رسول اللہ ص نے حضرت ابو طالبؑ اور ام المؤمنین حضرت خدیجہؑ کی وفات والے سال کو "عام الحزن" (غم کا سال) کا نام دیا تھا۔ یہ واقعہ 10 نبوی (ہجرت سے تین سال قبل) پیش آیا۔
اس تاریخی نام اور واقعے کے بنیادی حوالہ جات درج ذیل معتبر اسلامی کتب میں موجود ہیں:
1۔ لغت اور سیرت کا معتبر ترین حوالہ
عربی زبان کی سب سے مستند لغت کی کتاب "لسان العرب" میں ابن منظور نے واضح الفاظ میں اس کا حوالہ نقل کیا ہے:
"و عام الحزن: العام الذي ماتت فيه خديجة رضي اللہ عنها، و أبو طالب فسماه رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، عام الحزن" (ترجمہ: اور عام الحزن: وہ سال ہے جس میں حضرت خدیجہؓ اور ابو طالب کی وفات ہوئی۔ پس رسول اللہ ص نے خود اس سال کا نام 'عام الحزن' رکھا تھا)۔ (حوالہ: لسان العرب، ابن منظور، ثعلب عن ابن الأعرابي)
2۔ کتبِ سیرت و شرح کے مآخذ
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ: علامہ زرقانی نقل کرتے ہیں کہ جب نبوت کے دسویں سال سیدہ خدیجہؑ اور حضرت ابو طالبؑ کا وصال ہوا، تو نبی پاک ص اس سال کو "عام الحزن" کے نام کے ساتھ یاد فرماتے تھے۔ (حوالہ: شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، جلد 2، صفحہ 48 - 49، دار الكتب العلمية، بيروت)
سیرت ابن ہشام و الرحیق المختوم: ان کتبِ سیرت میں تفصیل سے درج ہے کہ ان دونوں سرپرستوں کی وفات کے بعد کفارِ مکہ نے نبی کریم ص پر مظالم کی انتہا کر دی تھی، جس کی وجہ سے پے در پے صدمات کے باعث یہ سال تاریخ میں ہمیشہ کے لیے "عام الحزن" (غم کا سال) کے نام سے مشہور ہو گیا۔ (حوالہ: السيرة النبوية لابن هشام، جلد 1، صفحہ 416 / الرحیق المختوم، باب غم کا سال)
17ربیع الاول ظہورِ صادقین علیہ السلام مبارک ♥️💚 یہ اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں دن ہے جس دن کائنات کی✌️دو عظیم ہستیوں کا ظہور ہوا۔ اس بابرکت دن رحمتِ دوجہاں، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے فرزند رئیسِ مذہبِ جعفریہ، امام جعفر صادق علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے۔
"سادات" و "مومنین" و "مسلمین" کو اس پر مسرت موقع پر مبارک باد پیش کرتے ھیں اور دعا گو ھیں پروردگار 🤲 اس عظیم دن کی برکت کے صدقے تمام محبانِ محمد ص و آل محمد ص کو وسیع رزق بہترین صحت عطاء کرے 🙏
یزید کی موت 11 نومبر 683ء (14 ربیع الاول 64 ہجری) کو شام کے علاقے حوارین میں ہوئی۔ اس وقت اس کی عمر تقریباً 38 یا 39 سال تھی اور اس نے محض ساڑھے تین سال حکومت کی۔
شدید بیماری: معتبر تاریخی روایات کے مطابق، یزید پیٹ کے شدید عارضے، حوارین کے وبائی مرض یا پسلی کے درد میں مبتلا ہوا اور چند دن کی تکلیف کے بعد مر گیا۔
کچھ روایات کے مطابق، وہ نشے کی حالت میں شکار کے دوران گھوڑے سے گرا، جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
عبرت ناک انجام: بعض تاریخی کتابوں میں ذکر ہے کہ گھوڑے سے گرنے کے بعد اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا تھا اور گھوڑا اسے دور تک گھسیٹتا رہا، جس سے اس کا جسم پاش پاش ہو گیا۔
حوالہ جات: البدایہ والنہایہ (جلد 8) – علامہ ابن کثیر تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری) – امام ابن جریر طبری انساب الاشراف – احمد بن یحییٰ البلاذری
فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام: "واقعہ کربلا کے بعد بنی ہاشم کی کسی خاتون نے (سوگ کی وجہ سے) اپنے بالوں میں کنگھی نہیں کی تھی اور نہ ہی خضاب (مہندی) لگایا تھا، یہاں تک کہ مختار نے امام حسینؑ کے قاتلوں کے سر ہمارے پاس بھیجے۔"
(بحوالہ: رجالِ کشّی، صفحہ 127)
آلِ محمدؑ کے چہروں پر مسکراہٹ لانے والے اس با برکت دن اور آغازِ امامتِ مہدیِ عج دوراںؑ کے پرمسرت موقع پر تمام محبانِ اہل بیتؑ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
پروردگار! ہمیں اپنے وقت کے امامؑ کی حقیقی معرفت، نصرت اور ان کے ظہور کے لیے خود کو تیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
"جب جنابِ رباب سلام اللہ علیہا کی زندگی کے آخری لمحات آئے، تو آپ کا نحیف جسم مسلسل دھوپ کی تپیش اور گریہ و زاری کی وجہ سے شدید لاغر ہو چکا تھا۔
آپ نے زندگی کے اس آخری وقت میں بھی کربلا میں پیاسے شہید ہونے والے اپنے چھے ماہ کے معصوم بچے حضرت علی اصغر علیہ السلام اور زندانِ شام میں بچھڑ جانے والی اپنی مظلوم بیٹی بی بی سکینہ سلام اللہ علیہا کو یاد کیا۔
روایت اور لسانِ حال کے مطابق، آپ نے آخری بار اپنے مظلوم شوہر سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی روحِ مطہر کو مخاطب کیا اور رو کر عرض کی: ’یا حسینؑ! میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ میں نے آپ کی شہادت کے بعد کبھی سائے کا سکھ نہیں لیا اور ہمیشہ تپتی دھوپ میں آپ کا ماتم کیا۔ اب میری سانسیں ختم ہو رہی ہیں اور میں آپ کے پاس آ رہی ہوں‘۔ اسی حالتِ رنج و مصائب اور پیاس کی شدت میں آپ کی روحِ مطہر جسمِ اطہر سے پرواز کر گئی۔"
📚 حوالہ: یہ بیان تاریخی روایات اور عزاداری کی مستند کتب کے مجموعے سے ماخوذ ہے:
دھوپ میں بیٹھنے اور سائے سے پرہیز کا حوالہ: علامہ ابنِ کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 8، صفحہ 229۔ سید محسن امین عاملی، اعیان الشیعہ، جلد 6، صفحہ 449 (جہاں ذکر ہے کہ آپ نے امام حسینؑ کی شہادت کے بعد مدینہ میں ایک سال گزارا اور کبھی سائے میں نہ بیٹھیں، یہاں تک کہ اسی غم میں وفات پا گئیں)۔
شدید گریہ اور آنسو خشک ہونے کی روایت: ثقۃ الاسلام علامہ یعقوب کلینی، الکافی، جلد 1، صفحہ 460 (باب مولد الحسين بن علي علیہ السلام)۔ علی اصغرؑ کی پیاس اور ٹھنڈے پانی سے پرہیز (لسانِ حال و مصائب): علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد 45 (کربلا کے بعد مخدراتِ عصمت کے مصائب کا تذکرہ)۔ کتبِ مقاتل و مجالس (جیسے مقتل ابی مخنف اور ذبیحِ کربلا)، جن میں ذاکرین اور علماء کرام جنابِ ربابؑ کے آخری لمحات میں علی اصغرؑ کے خالی جھولے اور بی بی سکینہؑ کے صدمے کو بیان کرتے ہیں
3 ربیع الاول 64 ہجری: جب یزیدی فوج نے خانہ کعبہ پر حملہ کیا اور آگ لگائی
تاریخِ اسلام کا وہ سیاہ ترین دن، جس نے کربلا کے بعد امتِ مسلمہ کے دلوں کو ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔تاریخی واقعہ:سانحہ کربلا اور واقعہ حرہ (مدینہ منورہ میں قتلِ عام) کے بعد، اموی خلیفہ یزید بن معاویہ کی فوج نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی سرکوبی کے لیے بھیجے گئے اس لشکر نے مکہ کا شدید محاصرہ کیا۔خانہ کعبہ کی بے حرمتی:3 ربیع الاول 64 ہجری کو حصین بن نمیر کی قیادت میں یزیدی فوج نے مکہ کے اطراف کے پہاڑوں سے منجنیقوں کے ذریعے شہر پر پتھر اور آگ کے گولے برسائے۔ اس بمباری کے نتیجے میں اللہ کے مقدس گھر، خانہ کعبہ کے غلاف اور لکڑی کے ڈھانچے کو آگ لگ گئی، جس سے کعبہ کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچا اور حجرِ اسود بھی متاثر ہوا۔یہ ظلمِ عظیم ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ کس طرح دنیاوی اقتدار کی خاطر اللہ کی زمین پر سب سے مقدس ترین مقام کی حرمت کو پامال کیا گیا۔
📚 حوالہ جات (References)اس واقعے کی تفصیلات درج ذیل معتبر اسلامی اور تاریخی کتب میں موجود ہیں: تاریخ الطبری (جلد 5، زکرِ حوادث 64 ہجری، مکہ کا محاصرہ) الکامل فی التاریخ از ابن الاثیر (جلد 4، ذکرِ احراقِ کعبہ) البدایہ والنہایہ از حافظ ابن کثیر (جلد 8، سال 64 ہجری کے احوال)
Hussaini Media Network
مولائے کائنات امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع کی ولایت سے بڑی کوئی نیکی نہیں
1 week ago | [YT] | 2,909
View 46 replies
Hussaini Media Network
رسول اللہ ص نے حضرت ابو طالبؑ اور ام المؤمنین حضرت خدیجہؑ کی وفات والے سال کو "عام الحزن" (غم کا سال) کا نام دیا تھا۔ یہ واقعہ 10 نبوی (ہجرت سے تین سال قبل) پیش آیا۔
اس تاریخی نام اور واقعے کے بنیادی حوالہ جات درج ذیل معتبر اسلامی کتب میں موجود ہیں:
1۔ لغت اور سیرت کا معتبر ترین حوالہ
عربی زبان کی سب سے مستند لغت کی کتاب "لسان العرب" میں ابن منظور نے واضح الفاظ میں اس کا حوالہ نقل کیا ہے:
"و عام الحزن: العام الذي ماتت فيه خديجة رضي اللہ عنها، و أبو طالب فسماه رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، عام الحزن"
(ترجمہ: اور عام الحزن: وہ سال ہے جس میں حضرت خدیجہؓ اور ابو طالب کی وفات ہوئی۔ پس رسول اللہ ص نے خود اس سال کا نام 'عام الحزن' رکھا تھا)۔
(حوالہ: لسان العرب، ابن منظور، ثعلب عن ابن الأعرابي)
2۔ کتبِ سیرت و شرح کے مآخذ
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ:
علامہ زرقانی نقل کرتے ہیں کہ جب نبوت کے دسویں سال سیدہ خدیجہؑ اور حضرت ابو طالبؑ کا وصال ہوا، تو نبی پاک ص اس سال کو "عام الحزن" کے نام کے ساتھ یاد فرماتے تھے۔
(حوالہ: شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، جلد 2، صفحہ 48 - 49، دار الكتب العلمية، بيروت)
سیرت ابن ہشام و الرحیق المختوم:
ان کتبِ سیرت میں تفصیل سے درج ہے کہ ان دونوں سرپرستوں کی وفات کے بعد کفارِ مکہ نے نبی کریم ص پر مظالم کی انتہا کر دی تھی، جس کی وجہ سے پے در پے صدمات کے باعث یہ سال تاریخ میں ہمیشہ کے لیے "عام الحزن" (غم کا سال) کے نام سے مشہور ہو گیا۔
(حوالہ: السيرة النبوية لابن هشام، جلد 1، صفحہ 416 / الرحیق المختوم، باب غم کا سال)
2 weeks ago | [YT] | 2,070
View 52 replies
Hussaini Media Network
ولایتِ امیر المومنین ع اور انبیاء ع کی بعثت
3 weeks ago | [YT] | 1,873
View 70 replies
Hussaini Media Network
17ربیع الاول ظہورِ صادقین علیہ السلام مبارک ♥️💚
یہ اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں دن ہے جس دن کائنات کی✌️دو عظیم ہستیوں کا ظہور ہوا۔ اس بابرکت دن رحمتِ دوجہاں، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے فرزند رئیسِ مذہبِ جعفریہ، امام جعفر صادق علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے۔
"سادات" و "مومنین" و "مسلمین" کو اس پر مسرت موقع پر مبارک باد پیش کرتے ھیں اور دعا گو ھیں پروردگار 🤲 اس عظیم دن کی برکت کے صدقے تمام محبانِ محمد ص و آل محمد ص کو وسیع رزق بہترین صحت عطاء کرے 🙏
3 weeks ago | [YT] | 2,012
View 54 replies
Hussaini Media Network
یزید لعہ بن معاویہ کا انجام
یزید کی موت 11 نومبر 683ء (14 ربیع الاول 64 ہجری) کو شام کے علاقے حوارین میں ہوئی۔ اس وقت اس کی عمر تقریباً 38 یا 39 سال تھی اور اس نے محض ساڑھے تین سال حکومت کی۔
شدید بیماری: معتبر تاریخی روایات کے مطابق، یزید پیٹ کے شدید عارضے، حوارین کے وبائی مرض یا پسلی کے درد میں مبتلا ہوا اور چند دن کی تکلیف کے بعد مر گیا۔
کچھ روایات کے مطابق، وہ نشے کی حالت میں شکار کے دوران گھوڑے سے گرا، جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
عبرت ناک انجام: بعض تاریخی کتابوں میں ذکر ہے کہ گھوڑے سے گرنے کے بعد اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا تھا اور گھوڑا اسے دور تک گھسیٹتا رہا، جس سے اس کا جسم پاش پاش ہو گیا۔
حوالہ جات: البدایہ والنہایہ (جلد 8) – علامہ ابن کثیر
تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری) – امام ابن جریر طبری
انساب الاشراف – احمد بن یحییٰ البلاذری
3 weeks ago | [YT] | 701
View 23 replies
Hussaini Media Network
💚 رحمۃ اللعالمین (ص) کی آمد مرحبا ❤️
کائنات کی سب سے عظیم ہستی، سرورِ کائنات، حضرت محمد مصطفیٰؐ کے جشنِ میلاد اور ہفتہ وحدت کا آغاز تمام عاشقانِ رسولؐ و آلِ رسولؑ کو مبارک 🌷
1 month ago | [YT] | 1,492
View 25 replies
Hussaini Media Network
9 ربیع الاول 🌹 عیدِ زہرا (سلام اللہ علیہا)
فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام:
"واقعہ کربلا کے بعد بنی ہاشم کی کسی خاتون نے (سوگ کی وجہ سے) اپنے بالوں میں کنگھی نہیں کی تھی اور نہ ہی خضاب (مہندی) لگایا تھا، یہاں تک کہ مختار نے امام حسینؑ کے قاتلوں کے سر ہمارے پاس بھیجے۔"
(بحوالہ: رجالِ کشّی، صفحہ 127)
آلِ محمدؑ کے چہروں پر مسکراہٹ لانے والے اس با برکت دن اور آغازِ امامتِ مہدیِ عج دوراںؑ کے پرمسرت موقع پر تمام محبانِ اہل بیتؑ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
پروردگار! ہمیں اپنے وقت کے امامؑ کی حقیقی معرفت، نصرت اور ان کے ظہور کے لیے خود کو تیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
الّلهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِیِّکَ الْفَرَج 🤲💚
1 month ago | [YT] | 2,579
View 72 replies
Hussaini Media Network
"جب جنابِ رباب سلام اللہ علیہا کی زندگی کے آخری لمحات آئے، تو آپ کا نحیف جسم مسلسل دھوپ کی تپیش اور گریہ و زاری کی وجہ سے شدید لاغر ہو چکا تھا۔
آپ نے زندگی کے اس آخری وقت میں بھی کربلا میں پیاسے شہید ہونے والے اپنے چھے ماہ کے معصوم بچے حضرت علی اصغر علیہ السلام اور زندانِ شام میں بچھڑ جانے والی اپنی مظلوم بیٹی بی بی سکینہ سلام اللہ علیہا کو یاد کیا۔
روایت اور لسانِ حال کے مطابق، آپ نے آخری بار اپنے مظلوم شوہر سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی روحِ مطہر کو مخاطب کیا اور رو کر عرض کی: ’یا حسینؑ! میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ میں نے آپ کی شہادت کے بعد کبھی سائے کا سکھ نہیں لیا اور ہمیشہ تپتی دھوپ میں آپ کا ماتم کیا۔ اب میری سانسیں ختم ہو رہی ہیں اور میں آپ کے پاس آ رہی ہوں‘۔ اسی حالتِ رنج و مصائب اور پیاس کی شدت میں آپ کی روحِ مطہر جسمِ اطہر سے پرواز کر گئی۔"
📚 حوالہ: یہ بیان تاریخی روایات اور عزاداری کی مستند کتب کے مجموعے سے ماخوذ ہے:
دھوپ میں بیٹھنے اور سائے سے پرہیز کا حوالہ:
علامہ ابنِ کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 8، صفحہ 229۔
سید محسن امین عاملی، اعیان الشیعہ، جلد 6، صفحہ 449 (جہاں ذکر ہے کہ آپ نے امام حسینؑ کی شہادت کے بعد مدینہ میں ایک سال گزارا اور کبھی سائے میں نہ بیٹھیں، یہاں تک کہ اسی غم میں وفات پا گئیں)۔
شدید گریہ اور آنسو خشک ہونے کی روایت:
ثقۃ الاسلام علامہ یعقوب کلینی، الکافی، جلد 1، صفحہ 460 (باب مولد الحسين بن علي علیہ السلام)۔
علی اصغرؑ کی پیاس اور ٹھنڈے پانی سے پرہیز (لسانِ حال و مصائب):
علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد 45 (کربلا کے بعد مخدراتِ عصمت کے مصائب کا تذکرہ)۔
کتبِ مقاتل و مجالس (جیسے مقتل ابی مخنف اور ذبیحِ کربلا)، جن میں ذاکرین اور علماء کرام جنابِ ربابؑ کے آخری لمحات میں علی اصغرؑ کے خالی جھولے اور بی بی سکینہؑ کے صدمے کو بیان کرتے ہیں
1 month ago | [YT] | 1,872
View 68 replies
Hussaini Media Network
3 ربیع الاول 64 ہجری: جب یزیدی فوج نے خانہ کعبہ پر حملہ کیا اور آگ لگائی
تاریخِ اسلام کا وہ سیاہ ترین دن، جس نے کربلا کے بعد امتِ مسلمہ کے دلوں کو ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔تاریخی واقعہ:سانحہ کربلا اور واقعہ حرہ (مدینہ منورہ میں قتلِ عام) کے بعد، اموی خلیفہ یزید بن معاویہ کی فوج نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی سرکوبی کے لیے بھیجے گئے اس لشکر نے مکہ کا شدید محاصرہ کیا۔خانہ کعبہ کی بے حرمتی:3 ربیع الاول 64 ہجری کو حصین بن نمیر کی قیادت میں یزیدی فوج نے مکہ کے اطراف کے پہاڑوں سے منجنیقوں کے ذریعے شہر پر پتھر اور آگ کے گولے برسائے۔ اس بمباری کے نتیجے میں اللہ کے مقدس گھر، خانہ کعبہ کے غلاف اور لکڑی کے ڈھانچے کو آگ لگ گئی، جس سے کعبہ کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچا اور حجرِ اسود بھی متاثر ہوا۔یہ ظلمِ عظیم ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ کس طرح دنیاوی اقتدار کی خاطر اللہ کی زمین پر سب سے مقدس ترین مقام کی حرمت کو پامال کیا گیا۔
📚 حوالہ جات (References)اس واقعے کی تفصیلات درج ذیل معتبر اسلامی اور تاریخی کتب میں موجود ہیں:
تاریخ الطبری (جلد 5، زکرِ حوادث 64 ہجری، مکہ کا محاصرہ)
الکامل فی التاریخ از ابن الاثیر (جلد 4، ذکرِ احراقِ کعبہ)
البدایہ والنہایہ از حافظ ابن کثیر (جلد 8، سال 64 ہجری کے احوال)
1 month ago | [YT] | 1,242
View 19 replies
Hussaini Media Network
2 ربیع الاول بنتِ رسول ص کی دربار میں پیشی اور مظلومیت
1 month ago | [YT] | 1,212
View 68 replies
Load more