جماعتِ اسلامی کے کارکنان نے گزشتہ پینتالیس دنوں کے دوران مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں، بھاری ٹیکسز اور عام آدمی کے مسائل کے خلاف مسلسل میدان میں موجود رہ کر اپنی آواز بلند کی۔ شدید گرمی، طویل سفر، مشکلات اور مسلسل سیاسی دباؤ کے باوجود کارکنان کا ثابت قدم رہنا یقیناً ایک اہم عوامی و سیاسی سرگرمی ہے۔
اگر موجودہ صورتحال میں لانگ مارچ کو مؤخر کیا جا رہا ہے تو اسے محض شکست یا اختتام قرار دینا مناسب نہیں۔ سیاسی اور عوامی تحریکوں میں حکمتِ عملی کے مختلف مراحل آتے رہتے ہیں؛ کبھی احتجاج، کبھی مذاکرات، کبھی دھرنا اور کبھی حالات کے مطابق نئے لائحۂ عمل کے ساتھ دوبارہ میدان میں آنا پڑتا ہے۔ ایک مرحلے کا اختتام لازماً جدوجہد کا اختتام نہیں ہوتا۔
بقول عمران خان: “انسان کے اختیار میں صرف کوشش ہے، کامیابی اور نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔” لہٰذا کوشش کا احترام اپنی جگہ، جبکہ نتائج اور آئندہ کی حکمتِ عملی کا جائزہ اپنی جگہ ضروری ہے۔
ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً خیبر پختونخوا، پنجاب اور اسلام آباد میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہر فیصلہ جذبات کے بجائے تدبر، سیاسی حکمت اور دوراندیشی سے کرنا ضروری ہے۔ صرف یہ اصرار کہ “ہم ہر صورت لانگ مارچ کریں گے” ایک سیاسی راستہ ہو سکتا ہے، لیکن حالات کا درست تجزیہ کیے بغیر اسے واحد راستہ سمجھنا ضروری نہیں۔
اسی طرح تحریکِ انصاف کو بھی موجودہ سیاسی اور عوامی صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے اپنے آئندہ کے لائحۂ عمل پر غور کرنا ہوگا، تاکہ عمران خان کی رہائی کی سیاسی جدوجہد میں مزید پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں اور پارٹی کو کسی نئے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اصل بات یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد صرف سڑک پر موجودگی کا نام نہیں؛ اس میں وقت، حالات، مذاکرات، عوامی حمایت اور درست حکمتِ عملی—سب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک مرحلہ ختم ہو سکتا ہے، لیکن جدوجہد کا سفر جاری رہ سکتا ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختو نخوا کے بعد اب پاکستان کی شہ رگ ، کشمیر کے عوام پر بھی غداری کے فتوے لگائے جارہے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے مشرقی پاکستان کے سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اور منفی سرکاری پالیسیوں نے ملک کو ایک بار پھر دنیا بھر میں تماشا بنا دیا ہے۔
اسلامی تحریک اپنے ایک مخلص داعی، باوقار رہنما اور بے مثال منتظم سے محروم ہو گئی۔ محترم امیرالعظیم صاحب نے اپنی پوری زندگی اقامتِ دین اور تحریکِ اسلامی کی خدمت میں وقف کیے رکھی۔ بیماری بھی ان کے عزم و استقامت کو متزلزل نہ کر سکی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
سن 2013 — جب دیر جل رہا تھا، تب ملک بہرام خان میدان میں کھڑے تھے
سن 2013 ملاکنڈ ڈویژن، خصوصاً ضلع دیر، کی تاریخ کا ایک انتہائی کٹھن اور خون آشام باب تھا۔ دہشت گردی اپنے عروج پر تھی، خودکش حملے معمول بن چکے تھے، عوام خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے تھے، اور بے شمار خاندان اپنے گھروں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ایسے نازک حالات میں بہت سے بااثر افراد نے خاموشی یا کنارہ کشی اختیار کی، مگر جماعتِ اسلامی کے رہنما ملک بہرام خان نے خاموش رہنے کے بجائے میدان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
ملک بہرام خان نے دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے علاقے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی بلکہ ریاستی اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ دیر کے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ ان کی سیاست کا محور اقتدار نہیں، بلکہ امن، عوام کا تحفظ اور علاقے کا استحکام تھا۔
یہ راستہ آسان نہیں تھا۔ دہشت گردوں نے انہیں نشانہ بنایا۔ ایک ہولناک حملے میں وہ خود شدید زخمی ہوئے، ان کا ایک ہاتھ متاثر ہوا، جبکہ ان کے جواں سال صاحبزادے ملک ابوبکر، جو یونیورسٹی سے واپس آ رہے تھے، اپنے والد کے ساتھ سفر کے دوران شہید ہو گئے۔ ان کے سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ یہ قربانی صرف ایک خاندان کی نہیں، بلکہ امن کے لیے دی جانے والی ایک عظیم قربانی تھی۔
لیکن نہ بیٹے کی شہادت، نہ اپنی شدید زخمی حالت اور نہ ہی مسلسل خطرات، ملک بہرام خان کے عزم کو متزلزل کر سکے۔ انہوں نے نہ دہشت گردوں کے سامنے سر جھکایا، نہ اصولوں پر سمجھوتہ کیا اور نہ ہی عوام کا ساتھ چھوڑا۔ یہی وہ استقامت تھی جس نے انہیں دیر کی سیاست میں ایک مضبوط اور باوقار آواز کے طور پر نمایاں کیا۔
آج اگر دوبارہ امن کو چیلنجز درپیش ہیں تو ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔ امن کسی ایک جماعت، ایک شخصیت یا ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری ریاست، تمام سیاسی قیادت، قبائلی مشران، علما، سول سوسائٹی اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اگر ریاست یہ کہتی ہے کہ سرحدوں پر باڑ موجود ہے، سیکیورٹی فورسز تعینات ہیں اور نگرانی کا مضبوط نظام قائم ہے، تو عوام کا یہ سوال بھی جائز ہے کہ دہشت گرد عناصر دوبارہ کہاں سے آ جاتے ہیں؟ ایسے سوالات کا شفاف، ذمہ دارانہ اور قابلِ اعتماد جواب دینا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، کیونکہ عوام کا اعتماد ہی قومی سلامتی کی اصل بنیاد ہے۔
دیر کو نفرت نہیں، امن چاہیے۔ دیر کو تقسیم نہیں، اتحاد چاہیے۔ اور پاکستان کو ایسے مخلص، ثابت قدم اور باکردار رہنماؤں کی ضرورت ہے جو ہر مشکل وقت میں اپنی قوم کے ساتھ کھڑے رہیں، جیسے سن 2013 میں جماعتِ اسلامی کے رہنما ملک بہرام خان کھڑے رہے۔ تحریر #ساجداحمد
میاں محمد مقصود صاحب ایک عظیم استاد، سادہ مزاج مفکر اور دردِ دل رکھنے والے داعی تھے۔ ان کی گفتگو میں اخلاص، فکر اور ثابت قدمی نمایاں تھی۔ وہ مشکل موضوعات کو نہایت آسان انداز میں سمجھانے کا ہنر رکھتے تھے، اسی لیے ان سے سیکھنے والا ہر شخص ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔
ہم گزشتہ کئی مہینوں سے ان کے سوشل میڈیا پیجز اور دروس سے استفادہ حاصل کر رہے تھے۔ ان کی شخصیت علم، حکمت اور شعور کا حسین امتزاج تھی۔ آج ان کی جدائی ایک ایسا علمی و فکری خلا چھوڑ گئی ہے جسے محسوس کیا جاتا رہے گا۔
وہ صرف ایک استاد نہیں تھے، بلکہ دلوں میں فکر جگانے والے انسان تھے۔ ان کی نرم گفتگو، خلوص بھرا انداز اور امت کے لیے درد ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے علم و فکر کو صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔ ساجد احمد
وَتِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ زندگی میں اچھے اور برے دن آتے رہتے ہیں، کسی کے دن ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی خوشی، کبھی آزمائش—یہ سب وقت کے بدلنے کا حصہ ہے۔ 🖤
فجر کی نماز اور تلاوتِ قرآن کے بعد علمی بیانات سننا اب معمول کا حصہ بن چکا ہے—ایک ایسا معمول جو دن کی شروعات کو صرف روحانی نہیں بلکہ فکری طور پر بھی مضبوط بنا دیتا ہے۔ آج جب سفر کا آغاز ہوا اور گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے ڈاکٹر اسامہ رضی کا بیان سننا شروع کیا، تو ان کے اندازِ گفتگو کی سنجیدگی، دلیل کی مضبوطی اور موضوع پر گرفت نے فوراً توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی۔ بیان آگے بڑھا تو ایک عجیب سی فکری مماثلت محسوس ہوئی—یہی ترتیب، یہی ٹھہراؤ، یہی جراتِ اظہار… اور ذہن غیر ارادی طور پر سید منور حسن مرحوم کی طرف منتقل ہو گیا۔ اگرچہ ان سے بالمشافہ ملاقات کبھی ممکن نہ ہو سکی، لیکن ان کے بیانات کو بارہا سننے کے باعث ان کی فکر، اسلوب اور انداز سے ایک گہری شناسائی قائم ہو چکی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک ہی فکری و دعوتی دھارے سے وابستہ افراد میں اس قدر ہم آہنگی، فکری تسلسل اور علمی وقار پایا جائے۔ جماعت اسلامی کی یہ ایک نمایاں خوبی رہی ہے کہ اس نے ایسے افراد تیار کیے جو محض خطیب نہیں بلکہ صاحبِ فکر، صاحبِ شعور اور دلیل کے ساتھ بات کرنے والے ہوں۔ ایسے اسکالرز کا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تربیت درست ہو، بنیاد مضبوط ہو اور مقصد واضح ہو تو الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے—وہ فکر بن جاتے ہیں، اور فکر جب بیدار ہو جائے تو معاشرے بدلنے لگتے ہیں ساجد احمد
پروفیسر خورشید احمد مرحوم کی وفات کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر ان کی علمی، فکری اور نظریاتی خدمات آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔ وہ ایک ایسے عظیم مفکر تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق اور امت کی رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔ ان کا چھوڑا ہوا لٹریچر اور تصانیف آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے افکار کو سمجھیں، ان سے رہنمائی لیں اور ان کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے علمی ورثے سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔
Sajid Ahmad Talks
جماعتِ اسلامی کے کارکنان نے گزشتہ پینتالیس دنوں کے دوران مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں، بھاری ٹیکسز اور عام آدمی کے مسائل کے خلاف مسلسل میدان میں موجود رہ کر اپنی آواز بلند کی۔ شدید گرمی، طویل سفر، مشکلات اور مسلسل سیاسی دباؤ کے باوجود کارکنان کا ثابت قدم رہنا یقیناً ایک اہم عوامی و سیاسی سرگرمی ہے۔
اگر موجودہ صورتحال میں لانگ مارچ کو مؤخر کیا جا رہا ہے تو اسے محض شکست یا اختتام قرار دینا مناسب نہیں۔ سیاسی اور عوامی تحریکوں میں حکمتِ عملی کے مختلف مراحل آتے رہتے ہیں؛ کبھی احتجاج، کبھی مذاکرات، کبھی دھرنا اور کبھی حالات کے مطابق نئے لائحۂ عمل کے ساتھ دوبارہ میدان میں آنا پڑتا ہے۔ ایک مرحلے کا اختتام لازماً جدوجہد کا اختتام نہیں ہوتا۔
بقول عمران خان: “انسان کے اختیار میں صرف کوشش ہے، کامیابی اور نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔”
لہٰذا کوشش کا احترام اپنی جگہ، جبکہ نتائج اور آئندہ کی حکمتِ عملی کا جائزہ اپنی جگہ ضروری ہے۔
ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً خیبر پختونخوا، پنجاب اور اسلام آباد میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہر فیصلہ جذبات کے بجائے تدبر، سیاسی حکمت اور دوراندیشی سے کرنا ضروری ہے۔ صرف یہ اصرار کہ “ہم ہر صورت لانگ مارچ کریں گے” ایک سیاسی راستہ ہو سکتا ہے، لیکن حالات کا درست تجزیہ کیے بغیر اسے واحد راستہ سمجھنا ضروری نہیں۔
اسی طرح تحریکِ انصاف کو بھی موجودہ سیاسی اور عوامی صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے اپنے آئندہ کے لائحۂ عمل پر غور کرنا ہوگا، تاکہ عمران خان کی رہائی کی سیاسی جدوجہد میں مزید پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں اور پارٹی کو کسی نئے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اصل بات یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد صرف سڑک پر موجودگی کا نام نہیں؛ اس میں وقت، حالات، مذاکرات، عوامی حمایت اور درست حکمتِ عملی—سب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک مرحلہ ختم ہو سکتا ہے،
لیکن جدوجہد کا سفر جاری رہ سکتا ہے۔
3 weeks ago | [YT] | 1
View 0 replies
Sajid Ahmad Talks
بلوچستان اور خیبر پختو نخوا کے بعد اب پاکستان کی شہ رگ ، کشمیر کے عوام پر بھی غداری کے فتوے لگائے جارہے ہیں۔
افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے مشرقی پاکستان کے سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اور منفی سرکاری پالیسیوں نے
ملک کو ایک بار پھر دنیا بھر میں تماشا بنا دیا ہے۔
آخريه كهيل كب تک جاری رہے گا؟
#sajidahmadji #JamaateIslami #kashmir
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Sajid Ahmad Talks
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
اسلامی تحریک اپنے ایک مخلص داعی، باوقار رہنما اور بے مثال منتظم سے محروم ہو گئی۔ محترم امیرالعظیم صاحب نے اپنی پوری زندگی اقامتِ دین اور تحریکِ اسلامی کی خدمت میں وقف کیے رکھی۔ بیماری بھی ان کے عزم و استقامت کو متزلزل نہ کر سکی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
2 months ago | [YT] | 1
View 2 replies
Sajid Ahmad Talks
🖤
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Sajid Ahmad Talks
سن 2013 — جب دیر جل رہا تھا، تب ملک بہرام خان میدان میں کھڑے تھے
سن 2013 ملاکنڈ ڈویژن، خصوصاً ضلع دیر، کی تاریخ کا ایک انتہائی کٹھن اور خون آشام باب تھا۔ دہشت گردی اپنے عروج پر تھی، خودکش حملے معمول بن چکے تھے، عوام خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے تھے، اور بے شمار خاندان اپنے گھروں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ایسے نازک حالات میں بہت سے بااثر افراد نے خاموشی یا کنارہ کشی اختیار کی، مگر جماعتِ اسلامی کے رہنما ملک بہرام خان نے خاموش رہنے کے بجائے میدان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
ملک بہرام خان نے دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے علاقے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی بلکہ ریاستی اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ دیر کے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ ان کی سیاست کا محور اقتدار نہیں، بلکہ امن، عوام کا تحفظ اور علاقے کا استحکام تھا۔
یہ راستہ آسان نہیں تھا۔ دہشت گردوں نے انہیں نشانہ بنایا۔ ایک ہولناک حملے میں وہ خود شدید زخمی ہوئے، ان کا ایک ہاتھ متاثر ہوا، جبکہ ان کے جواں سال صاحبزادے ملک ابوبکر، جو یونیورسٹی سے واپس آ رہے تھے، اپنے والد کے ساتھ سفر کے دوران شہید ہو گئے۔ ان کے سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ یہ قربانی صرف ایک خاندان کی نہیں، بلکہ امن کے لیے دی جانے والی ایک عظیم قربانی تھی۔
لیکن نہ بیٹے کی شہادت، نہ اپنی شدید زخمی حالت اور نہ ہی مسلسل خطرات، ملک بہرام خان کے عزم کو متزلزل کر سکے۔ انہوں نے نہ دہشت گردوں کے سامنے سر جھکایا، نہ اصولوں پر سمجھوتہ کیا اور نہ ہی عوام کا ساتھ چھوڑا۔ یہی وہ استقامت تھی جس نے انہیں دیر کی سیاست میں ایک مضبوط اور باوقار آواز کے طور پر نمایاں کیا۔
آج اگر دوبارہ امن کو چیلنجز درپیش ہیں تو ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔ امن کسی ایک جماعت، ایک شخصیت یا ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری ریاست، تمام سیاسی قیادت، قبائلی مشران، علما، سول سوسائٹی اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اگر ریاست یہ کہتی ہے کہ سرحدوں پر باڑ موجود ہے، سیکیورٹی فورسز تعینات ہیں اور نگرانی کا مضبوط نظام قائم ہے، تو عوام کا یہ سوال بھی جائز ہے کہ دہشت گرد عناصر دوبارہ کہاں سے آ جاتے ہیں؟ ایسے سوالات کا شفاف، ذمہ دارانہ اور قابلِ اعتماد جواب دینا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، کیونکہ عوام کا اعتماد ہی قومی سلامتی کی اصل بنیاد ہے۔
دیر کو نفرت نہیں، امن چاہیے۔
دیر کو تقسیم نہیں، اتحاد چاہیے۔
اور پاکستان کو ایسے مخلص، ثابت قدم اور باکردار رہنماؤں کی ضرورت ہے جو ہر مشکل وقت میں اپنی قوم کے ساتھ کھڑے رہیں، جیسے سن 2013 میں جماعتِ اسلامی کے رہنما ملک بہرام خان کھڑے رہے۔
تحریر
#ساجداحمد
2 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Sajid Ahmad Talks
میاں محمد مقصود صاحب ایک عظیم استاد، سادہ مزاج مفکر اور دردِ دل رکھنے والے داعی تھے۔ ان کی گفتگو میں اخلاص، فکر اور ثابت قدمی نمایاں تھی۔ وہ مشکل موضوعات کو نہایت آسان انداز میں سمجھانے کا ہنر رکھتے تھے، اسی لیے ان سے سیکھنے والا ہر شخص ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔
ہم گزشتہ کئی مہینوں سے ان کے سوشل میڈیا پیجز اور دروس سے استفادہ حاصل کر رہے تھے۔ ان کی شخصیت علم، حکمت اور شعور کا حسین امتزاج تھی۔ آج ان کی جدائی ایک ایسا علمی و فکری خلا چھوڑ گئی ہے جسے محسوس کیا جاتا رہے گا۔
وہ صرف ایک استاد نہیں تھے، بلکہ دلوں میں فکر جگانے والے انسان تھے۔ ان کی نرم گفتگو، خلوص بھرا انداز اور امت کے لیے درد ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے علم و فکر کو صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
ساجد احمد
4 months ago | [YT] | 2
View 2 replies
Sajid Ahmad Talks
وَتِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
زندگی میں اچھے اور برے دن آتے رہتے ہیں، کسی کے دن ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی خوشی، کبھی آزمائش—یہ سب وقت کے بدلنے کا حصہ ہے۔
🖤
5 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Sajid Ahmad Talks
فجر کی نماز اور تلاوتِ قرآن کے بعد علمی بیانات سننا اب معمول کا حصہ بن چکا ہے—ایک ایسا معمول جو دن کی شروعات کو صرف روحانی نہیں بلکہ فکری طور پر بھی مضبوط بنا دیتا ہے۔ آج جب سفر کا آغاز ہوا اور گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے ڈاکٹر اسامہ رضی کا بیان سننا شروع کیا، تو ان کے اندازِ گفتگو کی سنجیدگی، دلیل کی مضبوطی اور موضوع پر گرفت نے فوراً توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی۔
بیان آگے بڑھا تو ایک عجیب سی فکری مماثلت محسوس ہوئی—یہی ترتیب، یہی ٹھہراؤ، یہی جراتِ اظہار… اور ذہن غیر ارادی طور پر سید منور حسن مرحوم کی طرف منتقل ہو گیا۔ اگرچہ ان سے بالمشافہ ملاقات کبھی ممکن نہ ہو سکی، لیکن ان کے بیانات کو بارہا سننے کے باعث ان کی فکر، اسلوب اور انداز سے ایک گہری شناسائی قائم ہو چکی ہے۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک ہی فکری و دعوتی دھارے سے وابستہ افراد میں اس قدر ہم آہنگی، فکری تسلسل اور علمی وقار پایا جائے۔ جماعت اسلامی کی یہ ایک نمایاں خوبی رہی ہے کہ اس نے ایسے افراد تیار کیے جو محض خطیب نہیں بلکہ صاحبِ فکر، صاحبِ شعور اور دلیل کے ساتھ بات کرنے والے ہوں۔
ایسے اسکالرز کا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تربیت درست ہو، بنیاد مضبوط ہو اور مقصد واضح ہو تو الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے—وہ فکر بن جاتے ہیں، اور فکر جب بیدار ہو جائے تو معاشرے بدلنے لگتے ہیں
ساجد احمد
5 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Sajid Ahmad Talks
ہماری دعوت دنیا کی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے تابع کرنے کی دعوت ہے۔
5 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Sajid Ahmad Talks
پروفیسر خورشید احمد مرحوم کی وفات کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر ان کی علمی، فکری اور نظریاتی خدمات آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔ وہ ایک ایسے عظیم مفکر تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق اور امت کی رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔
ان کا چھوڑا ہوا لٹریچر اور تصانیف آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے افکار کو سمجھیں، ان سے رہنمائی لیں اور ان کے مشن کو آگے بڑھائیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے علمی ورثے سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔
6 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Load more