمت کرتے جاؤ ، یہی بڑی کافی بات ہے ۔لیکن آپ صرف مانگتے جاؤ گے تو ایسا نہ ہو کہ آپ مانگتے چلے جاؤ اور
جب جانے کا وقت آئے تو ، ساری بات ختم ہو جائے ۔
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
(گفتگو 3/ صفحہ: 122 تا 124 )
1 month ago | [YT] | 16
View 1 reply
Asaan Zindagi 11M
سوال:
جو باشعور اور پختہ عمر کے لوگ ہیں وہ تو اپنا عقیدہ پختہ رکھیں گے یا رکھ سکتے ہیں لیکن جو بچے ہیں ان کو ہم کس طرح Deal کریں ، کس طرح بچائیں ؟
جواب :٫
ان کو اپ اس طرح Deal کرو ، جس طرح میں اپ کو پچھلے کئی سال سے ڈیل کر رہا ہوں اپ لوگ بار بار وہی بات کرتے ہو اور میں ہر محفل میں کہتا ہوں کہ پچھلے اعمال سے توبہ کرو آپ بھی ان کو یہ کہا کرو کہ اپنے پچھلے اعمال کی توبہ کرو اور آپ اللہ کی رحمت کی طرف ان کی نگاہ لگاؤ کہ مایوس نہیں ہونا بیٹا ، اللہ مہربانی کرنے والا ہے ، گھبرانا نہیں ہے ، تو سارے واقعات کا محنت پر دارومدار نہیں ہے ، ساری بات کا عقل پر بھروسہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ عقل اور چیز ہے اور اللہ کی مہربانی اور چیز ہے ۔۔۔۔۔
بعض اوقات عقل جو ہے وہ کام ہی نہیں اتی ہے ، اور ایک واقعہ کام ا جاتا ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نصیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو آپ انہیں سمجھاؤ ، اور انہیں یقین دلاؤ ،
ایک بات آپ کی ذمہ داری ہے ، کہ آپ اپنی اولاد کو تعلیم اور عقل کے حوالے چھوڑ کر نہ جانا ورنہ آپ کی اولاد بڑی تکلیف میں ہوگی ،
آپ اپنی اولاد کو اج کل کی تعلیم جو دلا رہے ہو وہ ” بچوں کے لیے کسی پیشے کے لیے تو ضروری ہے ، “
مگر آپ بچوں کو اس تعلیم کے حوالے نہ کر کے چلے جانا بچوں کو عقل کے حوالے نہ کر کے چلے جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلکہ اپ بچوں کو تھوڑا سا دین سکھاؤ ان کو اللہ پر بھروسہ سکھا جاؤ ،
اللہ کے حبیب پاک ﷺ سے نسبت سکھا جاؤ ،
قران پاک کی عزت کرنا سکھا جاؤ ،
اور ان کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا سکھاؤ ،
یہ باتیں تو کی جا سکتی ہیں ،
باقی اخلاقیات دنیا وہ سیکھ جائیں گے ،
” دین جو ہے وہ اخلاقیات کے ساتھ الہیات کا نام ہے ، “
دنیا تو بے شمار اخلاقیات سکھا دے گی دنیا میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہے ، جو یہ کہے کہ جھوٹ بولنا اچھی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ایسا معاشرہ نہیں جو یہ کہے کہ قتل کرنا اچھی بات ہے ، یہ اخلاقیات ہے ،
تو آپ اخلاقیات کے ساتھ الہیات ملائیں ، یعنی کہ اللہ کی طرف سے یہ باتیں حکم ہیں ،
تو آپ اپنی اولادوں کو بچا کے جاؤ ،
آپ اخری لوگ ہو اس کے بعد اولادوں کو دین کی کوئی آواز نہیں آئے گی ، آپ ہی لوگ ہو جو انہیں آواز دینے والے ہو ،
آپ لوگ میری بات سمجھ لو یا تو اس کے بعد Pure دین سے جہالت پیدا ہو جائے گی ، یا Pure دین سے دوری کی جہالت پیدا ہو جاۓ گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔توبہ توبہ !!
کیا آپ نے اللہ سے معافی مانگی ہے ؟
تو دین سے دوری جہالت ہوتی ہے اور دین کی جہالت بہت بری ہوتی ہے ،
دین دار جو ہے وہ اگر جاہل ہو جائے تو پھر اس کا راستہ ہی کوئی نہیں ہے ،
یہ سب سے بڑا عذاب ہے
کہ وہ دین دار ہو اور جاہل ہو جو شخص اللہ کی منشا کے خلاف اپنی پسند سے اللہ کے دین کو استعمال کر رہا ہے اس کو ہم دین کی جہالت کہیں گے ،
اور دین کی جہالت سے بچنے کے لیے دعا کرو ،
کیونکہ وہ شخص دین سے باہر چلا جا رہا ہے اور اللہ کے محبوب ﷺؐ کی محبت کے سلسلے میں اللہ کے محبوب ﷺؐ کے راستے سے باہر چلا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
گفتگو 12 صفحہ نمبر 197)
1 month ago | [YT] | 9
View 0 replies
Asaan Zindagi 11M
اگر آپ اس وسیلے اور حوالے کو اپنے قریب کر لیں'
تو آج بھی مطلب یہ ہے
کہ آپ کے ساتھ واقعات ہوتے جائیں گے۔
: اللہ کریم ہمیشہ وہیں بولتا ہے ,,,,,,,,,
: جہاں حضور پاکﷺہوں.
"تو یہ بات راز کی بات ہے'کہنے والی نہیں ہے'اس کو بس بھول جاؤ۔
اللہ کہاں بولتا ہے؟
جہاں اس کے محبوبﷺہوں
اور اس کے محبوب ﷺ آپ کے دل میں ہوں
_______ تو آپ کے ” دل پر بھی اسکا کلام “ ہو سکتا ہے ________
: قرآن وہی رہے گا یعنی حضور پاکﷺجو کلام نازل ہوا وہ قرآن کہلائے گا ,,,،،،
اور امت کے انسانوں پر جو کلام نازل ہوا،،،،
____ اوہ کچھ اور ہی کہلائے گا" ____
اور"پر جو نازل ہوا وہ کچھ اور ہی کہلائے گا۔نازل نزول ہوتا رہتا ہے۔اللہ تعالی کہتا ہے کہ شہد کی مکھی پر میں نے نازل فرمایا'کیا؟شہد بنانے کا فارمولا یہ"نازل"ہے اسے آپ الہام کہہ لو ۔
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
1 month ago | [YT] | 10
View 0 replies
Asaan Zindagi 11M
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
"اور تمہیں میری نصیحت نفع نہیں دے گی اگر میں چاہوں کہ تمہیں نصیحت کروں جبکہ اللہ تمہیں گمراہ کرنا چاہتا ہو، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔”
(ھود، آیت # 34)
1 month ago | [YT] | 6
View 1 reply
Asaan Zindagi 11M
Link for Subsription👇👇 youtube.com/@asaanzindagi4762?si=KAmyka2G8fUiEaDi
1 month ago | [YT] | 17
View 1 reply
Asaan Zindagi 11M
سوال :
میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ خود سپردگی کے بعد ہوش بھی نہیں رہتا۔ تو پھر میں کیا کروں؟
جواب :
لاہوش انسان بے ہوش انسان یا اللہ کی راہ میں محو انسان جو ہے وہ ایک خطرے کا ضرور شکار ہو سکتا ہے کہ وہ خیر اور شر میں Discriminate یعنی تمیز نہ کر سکنے کی وجہ سے گناہ میں ملوث ہو سکتا ہے۔ اللہ کی یاد میں گم ہو جانے والا پورا مجذوب ہو سکتا ہے لیکن گناہگار بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس اس حالت میں گناہ کی تمیز نہیں ہوتی، اس لیے گناہ کا امکان ہو سکتا ہے۔
اس لیے آپ اس بات کا ہوش کرنا اور خبردار رہنا! کہیں پھر یہ نہ کہنا کہ ہمیں تو گناہ ثواب کا پتہ ہی نہیں چلا تھا۔ یہ ہوشیار رہنے کا مقام ہے کیونکہ اس حالت میں گناہ کے قریب جانے کا امکان ختم نہیں ہوتا۔ پھر یہ نہ کہنا کہ میں اس کے خیال میں گم تھا اور پاؤں کے نیچے کوئی چیز کچلی گئی۔ یہ خیال رہے۔ ہوش قائم رکھنا! تو "اللہ" کے خیال میں ہمہ حال گم رہنے والا لاعلمی میں گناہ میں ہاتھ ڈال سکتا ہے، محبت کی حالت میں یہ کر سکتا ہے،
فنافی اللہ کی حالت میں یہ کرسکتا ہے اور خانہ کعبہ کے اندر یہ غلطی ہو سکتی ہے۔ آپ میری یہ وارننگ یاد رکھنا! اس لئے میں آپ کو ساتھ ساتھ ہوشیار کرتا رہتا ہوں۔
“ ان الشيطن للانسان علومبین ” بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
اس لئے آپ ہوش قائم رکھیں اور اللہ کے حوالے سے سفر کرتے جائیں۔ سفر الی اللہ کا مطلب ہے سفر مع اللہ یعنی اللہ کی طرف جانا اللہ کے ساتھ ہی جاتا ہے۔ آپ یہ دعا کیا کریں کہ یا اللہ ہم گناہ نہیں چھوڑ سکتے تو گناہوں کو حکم دے کہ وہ ہمیں چھوڑ دیں ۔۔۔۔
آپ یہ دیکھیں کہ ہم اس وقت یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ محفل ہم کسی اور جگہ بھی منعقد کرتے رہتے ہیں، جگہ بدلتی رہتی ہے، کبھی کسی بزرگ کے ساتھ ، کبھی کسی اور بزرگ کی محفل ہوتی ہے، جو مہربانی کرتا ہے، یہ اسی کی محفل ہوتی ہے۔ ہم بھی یہاں آکر بیٹھ جاتے ہیں اور آپ بھی۔ آپ خالی ہاتھ آکر بیٹھ جاتے ہیں، اسی طرح ہم بھی آ جاتے ہیں۔
پھر آکے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ اس واقعہ کے بارے میں مہربانی فرما تو وہ واقعہ سمجھ آجاتا ہے، کبھی کوئی روح ہوتی ہے اور کبھی کوئی اور میں یہ بتا رہا ہوں کہ یہ کمرہ مبارک ہوتا ہے اور پھر یہاں بیٹھی ہوئی نگاہیں بعض اوقات قریب کے منظر کے اندر اتنا گم ہو سکتی ہیں کہ وہ نیکی اس کے لیے وبال بن جائے۔ میں یہ سمجھا رہا ہوں کہ یہاں بیٹھنے کا لطف جو ہے وہ لذت نفس بھی ہو سکتا ہے یعنی میرے ساتھ تعلق کے بعد اگر آپ کو یہ خیال آئے کہ اسی محفل میں بیٹھے ہوئے کسی اور شخص سے میری اطلاع کے بغیر ملا جائے تو یہ تمنا لذت نفس ہو گی اور خطرہ ہو گا۔
تو ایسا خطرہ خانہ کعبہ تک تعاقب کر سکتا ہے۔ اس لیے آپ یہ خیال رکھیں
کہ نیکی کا نشہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بات ہم آپ کو بڑے وثوق سے بتا رہے ہیں۔ کہیں آپ نیکی کے نشے میں نہ آ جانا اور اس نشے سے آپ ضرور بچ جائیں۔ اللہ کے بتائے ہوئے احکامات یاد رکھنا اور ،،،،
““ لا تقربا لهذه الشجرہ ”” آپ اس ممنوعہ درخت کے قریب مت جانا۔
پرانے احکام جاری رہیں گے۔
آپ اپنی نیکی کو تحریک بناؤ Movement بناؤ اور اسے نشہ نہ بناؤ۔ نیکی تحریک کب بنے گی؟ اجتماعی شکل میں ۔ وگرنہ میں اپنی تنہائی چھوڑ کے آپ کے پاس کیوں آتا۔ جب میری تنہائی آباد ہو گئی تو پھر میں اس شہر میں آبادی کے لئے آیا ہوں۔ شہر تو ویسے آباد ہوتے ہیں۔
اور وہاں بھر پور آبادی ہوتی ہے لیکن وہ آبادی کچھ نہیں ہے۔ سمجھانے والے نے یہ کہا کہ جلوہ تو ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جلوے کو آواز دی جائے۔ ہم یہاں جلوؤں کو الفاظ دیتے ہیں اور یہ سفر بڑا Important ہے، بہت اہم ہے اور آپ اگر الفاظ کو چھوڑ کر جلوے میں داخل ہو جائیں تو بہتر تو یہ ہے کہ ہم واپس اپنے گھر چلے جائیں ۔
آپ میرے ساتھ اس سفر میں الفاظ کی نسبت سے شامل ہیں ورنہ آپ کی اور میری نسبت کوئی نہیں ہے۔ میں اس حد تک آپ کو واضح بات بتا رہا ہوں کہ میری اور آپ کی نسبت "الفاظ" کے ذریعے سے ہے۔ اگر یہ نسبت جلوے کی ہوتی تو میرے لئے جلوہ تو تنہا ہے۔ جلوہ اگر اہم ہوتا تو وہ جلوہ ہی رہتا۔ اللہ نے کہا ہے کہ میں جلوہ تھا اور میں نور تھا، پھر میں نے ارادہ کیا کہ ظاہر ہو جاؤں۔ پھر وہ جلوہ مخفی نہیں رہ سکا۔
تو جلوے کا روبرو رہنا Enough Achievement نہیں ہے، یہ حاصل کافی نہیں ہے۔
اگر ” امت “ گمراہ ہو جائے اور ایک آدمی صاحب جلوہ ہو جائے تو یہ اس شخص کا حاصل نہیں ہے۔ اس لئے آپ لوگ اس بات کا خیال رکھیں کہ ہوش قائم رہے اور اللہ کی طرف سفر جاری رہے۔
اللہ ہم سب پر کرم فرمائے۔
وصلى الله تعالی علی خیر خلقه و نور عرشه سيدنا و مولنا حبيبنا و شفيعنا محمد و آله واصحابه اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین
گفتگو 6 صفحہ نمبر 119 تا 116
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
1 month ago | [YT] | 10
View 1 reply
Load more