Asalam u laikum friends ,
this is islamic channel and we upload own recorded videos bayanat naat etc day by day so subscribe the channel for new update thanks ,
And we can't upload any copyright materials if any one any complain so they can easily contact with me with my number...
0324-9129006
QAFILA E HAQ ®
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حضرت مولانا مسیح اللہ خان رحمہ اللہ کے حالات میں لکھتے ہیں
ایک نو مسلم طالب علم کی تمام ضروریات کی کفالت آپ نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی ، وہ طالبعلم کچھ عجیب طبیعت کے واقع ہوئے تھے، جب ان کے جی میں آتا، عین مجلس میں آ کر ایسی باتیں حضرت والا سے کہہ دیتے جو سننے والوں کو گستاخانہ معلوم ہوتیں، دکان داروں سے قرض کر لیتے ، اور پھر آ کر تقاضا کرتے کہ مجھے پیسے چاہئیں..
ایک مرتبہ مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے جوتے ٹوٹ گئے ہیں، اور بنوادیجئے حضرت نے فرمایا کہ ابھی تو خرید کر دیئے تھے، تھوڑے سے ٹوٹے ہونگے ، مرمت کروادی جائیگی انہوں نے کہا ” ہمیں معلوم نہیں ، آپ دیکھ لیجئے
آپ نے فرمایا: ” لاؤ، دیکھ لوں اس پر انہوں نے کہا کہ ”وہ ہیں باہر آپ دیکھ لیجئے انکے اس جواب پر حضرت والا مجلس سے اٹھ کر دھوپ میں باہر تشریف لائے جہاں بہت سے جوتے رکھے تھے۔ چونکہ آپکو انکے جوتے کی پہچان نہیں تھی ...
اس لئے مختلف جوتے اٹھا اٹھا کر فرماتے رہے کہ یہ تمہارے جوتے ہیں؟“ اور وہ صاحب اندر ہی اندر سے انکار کرتے رہے... بالآخر جب دیر گزر گئی تو حاضرین میں سے کسی صاحب نے ان سے کہا کہ تم سے اتنا بھی نہیں ہوتا آگے بڑھ کر دکھلا دو اس پر انہوں نے اپنے جوتے دکھائے اور حضرت نے مرمت کیلئے پیسے دیئے ۔
کسی نے ان صاحب کے بارے میں حضرت سے عرض کیا کہ .... یہ صاحب ایسی بے تکی باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ حضرت نے فرمایا کہ بھائی حضرت تو سب لوگ کہتے ہیں، کوئی ایسا بھی تو ہو جس سے میں اپنے آپ کو سنبھالتا رہوں ، اور میری اصلاح ہوتی رہے ... (اصلاحی خطبات )
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_محمد_تقی_عثمانی
#دارالعلوم_دیوبند
#MuftiTaqiUsmani
#DarulUloomDeoband
#qafilaehaq
@qafila_e_haq
1 week ago | [YT] | 148
View 2 replies
QAFILA E HAQ ®
مولانا اسماعیل شہید نے ایک عالم سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص فرش پر بیٹھا ہو اور قرآن کو رحل پر رکھے ہوئے پڑھ رہا ہو اور دوسرا آدمی پلنگ پر پیر لٹکا کر بیٹھ جاوے یہ جائز ہے یا نہیں؟ مولوی صاحب نے کہا جائز نہیں کیونکہ اس میں قرآن کی بے ادبی ہے۔ مولانا اسماعیل صاحب نے فرمایا کہ اگر قرآن کے سامنے کھڑا ہو جائے تو یہ کیسا؟ کہا یہ جائز ہے مولانا نے فرمایا کہ دونوں صورتوں میں فرق کیا ہے چار پائی پر بیٹھنے میں اگر بےادبی پیروں کی ہے تو پیر تو پلنگ پر بیٹھنے والے کے بھی نیچے ہیں اور اگر بے ادبی سرین کے اونچے ہونے سے ہے تو سرین کھڑے ہونے والے کے اونچے ہیں وہ مولوی صاحب حیران ہو کر خاموش ہو گئے ( فرمایا حضرت سیدی مرشدی حکیم الامت رحمہ اللہ نے کہ اگر فقیہ ہوتے تو کہہ دیتے کہ ادب کا مدار عرف پر ہے اور عرف میں پہلی صورت کو بے ادبی اور دوسری کو ادب شمار کیا جاتا ہے۔
مولانا اسماعیل شہید کے مزاج میں شوخی یعنی زندہ دلی بہت تھی اس لئے ان کے یہاں ایسے ایسے لطیفے اکثر ہوتے رہتے تھے۔ جن کا جواب کوئی ان ہی جیسا دے سکتا تھا۔ ہر شخص نہ دے سکتا تھا۔ ہمارے (یعنی مولانا مرشدی حکیم الامۃ شاہ محمد اشرف علی صاحب کے ماموں امداد علی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ شوخی مزاج دلیل ہے
نفس کے مردہ ہونے اور روح کے زندہ ہونے کی اور متانت دلیل ہے روح کے مردہ ہونے اور نفس کے زندہ ہونے کی اسی لئے اکثر اہل اللہ شوخ مزاج یعنی زندہ دل ہوتے ہیں ...
( وعظ آداب المصائب )
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#qafilaehaq
@QafilaeHaqPashto
@qafila_e_haq
2 weeks ago | [YT] | 84
View 0 replies
QAFILA E HAQ ®
شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ اپنے خطبات میں فرماتے ہیں۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں ... چاروں طرف پولیس تلاش کرتی پھر رہی ہے اور آپ چھتہ کی مسجد میں تشریف فرما ہیں وہاں پولیس پہنچ گئی ... مسجد کے اندر آپ اکیلے تھے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کا نام سن کر ذہنوں میں تصور آتا تھا کہ ... آپ بہت بڑے عالم ہیں تو آپ شاندار قسم کے لباس اور جبہ قبہ پہنے ہونگے وہاں تو کچھ بھی نہیں تھا۔ آپ تو ہر وقت ایک معمولی لنگی ایک معمولی کرتہ پہنے ہوئے تھے جب پولیس اندر داخل ہوئی تو یہ سمجھا کہ یہ مسجد کا کوئی خادم ہے۔ چنانچہ پولیس نے پوچھا کہ مولانا محمد قاسم صاحب کہاں ہیں؟ آپ فورا اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور ایک قدم پیچھے ہٹ کر کہا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو یہاں تھے اور اس کے ذریعہ اس کو یہ تاثر دیا کہ اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں۔ لیکن زبان سے یہ جھوٹا کلمہ نہیں نکالا کہ ... یہاں نہیں ہیں چنانچہ وہ پولیس واپس چلی گئی۔
اللہ تعالی کے بندے ایسے وقت میں بھی جبکہ جان پر بنی ہوئی ہو اس وقت بھی یہ یہ خیال رہتا ہے کہ زبان سے کوئی غلط لفظ نہ نکلے زبان سے صریح جھوٹ نہ نکلے اور اگر کبھی مشکل وقت آجائے تو اس وقت بھی توریہ کر کے اور گول مول بات کر کے کام چل جائے یہ بہتر ہے۔ البتہ اگر جان پر بن جائے جان جانے کا خطرہ ہو یا شدید ناقابل برداشت ظلم کا اندیشہ ہو اور توریہ سے اور گول مول بات کرنے سے بھی بات نہ بنے تو اس وقت شریعت نے جھوٹ بولنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ لیکن اس اجازت کو اتنی کثرت کے ساتھ استعمال کرنا جس طرح آج اس کا استعمال ہو رہا ہے۔ یہ سب حرام ہے اور اس میں جھوٹی گواہی کا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اس سے حفاظت فرمائے آمین۔ (اصلاحی خطبات جلد ۳ ص ۱۵۲)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#qafilaehaq
@qafila_e_haq
1 month ago | [YT] | 75
View 0 replies
QAFILA E HAQ ®
مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد منیر صاحب ایک مرتبہ مدرسہ کے اڑھائی سو روپے لے کر مدرسہ کی سالانہ روداد طبع کرانے کے لیے دہلی تشریف لے گئے۔ اتفاق سے روپے چوری ہوگئے۔ مولوی صاحب نے اس چوری کی کسی کو اطلاع نہیں کی اور مکان آ کر اپنی کوئی زمین وغیرہ بیع کی اور اڑھائی سو روپے لے کر دہلی پہنچے اور کیفیت چھپوا کر لے آئے۔ کچھ دنوں بعد اس کی اطلاع اہل مدرسہ کو ہوئی ۔ انہوں نے مولانا گنگوہی کو واقعہ لکھا اور حکم شرعی دریافت کیا وہاں سے جواب آیا کہ مولوی صاحب امین تھے اور روپیہ بلا تعدی کے ضائع ہوا ہے اس لیے ان پر ضمان نہیں... اہل مدرسہ نے مولانا محمد منیر صاحب سے درخواست کی کہ آپ روپیہ لے لیجئے اور مولانا کا فتوی دکھلا دیا۔ مولوی صاحب نے فتوی دیکھ کر کہا میاں رشید صاحب نے فقہ میرے ہی لیے پڑھا تھا اور کیا یہ مسائل میرے ہی لیے ہیں ذرا اپنی چھاتی پر ہاتھ رکھ کر تو دیکھیں اگر ان کو ایسا واقعہ پیش آتا تو کیا وہ بھی روپیہ لے لیتے جاؤ لے جاؤ اس فتویٰ کو میں ہر گز دو پیسے بھی نہ لوں گا۔
(ارواح ثلاثہ آپ بیتی)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#دارالعلوم_دیوبند
#qafilaehaq
@qafila_e_haq
1 month ago | [YT] | 75
View 0 replies
QAFILA E HAQ ®
حضرت اقدس مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کا شرف جن لوگوں کو حاصل ہوا وہ جانتے ہیں کہ حضرت کی ریش مبارک خاصی دراز تھی لیکن اس کی وجہ کیا تھی اس بات کا علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ عرصہ ہوا خان پور ضلع رحیم یار خان میں ایک بڑا تبلیغی جلسہ ہوا جبکہ حضرت اقدس خلیفہ غلام محمد صاحب دین پوری رحمہ اللہ علیہ حیات تھے اور حضرت اقدس امروٹی رحمۃ اللہ علیہ بھی، حضرت امروٹی شریک جلسہ ہوئے ۔ آپ نے ایک اجلاس میں مختصر سا خطاب بھی فرمایا... ایک دو آیتیں پڑھ کر سندھی زبان میں ترجمہ و تشریح فرمائی ... پھر انہیں آیات پر مفصل بیان حضرت لاہوری کا ہوا اور وہ بیان اتنا نورانی اور معارف سے پُر تھا کہ حضرت دین پوری رحمۃ اللہ علیہ بے حد متاثر ہوئے۔ حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ فارغ ہوئے تو حضرت اقدس دین پوری رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں گلے سے لگا لیا اور ان کی داڑھی پر بوسہ لیا. حضرت لاہوری یہی چاہتے تھے کہ داڑھی کے جن بالوں کو سید العارفین کے ہونٹ چھو چکے ہیں
وہ قبر میں ساتھ جائیں ... بروایت حضرت مولانا محمد صادق صاحب بہاول پوری رحمۃ اللہ علیہ)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مولانا_احمد_علی_لاہوری
@qafila_e_haq
1 month ago | [YT] | 125
View 4 replies
QAFILA E HAQ ®
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کے پاس ایک شخص آئے اور عرض کیا کہ ایسا وظیفہ بتلادیجیے گا کہ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوجائے ۔حضرتؒ نے فرمایا کہ: آپ کو بڑا حوصلہ ہے! ہم تو اس قابل بھی نہیں کہ روضۂ مبارک کے گنبد شریف ہی کی زیارت نصیب ہوجائے۔ اللہ اکبر ! کس قدر شکستگی وتواضع کا غلبہ تھا۔ (ملفوظات حکیم الامت :۱/۸۰)
میں (مولانا اشرف علی تھانوی) جب عازمِ سفرِ حجاز ہوا تو ایک بارحاضری کے بعد عریضے کے ذریعے سے حضرت قدس اللہ سرہٗ کی خدمت میں اپنی تیاریِ سفر کی اطلاع کی۔ حضرت کا جو جواب آیا، اس میں لکھا تھاکہ وہاں حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچ کر مجھ کوبھی یاد رکھنا، اور یہ شعر تحریر فرمایا:
چوں باحبیب نشینی و بادہ پیمائی
بہ یاد آر حریفاں بادہ پیما را
’’جب دوست کے ساتھ بیٹھ کر جام پیو تو اپنے حریفوں کوبھی یاد کرنا۔‘‘
اس سے حضرت قدس اللہ سرہٗ کا کمالِ تواضع ظاہر ہے کہ ایسے نااہل سے ایسی فرمائش! یہ قصہ بعینہ مشابہ اس کے ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت عمرے کی مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے میرے بھائی! ہم کو بھی دعا میں شریک کرنا، بھولنا مت۔ پس تواضع کے ساتھ کمالِ اتباعِ سنت بھی اس قصے سے ثابت ہے۔ (یادِ یاراں، ص:۲۳، مشمولہ: میرے اکابر )
حضرت مولانا گنگوہیؒ ایک مرتبہ حدیث پڑھا رہے تھے کہ بارش آگئی، سب طلبہ کتابیں لے لے کر اندر بھاگے، مگر مولانا سب طلبہ کی جوتیاںجمع کررہے تھے کہ اُٹھا کر لے چلیں! لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو کٹ گئے۔ (ملفوظات حکیم الامت:۱۱/۷۹)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#qafilaehaq
@qafila_e_haq
2 months ago | [YT] | 100
View 2 replies
QAFILA E HAQ ®
مفتی محمد زرولی خان صاحبؒ نے ایک دن فرمایا:
محلے کی عورتوں نے ایک دن درخواست کی:
"مولانا صاحب! کیا ہمارا مسجد پر کوئی حق ہے؟ کیا ہم مسجد کو اندر سے نہیں دیکھ سکتیں؟"
میں نے کہا: "کیوں نہیں! آپ لوگوں کا بھی حق ہے۔ آپ بھی مسجد کو اندر سے دیکھ سکتی ہیں۔ ہم ایک وقت مقرر کر دیتے ہیں، اس وقت طلبہ اور اساتذہ مسجد سے باہر ہوں گے، آپ لوگ آ کر مسجد دیکھ سکتی ہیں۔"
مفتی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ وقت مقرر ہوا تو طلبہ اور اساتذہ کو مسجد سے باہر بھیج دیا گیا، تاکہ عورتوں کو مسجد میں آتے ہوئے بھی کوئی نہ دیکھ سکے۔
عورتیں مسجد میں آئیں، انہوں نے مسجد کی صفائی کی اور تقریباً ایک گھنٹہ مسجد میں گزارا۔
جب جانے لگیں تو ایک بوڑھی عورت نے خادمہ سے کہا: "استاد جی سے کہو کہ سب سے پہلے وہ مسجد کے اندر جائیں۔"
مفتی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ جب میں مسجد کے اندر گیا تو امام کے مصلے کے ساتھ ایک رومال پر بہت سے زیورات رکھے ہوئے تھے۔
وہ عورتیں مسجد میں آنے کی خوشی میں اپنے زیورات صدقہ کر گئی تھیں۔
مفتی محمد زرولی خان صاحبؒ نے فرمایا:
"دَ بعضو نه ښځو کې زیات غیرت وي!" 😏
یعنی:
"بعض عورتوں میں مردوں سے بھی زیادہ غیرت ہوتی ہے۔
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_زرولی_خان
#MuftiZarWaliKhan
@qafila_e_haq
2 months ago | [YT] | 152
View 1 reply
QAFILA E HAQ ®
حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب اپنے بھائی مولانا زکی کیفی مرحوم کے متعلق فرماتے ہیں:
انہیں خود کوئی راحت یا خوشی میسر آتی تو والدین اور بہن بھائیوں کو اس میں شریک کرنے کی کوشش کرتے تھے بعض اوقات یہ جذبہ اس حد تک بڑھ جاتا کہ دوسروں کو الجھن ہونے لگتی۔ ایک مرتبہ میں لاہور میں تھا، رات گئے تک انہوں نے گھر بھر کو کشت زعفران بنائے رکھا، سونے کے وقت ہم اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے ، میں بستر پر لیٹ چکا تھا اور روشنیاں گل ہو چکی تھیں، اچانک انھوں نے اپنے کمرے سے مجھے پکارا، مجھے کچھ تشویش سی ہوئی ، اور میں دوڑتا ہوا پہنچا۔ لیکن انہوں نے مجھے اپنے قریب بستر پر بٹھایا اور بستر کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا، بات صرف اتنی تھی کہ ان کے سرہانے ایک کھڑکی تھی، اور باہر سے ایک درخت کی شاخیں اس کھڑکی کو چھوتی تھیں، چودھویں رات کی چاندنی اس درخت کے پتوں میں چھن چھن کر بستر پر ایک عجیب سماں پیدا کر رہی تھی۔ بھائی جان کہنے لگے ” دیکھ ! کتنا خوبصورت منظر ہے، مجھے یہ منظر بڑا حسین معلوم ہوا، میں نے سوچا کہ تم بھی اس منظر سے لطف اندوز ہو کر سو، بس تمہیں اس لئے بلایا تھا ۔
(نقوش رفتگان ص: ۳۳)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_تقی_عثمانی
#TaqiUsmani
#qafilaehaq
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
@qafila_e_haq
2 months ago | [YT] | 122
View 3 replies
QAFILA E HAQ ®
شیخ الحدیث حضرت مولانا موسیٰ روحانی بازی کے صاحبزادے نے ان کی زندگی کا ایک عجیب واقعہ لکھا، وہ لکھتے ہیں :
ایک مرتبہ حضرت شیخ " بمع اہل و عیال حج کے لیے حرمین شریفین تشریف لے گئے۔ حج کے بعد چند روز مدینہ منورہ میں قیام فرمایا، مولانا سعید احمد خان ( جو کہ تبلیغی جماعت کے بڑے بزرگوں میں سے
تھے) کو جب آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو آپ کی بمع اہل خانہ اپنی مدینہ منورہ والی رہائشگاہ پر دعوت کی، دعوت کے دوران والد محترم ، مولانا سعید احمد خان کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص (جو کہ مدینہ منورہ ہی کا رہائشی تھا ) آیا، اس نے جب مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی کو اس مجلس میں تشریف فرمادیکھا تو انہیں سلام کر کے مؤدبانہ انداز میں ان کے قریب بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ ” حضرت میں آپ سے معافی مانگنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ مجھے معاف فرمادیں“ والد ماجد نے فرمایا ” بھائی کیا ہوا؟ میں تو آپ کو جانتا ہی نہیں، نہ کبھی آپ سے ملاقات ہوئی ہے۔ تو کس بات پر معاف کروں ؟“ وہ شخص پھر کہنے لگا کہ بس حضرت آپ مجھے معاف کر دیں۔ حضرت شیخ " نے فرمایا کہ کوئی وجہ بتلاؤ تو سہی ؟“ وہ شخص کہنے لگا ” جب تک آپ معاف نہیں فرمائیں گے، میں بتلا نہیں سکتا تو اپنے مخصوص لب ولہجہ میں والد صاحب نے فرمایا " اچھا، بھئی معاف کیا، اب بتلاؤ کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگا حضرت میری رہائش مدینہ منورہ میں ہی ہے، میں اپنے رفقاء اور ساتھیوں سے اکثر آپ کا نام اور آپ کے علم و فضل کے واقعات سنتارہتا تھا، چنانچہ میرے دل میں آپ کی زیارت و ملاقات کا شوق پیدا ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تمنا بڑھتی گئی مگر کبھی زیارت کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ اتفاق سے چند دن قبل آپ مسجد نبوی میں نوافل میں مشغول تھے کہ میرے ایک ساتھی نے مجھے اشارے سے بتلایا کہ ” یہ ہیں مولانا محمد موسیٰ صاحب، جن کے بارے میں تم اکثر پوچھتے رہتے ہو“ میں نے چونکہ اس سے پہلے آپ کو دیکھا نہیں تھا، اس لیے میرے ذہن میں آپ کے بارے میں ایک تصور قائم تھا کہ پھٹا پرانا لباس ہوگا، دنیا کا کچھ پتہ نہیں ہو گا لیکن جب میں نے نوافل پڑھتے ہوئے آپ کا حلیہ اور وجاہت دیکھی تو میرے ذہن میں جو پھٹے پرانے لباس کا تصور تھا، وہ ٹوٹ گیا اور دل میں آپ کے بارے میں کچھ بدگمانی پیدا ہو گئی چنانچہ میں آپ سے ملے بغیر ہی واپس لوٹ گیا۔ اسی رات کو خواب میں مجھے نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی، کیا دیکھتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ انتہائی غصے میں ہیں، میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ ! مجھ سے ایسی کیا غلطی ہوگئی کہ آپ ناراض دکھائی دے رہے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم میرے موسیٰ کے بارے میں بدگمانی کرتے ہو، فورا میرے مدینے سے نکل جاؤ“۔ میں خوف سے کانپ گیا، فورا معانی چاہی، فرمایا ” جب تک ہمارا موسیٰ معاف نہیں کرے گا میں بھی معاف نہیں کروں گا“۔ یہ خواب دیکھنے کے بعد میں بیدار ہو گیا اور اس دن سے میں مسلسل آپ کو تلاش کر رہا ہوں مگر آپ کی جائے قیام کا پتہ نہیں لگا سکا۔ آج آپ سے اتفاقاً ملاقات ہوگئی تو معافی مانگنے کے لیے حاضر ہوگیا ہوں۔ حضرت شیخ نے جب یہ واقعہ سنا تو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے“۔
(ترغیب المسلمين ، ص: ۳)
ساتھیوں کے بے حد اصرار پر غریبوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی مدد کا وہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے۔
تصویر کے کونے میں موجود QR کوڈ اسکین کرکے اپنی استطاعت کے مطابق کچھ نہ کچھ تعاون ضرور کریں۔
اللہ تعالیٰ آپ کے تعاون کو قبول فرمائے۔ جزاکم اللّٰہ خیرا
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#IslamicReminder #qafilaehaq
2 months ago | [YT] | 128
View 5 replies
QAFILA E HAQ ®
حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب جب تقسیم ہند کے بعد وطن کو خیر باد کہہ کر پاکستان تشریف لائے اور کراچی میں مقیم ہوئے تو اس وقت اس شہر میں دینی تعلیم کا صرف ایک ہی ادارہ تھا یعنی مظہر العلوم کھڈہ، ظاہر ہے کہ وہ تمام اہل علم کو اپنے اندر نہیں سمو سکتا تھا، اس لئے حضرت مفتی ولی حسن صاحب نے اس وقت برنس روڈ پر واقع ” میٹرو پولیس ہائی اسکول میں اسلامیات کے استاد کی حیثیت سے کام شروع کر دیا۔ اسکول کی انتظامیہ انگریزوں کی پروردہ اور مغربی ذہنیت کی حامل تھی، اس نے حضرت مفتی صاحب سے داڑھی منڈوانے کا مطالبہ کیا ، ظاہر ہے کہ حضرت مفتی صاحب مرحوم اس مطالبہ کو تسلیم کرنے والے نہ تھے لیکن انتظامیہ کا اصرار جاری رہا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انتظامیہ نے داڑھی نہ منڈوانے کی صورت میں ملازمت سے علیحدہ کر دینے کا عزم کرکے مولانا کو آخری فیصلہ سنا دیا۔ حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب، صاحب عیال تھے ، اس زمانہ میں کوئی دوسرا ذریعہ معاش بھی نہ تھا، فکر مند ہو کر اپنے رفیق حضرت مولانا نور احمد صاحب (دار العلوم کراچی کے ناظم اول) کے پاس آئے اور پریشانی کے عالم میں یہ صورت حال بتائی، واقعہ سن کر حضرت مولانا مرحوم کو سخت تکلیف ہوئی اور بڑی غیرت آئی، پوچھا، آپ کو کیا مشاہرہ دیتے ہیں؟ انہوں نے مشاہرہ بتا دیا۔ حضرت مولانا مرحوم نے ان سے فرمایا ” آپ ہمارے پاس آجائیں ہم ان سے دگنا مشاہرہ دیں گے ، کل آپ ڈاڑھی میں اہتمام سے کنگھا کر کے تیل لگا کر جائیں اور استعفا پیش کر دیں چنانچہ حضرت مفتی صاحب استعفا دے کر دار العلوم کراچی آگئے اور پاکستان میں اپنی خدمات دینیہ کا وقیع انداز میں آغاز فرمایا۔
(متاع نور از مولانا رشید اشرف صاحب، ص ۳۱۳)
مفتی تقی عثمانی صاحب نے سعودی عرب ترکی اور پاکستان کے مکہ معاہدے کے بارے میں کیا باتیں کی ہے ویڈیو لنک 👇 👇 👇 👇 👇 👇 👇👇👇👇👇👇👇 یہ ہے
https://youtu.be/7sjpfMS9FCE?si=6XbDO...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_ولی_حسنؒ #MuftiWaliHassan
#qafilaehaq
2 months ago | [YT] | 105
View 2 replies
Load more