Asan Arabi Grammar

The easiest possible ways to learn Arabic Grammar.


Asan Arabi Grammar

ہمارے سکولوں میں بچوں کی شرارتیں، بدتمیزیاں، نالائقیاں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ہر ٹیچر جانتا ہے، ہر ایڈمن باخبر ہے۔ جو جو باتیں ہمارے سکول کے واش رومز میں لکھی ہوتی ہیں، وہ بھی ایک اوپن سیکرٹ ہیں۔
کام نہ کرنا، ڈسپلن نہ رکھنا، لڑائی جھگڑے، سب کچھ ایک عام سی بات ہے۔ عام سی بات تو نہیں ہے، لیکن کیونکہ ہر جگہ ہو رہا ہے، ہر روز ہو رہا ہے، اس لئے اسے روٹین کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ بہت سی چیزیں ختم ہوتی جا رہی ہیں، اور بہت سی باتیں جڑ پکڑ رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بچوں کے بارے میں کوئی نیگیٹو بات کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ نہ کلاس میں، نہ کلاس سے باہر۔ نہ کولیگز میں، نہ گھر والوں سے۔
بہرحال میری کلاس کے بچے بھی کوئی دوسروں سے مختلف نہیں ہیں۔ سیشن کے شروع میں، مجھے لگتا تھا اس سیشن کو گزارنا ناممکن ہے۔ آپ بچے کو نہ پنشمنٹ دے سکتے ہوں، نہ جرمانہ لگا سکتے ہوں، نہ اونچی آواز سے ڈانٹ سکتے ہوں، تو ایسا لگتا ہے آپ پڑھا ہی نہیں سکتے۔ چالیس پینتالیس بچے آخر کس طرح خاموشی سے بیٹھیں، اور آپ کو پڑھانے دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شائد یہ بات معیوب ہو، شائد یہ بات بتانے والی نہ ہو، لیکن میں اس لئے بتا رہا ہوں، کہ اس بات کے پیچھے کوئی نئی اخلاقیات، کوئی نئی فلاسفی چھپی نظر آ رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کلاس میں ڈسپلن قائم کرنے کے طریقے پڑھتا رہتا ہوں۔ آزماتا بھی رہتا ہوں۔ ایک دن جب کلاس میرے کنٹرول سے باہر تھی، دو تین پیرنٹس کی شکائیتیں آ چکی تھیں، اور دو تین ٹیچرز زیر عتاب تھے، میں دوسروں کو دیکھ کر عبرت پکڑنے والا انسان، پہلے ہی سہم چکا تھا۔ میں نے سوچ رکھا تھا، کہ بچے پڑھیں، نہ پڑھیں، انہیں کہنا کچھ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی بار تو ایسا ہوتا ہے، کہ پورا پورا پیریڈ گزر جاتا ہے، اور بچے چپ ہی نہیں کرتے۔ آپ کا منہ چڑاتے ہیں، طرح طرح کی آوازیں نکالتے ہیں، اور مسلسل ہنستے جاتے ہیں۔
اس دن بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی۔
بہرحال کہیں موقع پا کر میں نے کہا:
”میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں آج، اور میرا خیال ہے، اگر میں وہ بات کر لوں، تو میں سمجھوں گا، میں نے آج کے سبق کا خلاصہ سنا دیا ہے آپ کو“۔
ہمارا لیسن ایک سائنس فکشن پر مشتمل تھا۔ بچے تھوڑا سا خاموش ہو گئے۔
”اگر آپ مکمل خاموشی سے وہ بات سن لیں، جو ایک دو جملوں سے زیادہ نہیں ہے، تو مجھے لگتا ہے میں اس کے بعد کوئی بات نہیں کروں گا۔ آپ دل کھول کر ہنسیں اور مسکرائیں“۔
بچے مسکراتے مسکراتے خاموش ہو گئے۔
”آپ کو پتہ ہے میں آپ سے کہا کرتا ہوں، کہ اگر بولنا ہی ہے، تو انگلش میں بولنے کی کوشش کریں۔ بس آج بھی کچھ ایسی ہی بات کر رہا ہوں۔ اگر آپ کا پڑھنے کو دل نہیں کرتا، کام کرنے کو دل نہیں کرتا، تو آپ موبائل استعمال کریں۔ زیادہ سے زیادہ وقت موبائل اور کمپیوٹر کو دیں۔ گھر جا کر آٹھ آٹھ دس دس گھنٹے موبائل استعمال کریں۔ موبائل اور کمپیوٹر کا کوئی ہارڈوئیر سافٹ وئیر ایسا نہیں ہونا چاہئے، جسے آپ جانتے نہ ہوں۔ آپ کا گیمز کھیلنے کو دل کرتا ہے، تو گیمز کھیلیں، ضرور کھیلیں۔ ساری ساری رات کھیلیں۔ اگر یہ کتابیں بور لگتی ہیں، تو نہ پڑھیں۔ لیکن وقت ضائع نہ کریں۔ نہ سکول میں نہ گھر میں“۔
میں حیران تھا کہ کلاس میں ایسے جیسے سپل پھونک دیا ہو۔ بچے پوری طرح متوجہ تھے۔ یہ کون تھا جو انہیں موبائل اور انٹرنٹ یوز کرنے کا کہہ رہا تھا۔ انہوں نے مجھے بولنے دیا ۔
”بچو، موبائل اور انٹرنٹ پر اپنا کیرئر بنائیں۔ پندرہ پندرہ سولہ سولہ سال کے بچے، بلنئیرز بنے ہوئے ہیں۔ آپ بھی بنیں۔ بچو، آپ کو گیمز کا شوق ہے، تو گیمز کھیلیں۔ لیکن ان پر غور بھی کریں۔ ان کے فالٹس نوٹ کریں۔ سوچیں اگر آپ کوئی گیم بنائیں تو کس طرح بنائیں۔ بچو لاکھوں روپے کا کام ہے۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی آئیڈیا آتا ہے، تو سمجھ لیں لاکھوں روپے کا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ جو سائٹ بھی استعمال کریں، یہ سوچ کر کریں، کہ اگر آپ یہ سائٹ بناتے تو کیسی بناتے۔ اگر آپ یہ سافٹ وئیر بناتے تو کیسا بناتے۔ اگر آپ کو کسی چیز میں فالٹ نظر آ رہا ہے، بہتری کی گنجائش نظر آ رہی ہے، تو سمجھ لیں آپ جینئس ہیں۔ آپ اس سے سپیرئر ہیں۔
بچو، اس سے اچھی بات اور کیا ہو گی، کہ آپ کو جس کام میں انجوائمنٹ مل رہی ہو، اس سے انکم بھی آنے لگے۔ آپ کا کیرئر بھی بن جائے“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں، پچھلے ایک ڈیڑھ مہینے میں میرے تجربات بہت خوبصورت رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بچوں کے بارے میں اچھا سوچنے کا انعام دیا ہے۔ آخر چھ مہینے بعد میری کلاسز کا ڈسپلن آئیڈیل نظر آنے لگا ہے۔
بچے کمپیوٹر، موبائل، ارننگ سائٹس، نئے نئے آئیڈیاز، اور گیمز اور سافٹ وئیرز کی باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ میں پندرہ بیس منٹ کتاب پڑھاتا ہوں، اور پھر بچے کہتے ہیں، سر کیرئر میکنگ کی باتیں کرتے ہیں۔ اور ایسے سنتے ہیں، جیسے اور کوئی کام نہ ہو۔ دم سادھ کر۔ پوری توجہ سے۔ کوئی دوسرا بچہ درمیان میں بولے تو اسے اشارے سے چپ کراتے ہیں۔ میں نے بس اتنا ہی کیا ہے نا، کہ بچوں کو اپنی مرضی سے پڑھانے کی بجائے، جیسے وہ پڑھنا چاہتے ہیں، ویسے پڑھانا شروع کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن مجھے ایک بچے نے بتایا، کہ اس نے یوٹیوب چینل بنا رکھا ہے، اور اس کا چینل مونیٹائز بھی ہو گیا ہے۔ اگلے دن میں نے اس بچے کو کلاس کے سامنے بلایا، اور اس سے ریکوئسٹ کی، کہ وہ اپنے ایکسپیرئنس سے دوسرے بچوں کو آگاہ کرے۔
وہ دن ایک عجیب دن تھا۔ اس دن مجھے اندازہ ہوا، کہ یہ بچے کتنے انٹیلیجنٹ اور کتنے سوپر ہیں۔ شائد ہی کوئی بچہ ہو، جس نے بات کرنے کی خواہش ظاہر نہ کی ہو۔ سارا پیریڈ ایک عجیب سی ہلچل میں گزر گیا۔ ہر بچہ بولنا چاہتا تھا۔ ہر بچہ ڈائس پر آ کر اپنے ایکسپیرئنس شئیر کرنا چاہتا تھا۔ میں حیران تھا کلاس کا سب سے خاموش اور سویا رہنے والا بچہ بھی کتنا بیدار تھا۔ وہ موبائل گیمز کا استاد تھا۔ وہ ایسے ایسے سوال پوچھ رہا تھا، کہ میں دنگ رہ گیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اسے اس ڈائس پر کھڑے بچے سے زیادہ علم تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سوچ رہا تھا، ان بچوں کے راستے میں رکاوٹ کیا ہے۔ ہم اساتذہ، سکول ایڈمن اور پیرنٹس۔ بچوں کے خراب ہونے کے خوف سے ہم انہیں خراب کرتے جا رہے ہیں، ہم یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچوں کا صرف ایک فالٹ ہے، صرف ایک قصور ہے، کہ وہ بچے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری پوسٹ بہت لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ شائد میں یہ باتیں پھر کبھی کروں۔ لیکن میں سکول ایڈمن اور پیرنٹس سے التجا کرتا ہوں، کہ وہ بچوں کو غلط کہنے کی بجائے، اور انہیں توڑ مروڑ کر اپنے پیچھے لگانے کی بجائے، انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ وہ بہت عقلمند ہیں۔ ان کی اخلاقیات بہت بہتر ہیں۔ ان کا اعتماد قابل رشک ہے۔ انہیں اپنی زندگی کا مقصد ڈھونڈنے دیں۔ جب مقصد مل جائے گا تو باقی کی عادتیں بھی ٹھیک ہو جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بچوں کی بہتر سمجھ عطا فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ

2 years ago | [YT] | 0

Asan Arabi Grammar

میں آنلائن کام کیوں ڈھونڈ رہا ہوں، آنلائن ٹیچنگ کیوں نہیں ڈھونڈ رہا؟ یہ ایک کوئسچن ہے جو میں بھی اچھی طرح سے جواب نہیں دے سکتا۔
میں نے اپنے کولیگز اور فرینڈز میں کئی بار اس کا اظہار کیا ہے، کہ مجھے لگتا ہے بطور ٹیچر میرے پاس ایسا کچھ بھی نہیں جو میں اپنے سٹوڈنٹس کو دے سکوں۔ میں تو پچھلے کئی مہینوں سے محسوس کر رہا ہوں، کہ فیسبک پر لکھنے کے لئے بھی میرے پاس کچھ نہیں ہے۔
نیو جنریشن ایک اپنی ہی سائیکالوجی لے کر پیدا ہوئی ہے، اور اس کی اپنی ہی ترجیحات ہیں۔ ان کی اخلاقی اور معاشرتی اقدار بھی اپنی ہی ہیں۔ اور ٹھیک ہیں۔
انہیں غلط کہنا بہت بڑی غلطی ہے۔
خاص طور پر جب مجھے معلوم ہو، کہ میرے پاس انہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے، تو انہیں غلط کہنا، اور بھی سنگین غلطی ہے۔
ہم جو چیزیں استعمال کرتے ہیں، اور جو کھاتے پیتے ہیں، ان سے اخلاقی اقدار پیدا ہوتی ہیں۔ نئی چیزوں سے نئی اقدار پیدا ہوتی ہیں۔
آپ کے ذہن میں یہی ہو گا، کہ میں انہیں صحیح تربیت سے روشناس کرواؤں، اور ٹیکنالوجی سے دور رہنے کا مشورہ دوں۔ آپ خود سوچیں، یہ کس طرح ممکن ہے، اور اس کا فائدہ کیا ہے۔ دنیا کا روٹی پانی بہرحال ٹیکنالوجی کو سیکھ کر چل رہا ہے، اور ٹیکنالوجی کی اپنی ایک تربیت ہے۔ میں اپنی تصوراتی صحیح تربیت کو ٹیکنالوجی کی حقیقی صحیح تربیت سے ٹکرانا نہیں چاہتا۔ اگر آپ انہیں ایک ایسی تربیت سکھائیں گے، جس پر کوئسچن کرنا بدتمیزی ہے، تو آپ خود سوچ لیں، آپ ان کی کتنی بہتری چاہ رہے ہیں۔ انہیں کتنے بڑے خطرے میں دھکیل رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بچوں کے مسائل سمجھنے کی خوش قسمتی عطا فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ

2 years ago | [YT] | 0

Asan Arabi Grammar

ابھی مفتی طارق مسعود کے فتنے سے نکلے نہیں تھے، کہ ذاکر نائک صاحب تشریف لے آئے۔ اور ابھی ان سے شروع ہونے والے مسائل حل نہیں ہوئے تھے، کہ پنجاب کالج کا ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
میرا تو زندگی سے ہی دل اچاٹ ہو چکا ہے۔ پتہ نہیں اس میں کچھ سچ بچا بھی ہے کہ نہیں۔ مجھے تو اپنے آپ سے بھی گھن آنے لگی ہے۔ مجھے لگتا ہے اگر پڑھنے والوں کو مجھے قریب سے دیکھنے کا موقع ملے، تو مجھ پر بھی تھوتھو کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے دنوں مجھے کسی نے ایک لنک بھیجا۔ پہلے بھی کئی بار دھوکا کھا چکا تھا، اس بار سوچا شائد کچھ ٹھیک ہو۔ بھیجنے والا بہت اعتبار کا آدمی لگ رہا تھا۔
لنک کھولا تو اس میں آن لائن سروے، ڈیٹا اینٹری اور ایپ رویوز کے کچھ پروگرام تھے۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کچھ ٹھیک ہے۔ دو سو ڈالر کا کام ہو جانے کے بعد، پیسے نکال سکتے تھے۔ میں نے سات آٹھ گھنٹے لگا کر دو سو ڈالر کے سروے، ڈیٹا انٹری اور ایپ رویوز وغیرہ کا کام مکمل کیا تو میسیج آیا، اس سائٹ کا لنک تیس دوستوں کو بھی بھیجنا ہے۔
یہاں تک پہنچتے پہنچتے میں اس سائٹ پر موجود ہر لنک چیک کر چکا تھا۔ ان کا یہ میسیج دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا، کہ یہ فراڈ ہے۔
وہ بس انہی چار پانچ سروے اور ایپ رویوز میں گھمائی جا رہے تھے۔ ہر پیج پر ایک ہی قسم کے لوگوں کے رویوز تھے۔ جو لوگ اس سائٹ پر پیسہ بنا چکے تھے، ان کے لنک بھی کام نہیں کر رہے تھے۔ سب جھوٹ اور فیک تھا۔
میں رات دس بجے سے لے کر صبح آٹھ نو بجے تک اس سائٹ پر کام کرتا رہا۔ دو سو ڈالر کا کام۔ بڑی مشکل سے رات دو تین گھنٹے سونے اور نماز پڑھنے کے نکالے۔ وہ بھی قضا کی طرح ہی ادا ہوئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے خیال آیا میں نے اس سائٹ کی طرح، بہت سی سائٹس پر وقت ضائع کیا ہوا ہے۔ زندگی کا اچھا خاصہ بڑا حصہ آن لائن کام کی تلاش میں ضائع ہوا ہے۔
مجھے خیال آیا میں نے بہت سے فلسفے بھی، ان سائٹس کی طرح ہی چیک کیے ہوئے ہیں۔
بہت سے مذہبی، اخلاقی، سیاسی، معاشرتی فلسفے اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی لگا دیتے ہیں، اور نکلتا کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ یقین ملتا ہے، نہ سکون۔ جو چیزیں بنائی ہی دھوکا دینے کے لئے ہوں، ان میں سے سچ نے کیا نکلنا ہے۔ جھوٹ کی بنیاد پر گھڑے ہوئے فلسفے کس کام کے۔ ہم اللہ تعالیٰ کو جتنے مرضی واسطے وسیلے دے لیں، اسے تو پتہ ہے۔
سچ صرف اتنا ہی نظر آیا ہے۔
اَللَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح کے جھوٹوں سے محفوظ فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ

2 years ago | [YT] | 1

Asan Arabi Grammar

جب کسی چیز کو بچانے کے لئے جاہل کھڑا ہو گا، تو وہ جہالت کو بچا رہا ہو گا۔ جب ظالم کھڑا ہو گا، تو ظلم کو بچا رہا ہو گا۔ جب عالم کھڑا ہو گا تو علم کو بچا رہا ہو گا۔
جب بے عمل کھڑا ہو گا تو بے عملی کو بچا رہا ہو گا۔
جب کسی چیز کو بچانے کے لئے کوئی کھڑا ہو، تو دیکھیں اس کا کردار کیسا ہے۔ معاشرے نے اسے کس نام سے پکارنا شروع کر رکھا ہے۔ بس وہ اسی چیز کو بچا رہا ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سننے، سوچنے، سمجھنے کی خوش قسمتی عطا فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ

2 years ago | [YT] | 0

Asan Arabi Grammar

زندگی میں سکون کس طرح آ سکتا ہے، بے سکونی کیسے دور ہو سکتی ہے۔ اطمئنان کیسے مل سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے کبھی سوچا اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس کس چیز کی محبت دی ہوئی ہے۔
آپ نے کبھی سوچا آپ کو کس کس سے محبت ہے۔ آپ نے کبھی رشتوں، جگہوں، چیزوں، مقاصد، خواہشات، تصورات، جذبات وغیرہ پر غور کرنے کی کوشش کی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس کس چیز میں محبت دے رکھی ہے۔
ہو سکتا ہے آپ گن نہ سکیں۔
انسان کو اپنے ماں باپ مسکراتے دیکھنے سے محبت ہوتی ہے، لائف پارٹنر کی خواہشات پوری ہونے سے محبت ہوتی ہے، بچوں کو ہنستے کھیلتے دیکھنے سے محبت ہوتی ہے۔ گھر کے ماحول سے محبت ہوتی ہے۔ آپ غور تو کریں کیسا سوچنا اچھا لگتا ہے، کیسا محسوس کرنا اچھا لگتا ہے۔ کیسے خواب، کیسے مقاصد، کیسے تصورات اچھے لگتے ہیں۔ کیسے لمحے اچھے لگتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی میں بہت محبت دی ہے۔ اس کا شکر ہے۔ میں گننے بیٹھوں تو گن نہیں سکتا۔ واقعی نہیں گن سکتا۔
لیکن دو چیزوں کی محبت سرفہرست ہے۔
قرآن پاک سے، اور اپنے بچوں کو ہنستے مسکراتے دیکھنے سے۔
مجھے اپنی بیوی اور بیٹی کی خوشی اچھی لگتی ہے۔
مجھے اپنے چھوٹے بھائی کی خوشی بڑی عزیز ہے۔
مجھے دوستوں میں بیٹھنا بہت اچھا لگتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں قرآن پاک پڑھنے بیٹھوں تو میرا دل کرتا ہے پڑھتا ہی جاؤں۔ میرا دل ہی نہیں بھرتا پڑھ پڑھ کر۔ میں کئی بار سوچتا ہوں، زندگی گزارنے کے لئے تو اتنا ہی کافی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی وہ محبتیں ہیں جو مقدار میں بے حد و بے کنار ہیں۔ باقی ان محبتوں کے ساتھ جڑی ہوئی محبتیں ہیں، جو تعداد میں بے شمار ہیں۔ بعض دفعہ تو ایسے لگتا ہے زندگی محبت میں گندھی ہوئی ہے۔ شائد اللہ تعالیٰ کی نعمتیں محبتیں ہی ہیں۔ جو جو کچھ بھی اچھا لگتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، عنایت ہے۔ اس کی محبت ہے۔ شائد ہمیں ہر اس چیز سے محبت ہوتی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے محبت سے دی ہوتی ہے۔ زندگی میں ان چیزوں کو دیکھیں جن سے آپ کو محبت ہے، آپ کو اللہ تعالیٰ سے محبت محسوس ہو گی۔ زندگی میں جو کچھ بھی اچھا لگے، اسے اگنور نہ کریں، چاہے وہ الفاظ ہوں، سوچ ہو، تصور ہو، یاد ہو، احساس ہو، حسرت ہو، خواہش ہو، مقصد ہو، کوشش ہو۔ جو کچھ بھی ہو۔ زندگی کی خوبصورت ترین کوششوں میں سے اپنے ماں باپ یا اپنے بیوی بچوں کے لئے کچھ کرنے کی کوششیں سب سے بلند ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہی سب کا احساس سکون اور اطمئنان کا منبع ہے، سرچشمہ ہے۔ اپنے سکون اور اطمئنان کو ڈسکور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آپ کو مثبت رکھنے کی خوش قسمتی عطا فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ

2 years ago | [YT] | 0

Asan Arabi Grammar

بعض دفعہ بندہ دیکھتا ہے لوگوں کے پاس کتنے پیسے ہیں، کوئی حساب کتاب بھی نہیں ہے، اور ایک میں ہوں کہ کبھی آسودگی نہ دیکھی، کبھی بے فکری نہ آئی، ہر وقت ایک سہم سا لگا رہا، پیسے ختم ہو رہے ہیں، ختم ہو چکے ہیں، کہاں سے مانگوں، کیا کروں۔
بندہ دیکھتا ہے لوگوں کی کتنی عزت ہے، کیسے سلام ہوتے ہیں، کیسے مسندوں پر بٹھائے جاتے ہیں، کیسے انتظار کیے جاتے ہیں، اور ایک میں ہوں کہ جو چاہے اٹھا دے، جہاں چاہے بیٹھنے کا کہہ دے۔
بندہ لوگوں کے عالیشان گھروں کو دیکھتا ہے، خوشیوں کو دیکھتا ہے، کیسے سب کچھ مل گیا ہوا ہے، اور ایک میں ہوں کہ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر ایسے ہی کسی لمحے میں اس کے اندر ایک ہلکی سی سرگوشی ہوتی ہے، ”تمہیں بھی تو اللہ نے بہت کچھ دے رکھا ہے۔ اپنی محبت دی ہے۔ قرآن پاک کی محبت دی ہے۔ نماز کی محبت دی ہے“۔
بندہ اپنی سوچ میں کچھ خاموش ہو جاتا ہے۔
”کیا یہ سب کچھ ان عالیشان کوٹھیوں، عہدوں اور ضیافتوں کے برابر ہے؟“
”یہ محبت اتنی زیادہ تو نہیں ہے“، بندہ سوچتا ہے۔
”اچھا یہ محبت ان کو مل جائے، اور ان کے عہدے اور محل تمہیں مل جائیں تو ٹھیک ہے؟“، کوئی مذاق کرتا ہے۔
بندہ کانپ سا جاتا ہے۔ ”نہیں نہیں، میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ میں تو یونہی سوچ رہا تھا“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بندہ سوچتا ہے، دنیا سے جا رہا ہوں، اور قرآن پاک کی محبت دل میں ہے، نماز کی محبت دل میں ہے۔
بندہ سوچتا ہے جو چھوٹی موٹی نوکری ہے، وہ بھی اتار کر دور پھینک دی ہے۔ جو ایک ڈیرھ مرلے کا مکان ہے، وہ بھی وار کر پھینک دیا ہے۔
بس نماز اور قرآن پاک کی محبت رکھ لی ہے۔ وہ بھی جتنی ملی، اتنی ہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو نمازوں اور تلاوتوں کی محبت سے شاد اور آباد فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ

2 years ago | [YT] | 1

Asan Arabi Grammar

پانچ وقت نماز ہے، چھٹی تہجد ہے۔
جتنا آسانی سے پڑھ سکے، قرآن پاک کی تلاوت ہے۔
رمضان کے روزے ہیں۔
صدق مقال اور رزق حلال ہے۔
اگر صاحب نصاب ہو تو زکوٰۃ ہے۔
اگر استطاعت رکھتا ہو تو حج ہے۔
اور لوگوں سے حسن سلوک ہے۔
منکرات سے پرہیز۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہے ایک سادہ سی ابتدا۔ ٹوٹل ایک ڈیڑھ گھنٹہ روزانہ سے زیادہ نہیں ہے۔ باقی سارا وقت رزق حلال کے لئے ہے۔ باقی سارا وقت لوگوں سے حسن سلوک کے لئے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی سارا وقت غور و فکر اور تدبر اور ایجادات اور ڈسکوریز کے لئے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دین اسلام کا ایک مختصر سا خاکہ ہے۔ اگر ساری زندگی کوئی اتنا بھی کر لے تو کمال ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اگر دین کے راستے پر آگے بڑھنے کا شوق ہو تو کیا کرے۔
ایک طریقہ تو یہ ہے، کہ انہی کاموں میں توجہ اور انہماک زیادہ کرے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ذکر اذکار، اوراد و وظائف کی کثرت کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دین پر آگے بڑھنے کی کوشش میں پہلا طریقہ استعمال میں لائیں یا دوسرا، کائنات میں غور و فکر اور تدبر، اور ایجادات اور ڈسکوریز سے ہاتھ کھینچنا پڑتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر بندہ دین پر آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتا، اور وہی کرتا رہتا ہے جو ضروری ہے، جو فرض ہے، تو اسے محسوس ہوتا ہے، اس کی توجہ نہیں ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے، یہ سب کچھ وہ دل سے نہیں کر رہا۔ اکثر وہ یہ سب کچھ ترک کر دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہے وہ ایک مسئلہ جو ہم نےحل کرنا ہوتا ہے ساری زندگی میں ، اور جو حل نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کے مسائل حل کرنے کی خوش قسمتی عطا فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ

2 years ago | [YT] | 0

Asan Arabi Grammar

میں اکثر بچوں کو مستقبل کا سوچنے پر اکساتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اگر وہ مستقبل کے بارے میں سوچیں گے، تو ان میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو گا۔ میں انہیں اکثر اس وقت کے بارے میں سوچنے اور لکھنے کا کہتا ہوں، جب وہ بڑے ہو چکے ہوں گے، بیس تیس چالیس سال کے ہو چکے ہوں گے، اس سے بھی بڑے ہو چکے ہوں گے، کہ اس وقت زمانہ کیسا جا رہا ہو گا، کتنی ترقی ہو چکی ہو گی، کون کون سی چیزیں ایجاد ہو چکی ہوں گی۔ میں بعض دفعہ انہیں دو سو سال، چار سو سال یا ہزار سال بعد کا بھی کہتا ہوں، کہ سوچیں اس وقت کیا کچھ ایجاد ہو چکا ہو گا۔ انسان کیسے رہ رہا ہو گا۔ زندگی کیسے گزر رہی ہو گی۔
میرا مقصد بس اتنا ہوتا ہے، کہ بچوں میں آگے دیکھنے کی، آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ میرا خیال ہے، کہ آگے سوچنے والے دماغوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ ایجادات، ڈسکوریز، ایکسپلوریشنز کے خیالات آتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن بعض دفعہ اندر ہی اندر میں کہیں اور پہنچ جاتا ہوں۔ بچوں کو ففٹین، ٹونٹی، تھرٹی سنٹنسز لکھنے کا کہہ کر میں سوچنے لگتا ہوں، پچاس سال بعد، سو سال بعد، دو سو، پانچ سو، یا ہزار سال بعد، اسلام پر عمل کرنا کتنا مشکل یا آسان ہو چکا ہو گا۔ اس وقت لوگوں کی زندگی میں اسلام کس شکل میں زندہ ہو گا۔ اس وقت تبلیغ کرنے والے کیا تبلیغ کر رہے ہوں گے۔ میرے ذہن میں بہت کچھ گڈمڈ ہونے لگتا ہے۔ اگر پندرہ سو سال بعد والا اسلام آج والا اسلام نہیں ہو سکتا، تو آج والا اسلام پندرہ سو سال پہلے والا اسلام کس طرح ہو سکتا ہے۔ زمانے اور اسلام کا کلیش کہاں ہے۔ کس طرح کا اسلام ہر دور میں زندہ اور قابل عمل ہو سکتا ہے۔ جب آنے والے وقت میں کچھ چیزیں ناقابل عمل ہو جائیں گی، تو آج بھی کچھ چیزیں ناقابل عمل ہو چکی ہوں گی۔ ہم کب تک اسلام نافذ کرنے کے لئے اپنے آپ کو، اپنے ملک و قوم کو، اپنے زمانے کو پیچھے کی طرف چلانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ دنیا تو آگے بڑھتی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دل و دماغ کو قابل عمل افہام و تفہیم عطا فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ

2 years ago | [YT] | 0

Asan Arabi Grammar

ایسے لگتا ہے جیسے ساری عبادتوں، سارے عملوں کا بس ایک ہی مقصد ہے، کوئی دل کی حالت پیدا کرنا، جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔
دل کی ایسی کون سی حالت ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، اور جسے پیدا کرنے اور دیکھنے کے لئے، اس نے مالی، بدنی، فرض یا نفلی عبادات کا بتایا، ایسے معاشرتی، معاشی، خانگی، اور ذاتی اعمال کا بتایا، جو دل کی اس حالت کو پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
دل کی ایسی کون سی حالت ہے، غور کرنے پر یہی محسوس ہوتا ہے، کہ دوسروں سے سلوک اور رویے کی کوئی حالت ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ ایک انسان کا دوسرے انسانوں سے اچھا سلوک اور رویہ۔ اسی میں نیکی ہے، اور اسی میں اللہ تعالیٰ کا قرب و خوشنودی۔
ایسا لگتا ہے جیسے حساب و کتاب اسی کا ہونا ہے۔ یہ سلوک اور رویہ کتنا اچھا تھا۔ ایسے لگتا ہے جیسے سارے دین کا مقصد یہی ہے۔ اسی میں باقی سب کچھ مضمر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دوسرے انسانوں سے اپنے رویوں کی خوبصورتی کا احساس نصیب فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ

2 years ago | [YT] | 0

Asan Arabi Grammar

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں جب کوئی کلمہ پڑھتا تھا تو اسے یہ احساس ملتا تھا، کہ اس سے پہلے وہ کتنا ہی غریب اور انپڑھ کیوں نہ تھا، اب کلمہ پڑھ کر وہ امیر ترین اور عقلمند ترین کافروں اور مشرکوں سے بلند ہو چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ان سب پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔
فضیلت کا معیار بس ایمان تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بعد میں جب ایک دوسرے کے ایمان پر تنقید کرنی شروع کر دی، اسے ناقص اور نامکمل ثابت کرنا شروع کر دیا، جو کہ کسی نہ کسی طرح آج تک جاری ہے، تو فضیلت کا معیار ایک مرتبہ پھر دولت اور مرتبہ اور عہدہ بن گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات یہ ہے کہ کلمہ پڑھ کر کلمے کی فضیلت سب پر عیاں ہو جاتی تھی، اب کلمے سے بڑی کوئی چیز نہیں تھی۔ لیکن جب اعمال کو کلمے پر فوقیت دی جانے لگی، اور کلمے کی بجائے اعمال کو دیکھنا شروع کر دیا گیا، تو اعمال تو نا ختم ہونے والا سلسلہ تھے۔ ایک ایسا سمندر جس کی نہ گہرائی کا اندازہ تھا، نہ کناروں کا۔
اعمال کو پرکھنے کا معیار ہر ایک کا علیحدہ تھا۔ کوئی کسی معیار پر پورا اترتا ہی نہیں تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اعمال بھی گئے، اور کلمہ کی اہمیت بھی ختم ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آج بھی کسی طریقے سے بندے کو یہ احساس ہو جائے، اور اسے یہ احساس کرایا جائے، اور اسے یہ احساس ہونے دیا جائے، کہ کلمہ پڑھ کر وہ کتنا معتبر ہو چکا ہے، اور کلمہ نہ پڑھنے والوں سے کتنا بہتر ہو چکا ہے، اور اس طرح کے ہی دوسرے رحمت اور فوقیت اور برتری کے احساسات محسوس کرنے دیے جائیں، کہ اللہ تعالیٰ اسے چن چکا ہے، اسے فضیلت دے چکا ہے، اسے دوسرے بہت سے لوگوں سے ممتاز کر چکا ہے، تو اس کی کمیاں، کوتاہیاں، خامیاں اپنے آپ دور ہو جاتی ہیں۔ بس وہ اپنے اس احساس کو زندہ رکھے، اسے نہ مرنے دے، اسے نہ ختم ہونے دے۔ بس وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ سمجھنے لگے، اللہ تعالیٰ کا محبوب اور منتخب۔ بس وہ اپنے نقائص اور خامیوں کو نہ دیکھے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دیکھے، کہ کس طرح اس نے اسے ممتاز اور سرفراز فرمایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضرورت اس بات کی ہے، کہ کلمہ پڑھنے، ایمان لانے، اور مسلمان ہونے کے فضائل گنوائے جائیں، اچھائیوں اور خوبیوں کی بات کی جائے، اور خوشخبریاں سنائی جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دل و دماغ کو کلمہ اور ایمان کی حلاوت اور خوبصورتی محسوس کرنے کی خوش قسمتی عطا فرمائے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حاوی شاہ

2 years ago | [YT] | 4