The Unity Of Humanity وحدت انسانیت

The beauty of the universe is in its diversity. Similarly, the beauty of the world of thought is also due to differences of opinion. If we can maintain the unity of humanity in spite of differences of opinion and views. And if we do not allow it to become a source of enmity, our present world can also become beautiful.
The main purpose and goal of our channel is to try to live with love, tolerance, peace and harmony with differences of opinion. Make this difference of opinion the beauty of the human world.
To this end, we will try to present to you all the religions, sects, schools and ideas of the world. We will present all the great personalities and ideas in human history who have made a significant contribution to the world of thought and philosophy in an impartial, objective and sympathetic manner.
We hope you enjoy the extension of service and would like to thank you for your advice.
The difference of opinion that we consider beautiful is described by Ibrahim Zauq in this poem.


Shamsuddin Hassan Shigri

📢 ویڈیو کو اردو یا اپنی پسند کی زبان میں دیکھنے کا طریقہ

ویڈیو کی Settings ⚙️ میں جائیں، Subtitles/CC کھولیں اور Arabic منتخب کریں۔ اس سے آپ کو مکمل اردو سب ٹائٹلز نظر آئیں گے۔

اگر کسی دوسری زبان میں دیکھنا چاہتے ہیں تو Auto-translate پر کلک کرکے اپنی مطلوبہ زبان منتخب کریں۔

اہم وضاحت: اردو ترجمہ خودکار (Auto-generated) نہیں ہے، بلکہ ہم نے پوری علمی گفتگو کا اردو ترجمہ محنت اور توجہ سے تیار کرکے شامل کیا ہے۔ البتہ دوسری زبانوں میں خودکار ترجمے میں غلطیوں کا امکان ہے۔
________
📢 **How to Watch the Video with Urdu or Other Language Subtitles**

Click **Settings ⚙️** on the YouTube video, open **Subtitles/CC**, and select **Arabic** to display the complete **Urdu subtitles**.

To watch with subtitles in another language, select **Auto-translate** and choose your preferred language.

**Important Note:** The Urdu subtitles are **not auto-generated**. We have carefully prepared and uploaded a complete Urdu translation of this scholarly discussion. However, automatic translations into other languages may contain errors.
_________
📢 كيفية مشاهدة الفيديو مترجمًا إلى الأردية أو إلى اللغة التي تفضّلونها

للمشاهدة مع الترجمة الأردية، يُرجى الدخول إلى الإعدادات (Settings) ⚙️ في الفيديو، ثم اختيار الترجمة (Subtitles/CC)، وبعد ذلك اختيار اللغة العربية (Arabic)، وستظهر لكم الترجمة الأردية الكاملة للحوار.

أما إذا رغبتم في مشاهدة الفيديو مترجمًا إلى لغة أخرى، فيمكنكم الضغط على خيار الترجمة التلقائية (Auto-translate)، ثم اختيار اللغة التي تفضّلونها.

🔴 توضيح مهم:

الترجمة الأردية ليست ترجمة آلية (Auto-generated)، بل قمنا بإعداد الترجمة الكاملة لهذا الحوار العلمي إلى اللغة الأردية بعناية وجهد كبيرين، ثم أضفناها إلى الفيديو يدويًّا.

أما الترجمات إلى اللغات الأخرى، فهي ترجمات آلية، ولذلك قد تتضمّن بعض الأخطاء أو عدم الدقة، ولا سيما في المصطلحات العلمية والتاريخية والمذهبية.

52 minutes ago | [YT] | 0

Shamsuddin Hassan Shigri

زیدیہ: امام زید سے حوثیوں تک!

اسلامی فرقے کیسے وجود میں آئے؟ مذہب، سیاست یا اقتدار کی کشمکش؟

ایک ایسی علمی گفتگو جو اسلامی تاریخ کے کئی بنیادی سوالات کو نئے سرے سے سمجھنے کی دعوت دیتی ہے!

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آج ہم جنہیں سنی، شیعہ، زیدی، خارجی، معتزلی، اشعری اور ماتریدی کہتے ہیں، یہ شناختیں کب، کیسے اور کن تاریخی حالات میں وجود میں آئیں؟

کیا رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد پیدا ہونے والا اختلاف محض سیاسی اقتدار کا مسئلہ تھا، یا اسی اختلاف سے آگے چل کر مذہبی عقائد، نظریات اور مستقل مکاتبِ فکر تشکیل پائے؟

سقیفۂ بنی ساعدہ سے کربلا تک، اور کربلا سے اسلامی علمِ کلام اور زیدی نظریۂ امامت تک، یہ تاریخ آخر ہمیں کیا بتاتی ہے؟

انھی سوالات کے ساتھ چینل وحدتِ انسانیت پر ایک نئے اور مفصل علمی سلسلے کا آغاز کر رہے ہیں:

زیدیہ: امام زید بن علی (ع) سے 2026ء اور معاصر حوثی تحریک تک

اس سلسلے میں ہمارے مہمان ہیں ڈاکٹر عبد الکریم محمد عبد اللہ الوظّاف، جامعہ صنعاء، یمن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تقابلی اسلامی فقہ کے محقق۔

پہلی قسط | EP 216

موضوع: اسلامی مذاہب اور مکاتبِ فکر کی تشکیل کا تاریخی پس منظر

اس تفصیلی نشست میں محض واقعات نہیں گنوائے گئے، بلکہ ان واقعات کے پس منظر میں موجود سیاسی، فکری اور اعتقادی سوالات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مثلاً:

- کیا ابتدائی شیعانِ علی وہی عقائد رکھتے تھے جو بعد میں امامیہ اثنا عشریہ کی شناخت بنے؟
- جنگِ جمل، جنگِ صفین، تحکیم اور خوارج کے ظہور نے اسلامی فکر پر کیا اثرات مرتب کیے؟
- حضرت عمار بن یاسر کی شہادت اور حدیثِ فئہ باغیہ کو تاریخی تناظر میں کیسے سمجھا جائے؟
- مرجئہ، قدریہ، جبریہ اور معتزلہ کے ظہور میں مذہبی مباحث کے ساتھ سیاسی حالات کا کیا کردار تھا؟
- خلقِ قرآن، جبر و اختیار، رؤیتِ باری تعالیٰ اور صفاتِ الٰہیہ کے مباحث کیسے پیدا ہوئے؟
- اشعریہ اور ماتریدیہ کی تشکیل کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
- امام زید بن علی (ع) کی فکر سے زیدیہ کی مستقل مذہبی و فقہی شناخت تک کیا مراحل طے ہوئے؟
- زیدیہ، امامیہ اثنا عشریہ اور معتزلہ کے درمیان اتفاق اور اختلاف کے بنیادی نکات کیا ہیں؟
- زیدی نظریۂ امامت اور یمن کے زیدی فقہی مکاتب کو کیسے سمجھا جائے؟

ایک اہم بات!

آج یمن کی حوثی تحریک کے حوالے سے زیدیہ کا نام بار بار سامنے آتا ہے، لیکن کیا معاصر حوثیوں کو سمجھنے کے لیے زیدی مسلک کی تقریباً تیرہ سو سالہ تاریخ، اس کے عقائد، فقہ، نظریۂ امامت اور داخلی اختلافات کو سمجھنا ضروری نہیں؟

اسی ضرورت کے پیشِ نظر ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات سے گفتگو شروع کرنے کے بجائے پہلے اس پوری فکری روایت کی تاریخی بنیادوں کو سمجھا جائے۔

اس پہلی قسط میں اسلامی فرقوں کی تشکیل کا پس منظر زیرِ بحث ہے۔ آئندہ نشستوں میں امام زید (ع)، زیدی عقائد و فقہ، زیدی ریاستوں، یمن کی تاریخ اور معاصر حوثی تحریک جیسے موضوعات کو زیرِ بحث لانے کا ارادہ ہے۔

یہ سلسلہ کسی مسلک کی تبلیغ یا مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ مختلف مذہبی روایات کو ان کے اپنے علمی مصادر اور اہلِ علم کی توضیحات کی روشنی میں سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ آپ مہمان کی ہر رائے سے متفق ہوں، یہ ضروری نہیں؛ لیکن اختلاف سے پہلے دوسرے مکتبِ فکر کو سمجھنا علمی دیانت کا بنیادی تقاضا ہے۔

عربی گفتگو، اردو ترجمے کے ساتھ!

یہ مکمل پوڈکاسٹ عربی زبان میں ہے۔ اردو ناظرین یوٹیوب کے خودکار اردو سب ٹائٹلز سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

ویڈیو کھولیں ← ⚙️ Settings ← Subtitles/CC یا Captions ← Auto-translate ← Urdu

مہمان: ڈاکٹر عبد الکریم محمد عبد اللہ الوظّاف — جامعہ صنعاء، یمن

میزبان:شمس الدین حسن شگری

چینل: وحدتِ انسانیت | Unity of Humanity
CPRD — کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ

مکمل پوڈکاسٹ کے لیے لنک
https://youtu.be/xJ2MesxeaH8?si=VtjQd...

آپ کی رائے میں اسلامی تاریخ کے ابتدائی فرقوں کی تشکیل میں سیاسی اختلافات زیادہ مؤثر تھے یا اعتقادی اختلافات؟

گفتگو سنیے، اپنی علمی رائے دیجیے اور اس سلسلے کو تاریخِ اسلام اور تقابلِ مذاہب سے دلچسپی رکھنے والے احباب تک پہنچائیے۔

#زیدیہ #امام_زید #اسلامی_فرقے #تاریخ_اسلام #الزيدية #Zaidiyyah #IslamicHistory #Yemen #WahdatEInsaniyat #CPRD #EP216

12 hours ago | [YT] | 4

Shamsuddin Hassan Shigri

زیدی مسلک پر علمی سلسلے کی پہلی نشست ریکارڈ ہوگئی!

پہلی نشست کا عنوان:
اسلامی مذاہب، فرقوں اور مکاتبِ فکر کی تشکیل کا تاریخی پس منظر
السياق التاريخي لنشأة المذاهب والمدارس الإسلامية

آج جامعہ صنعاء، یمن کے ممتاز محقق اور تقابلی اسلامی فقہ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عبد الکریم محمد عبد اللہ الوظّاف کے ساتھ زیدی مسلک پر ہماری پہلی تفصیلی علمی نشست ریکارڈ ہوگئی۔

اس تمہیدی نشست میں اسلامی مذاہب و مکاتبِ فکر کی تشکیل کے تاریخی، سیاسی اور علمی اسباب پر گفتگو ہوئی، بالخصوص:

رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد خلافت و امامت کا اختلاف اور تشیع کی ابتدائی صورتیں۔

حضرت عثمان کے قتل، جنگِ صفین اور تحکیم کے بعد مسلمانوں میں سیاسی و مذہبی تقسیم۔

خوارج، مرجئہ اور اہلِ سنت والجماعت کی تاریخی تشکیل۔

معتزلہ، قدریہ، جہمیہ، اہلِ حدیث، اشاعرہ اور ماتریدیہ جیسے کلامی مکاتب کا ظہور۔

اہلِ رائے و اہلِ حدیث اور چار سنی فقہی مذاہب کی تشکیل۔

تشیع کا سیاسی وابستگی سے نظریۂ امامت تک فکری ارتقا۔

امام زید بن علی کی تحریک، زیدیہ کا ظہور اور جارودیہ، بتریہ و صالحیہ جیسے ابتدائی رجحانات۔

زیدیہ، امامیہ اور اسماعیلیہ کی تاریخی تشکیل، اختلافات اور زیدی علمی روایت کا ارتقا۔

یہ نشست دراصل زیدی مسلک کو سمجھنے کے لیے اسلامی تاریخ اور مذاہب کی تشکیل کا ایک جامع علمی مقدمہ ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ اردو زبان میں اپنی نوعیت کا ایک اولین جامع علمی منصوبہ پیش کیا جائے، جس میں ایک زیدی محقق کے ساتھ براہِ راست گفتگو کے ذریعے امام زید بن علی سے لے کر معاصر حوثی تحریک تک زیدیہ کی تاریخ، عقائد، فقہ، نظریۂ امامت، سیاسی فکر اور یمن کی مذہبی و سیاسی تاریخ پر متعدد تفصیلی نشستیں پیش کی جائیں۔

اس سلسلے کا مقصد کسی مسلک کی تبلیغ یا تردید نہیں، بلکہ زیدی روایت کو اس کے اپنے اہلِ علم اور علمی مصادر کی روشنی میں سمجھنا ہے۔

پہلی نشست بہت جلد مکمل اردو ترجمے کے ساتھ یوٹیوب چینل «وحدتِ انسانیت» پر دستیاب ہوگی۔

ہمارے ساتھ جڑے رہیے، چینل سبسکرائب کیجیے اور اس علمی منصوبے کو اپنے دوستوں، طلبہ اور اہلِ علم کے ساتھ ضرور شیئر کیجیے۔

شمس الدین حسن شگری
میزبان: وحدتِ انسانیت
کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ (CPRD)

#زیدیہ #زیدی_مسلک #اسلامی_مذاہب #اسلامی_فرقے #مکاتب_فکر #تاریخ_اسلام #امام_زید #خلافت_اور_امامت #علم_الکلام #شیعہ_سنی #حوثی_تحریک #یمن #جامعہ_صنعاء #وحدت_انسانیت #Zaidiyyah #ZaydiIslam #IslamicHistory #IslamicSchools #ImamZayd #Yemen #Houthis #WahdatEInsaniyat #CPRD

3 days ago | [YT] | 14

Shamsuddin Hassan Shigri

زیدیہ : ایک علمی، تاریخی اور فکری مطالعہ
زیدی مسلک: آغاز سے 2026ء تک : ایک جامع علمی و تاریخی مکالمہ!

ایک عرصے سے ہماری خواہش تھی کہ زیدی مسلک پر ایک مفصل، سنجیدہ اور تحقیقی گفتگو کی جائے۔ ایسی گفتگو جس میں زیدیہ کی تاریخ، عقائد، فقہ، سیاسی فکر اور معاصر صورتِ حال کو محض دوسرے مکاتبِ فکر کی کتابوں، فرقہ وارانہ مناظروں اور مروجہ تصورات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ خود زیدی علمی روایت کے ماہرین کی زبانی سمجھا جائے۔

الحمدللہ، اس سلسلے میں یمن کی معروف علمی درس گاہ جامعہ صنعاء کے محقق، استاد، مترجم اور محققِ مخطوطات ڈاکٹر عبد الکریم محمد عبد اللہ الوظّاف سے رابطہ ہوا ہے، اور ان کے ساتھ متعدد مستقل علمی نشستوں پر مشتمل ایک تفصیلی پوڈکاسٹ سلسلہ طے پا گیا ہے۔

ہمارے معزز مہمان ڈاکٹر عبد الکریم الوظّاف کون ہیں؟

ڈاکٹر الوظّاف اسلامی فقہِ مقارن، زیدی فقہی و فکری روایت اور اسلامی مخطوطات کی تحقیق و تدوین سے وابستہ یمنی محقق ہیں۔ انہوں نے فقہِ مقارن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے اور جامعہ صنعاء میں تدریس و تحقیق سے وابستہ ہیں۔

ان کی علمی خدمات میں زیدی فقہی تراث کی اہم کتابوں کی تحقیق، قدیم اسلامی مخطوطات کی تدوین اور جدید علمی تحقیقات کے عربی تراجم شامل ہیں۔ انہوں نے زیدی فقہ کے بنیادی مصادر، خصوصاً امام الہادی الی الحق یحییٰ بن الحسین کی فقہی روایت سے متعلق تحقیقی کام بھی کیا ہے۔

یوں ہماری گفتگو ایک ایسے محقق کے ساتھ ہوگی جو زیدیہ کے تاریخی اور فقہی مصادر سے براہِ راست علمی اشتغال رکھتے ہیں۔

اس علمی سلسلے میں کیا کچھ زیرِ بحث آئے گا؟

ہم گفتگو کا آغاز اسلامی مذاہب اور فرقوں کی تاریخی تشکیل سے کریں گے، پھر امام زید بن علی کی شخصیت اور تحریک، زیدی نظریۂ امامت، زیدی عقائد و فقہ، زیدیہ اور اہلِ سنت و اثنا عشریہ کے فکری و فقہی اختلافات، زیدی کلام اور معتزلہ سے اس کے تعلق، یمن میں زیدی ریاستوں کی تاریخ، 1962ء کے انقلاب، معاصر زیدی فکر اور انص ار اللہ (حوثی وں) کی مذہبی و سیاسی شناخت تک مختلف موضوعات کا جائزہ لیں گے۔

یہ گفتگو محض چند تاریخی واقعات یا عقائد کے تعارف تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ زیدی فکر کے تاریخی ارتقا، داخلی تنوع، علمی مصادر اور معاصر سیاسی و مذہبی صورتِ حال کو بھی سمجھنے کی کوشش ہوگی۔

یہ محض ایک پوڈکاسٹ نہیں، بلکہ زیدی مسلک کی تقریباً تیرہ سو سالہ تاریخ، عقائد، فقہ، سیاست اور فکری روایت کو سمجھنے کی ایک مسلسل علمی کوشش ہے۔

ان شاء اللہ، ہماری پہلی نشست کی ریکارڈنگ بہت جلد ہونے جارہی ہے۔

گفتگو عربی زبان میں ہوگی، تاہم اردو ناظرین کے لیے اس کا باقاعدہ تحریری اردو ترجمہ بھی پیش کیا جائے گا، تاکہ پاکستان، ہندوستان اور دنیا بھر کے اردو بولنے والے ناظرین اس علمی مکالمے سے استفادہ کرسکیں۔

ہمارا بنیادی اصول وہی ہے جسے ہم اپنے علمی مکالموں میں ہمیشہ پیشِ نظر رکھتے ہیں: کسی مذہب یا مسلک کو سمجھنے کے لیے پہلے اس کے اپنے اہلِ علم کو سنا جائے۔ ہمارا مقصد کسی مسلک کی تبلیغ، تردید یا فرقہ وارانہ مناظرہ نہیں، بلکہ اس کے تاریخی پس منظر، علمی مصادر اور فکری روایت کو سنجیدگی سے سمجھنا ہے۔

تو جن دوستوں کو زیدی مسلک اس کی ابتدا سے لے کر 2026ء تک سمجھنا ہے، وہ پوڈکاسٹ سننے کی تیاری پکڑ لیں!

ان شاء اللہ، بہت جلد وحدتِ انسانیت پر ایک اہم اور تفصیلی علمی سلسلے کا آغاز ہونے والا ہے۔

شمس الدین حسن شگری

میزبان: وحدتِ انسانیت\
بانی: کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ (CPRD)

4 days ago | [YT] | 13

Shamsuddin Hassan Shigri

عہدِ ابوبکر سے علی و معاویہ کی جنگ تک: تکفیر، مشاجراتِ صحابہ، مذہب یا سیاست؟ | ڈاکٹر بشر علوی

پوڈکاسٹ نمبر ۲۱۵
عہدِ حضرت ابوبکر سے حضرت علی و حضرت معاویہ کی جنگ تک
تکفیر، مشاجراتِ صحابہ اور مذہب و سیاست کا باہمی تعلق

مہمان: ڈاکٹر محمد تہامی بشر علوی
میزبان: شمس الدین حسن شگری
چینل:وحدتِ انسانیت
ادارہ: کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ (CPRD)

---

۱۔ عہدِ حضرت ابوبکر: ارتداد، مانعینِ زکوٰۃ اور تکفیر کی ابتدا
وقت: 13:14 تا 18:45

1. اسلامی تاریخ میں تکفیر کی ابتدا کب اور کن تاریخی حالات میں ہوئی؟
2. عہدِ حضرت ابوبکر میں مانعینِ زکوٰۃ، مدعیانِ نبوت اور مرتدین کے مسائل کی نوعیت کیا تھی؟
3. ان مختلف گروہوں کی مذہبی اور سیاسی حیثیت میں کیا فرق تھا، اور ان کے خلاف اقدامات کو کس تاریخی و دینی تناظر میں سمجھنا چاہیے؟

۲۔ عہدِ حضرت علی: خوارج، مشاجراتِ صحابہ اور تکفیر
وقت: 18:45 تا 26:51

1. عہدِ حضرت علی میں خوارج کا ظہور اور مسئلۂ تکفیر۔
2. خوارج نے مسلمانوں کی تکفیر کن بنیادوں پر کی؟ کیا ان کے فیصلوں کا تعلق مذہبی عقائد سے تھا یا سیاسی اختلافات سے؟
3. مشاجراتِ صحابہ کے بارے میں ڈاکٹر بشر علوی کا تاریخی و فکری نقطۂ نظر کیا ہے؟
4. حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان جنگ کو کس تناظر میں سمجھنا چاہیے: قبائلی تنازع، سیاسی کشمکش یا دینی و اصولی اختلاف؟

۳۔ اموی و علوی سیاست اور مذہبی تکفیر کا ارتقا
وقت: 41:41 تا 46:42

1. اموی اور علوی سیاسی کشمکش کے تناظر میں تکفیر کی تاریخی تشکیل کو کیسے سمجھا جائے؟
2. دین کے ابتدائی تصور اور بعد کے ادوار میں تشکیل پانے والی مذہبی تعبیرات کے درمیان کیا فرق تھا؟
3. اموی و علوی اختلافات نے مذہبی اور کلامی مباحث کو کس حد تک متاثر کیا؟
4. کیا ابتدائی سیاسی اختلافات نے بعد میں مذہبی تکفیر کی صورت اختیار کی، یا ان کے پس منظر میں پہلے سے دینی و اعتقادی اختلافات موجود تھے؟

۴۔ حضرت علی اور حضرت معاویہ کا اختلاف: مذہبی، سیاسی یا قبائلی؟
وقت: 53:07 تا 1:11:55

1. شیعہ سنی اختلاف کی بنیادی نوعیت کیا تھی؟ کیا اس کی ابتدا سیاسی اختلاف سے ہوئی یا اس کے پس منظر میں دینی و اعتقادی مسائل بھی موجود تھے؟
2. مشاجراتِ صحابہ کی تاریخی تعبیر میں سیاسی، قبائلی اور مذہبی عوامل کو کس طرح الگ کیا جا سکتا ہے؟
3. حضرت علی اور حضرت معاویہ کے اختلاف کو بنو ہاشم اور بنو امیہ کی قبائلی کشمکش قرار دینے کی تعبیر کس حد تک درست ہے؟
4. کیا اموی و ہاشمی تنازعے کی یہ تعبیر بنیادی طور پر مستشرقین کے ہاں ملتی ہے، یا مسلم تاریخی مصادر میں بھی اس کے شواہد موجود ہیں؟
5. اگر اس اختلاف کو محض قبائلی یا سیاسی کشمکش سمجھا جائے تو اس میں موجود دینی و مذہبی استدلال کی کیا توجیہ ہوگی؟
6. کیا مذہبی استدلال بعد میں سامنے آیا، جبکہ بنیادی اختلاف پہلے سے سیاسی نوعیت کا تھا؟
7. اگر کوئی شخص علوی نسل سے تعلق رکھتا ہو تو کیا محض نسبی وابستگی کی بنیاد پر حضرت علی کی سیاسی حمایت کو درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
8. اس پورے اختلاف میں عصبیت اور تعصب کا کیا کردار تھا، اور دونوں تصورات میں کیا فرق ہے؟
9. حضرت عثمان کی شہادت پر حضرت علی اور حضرت معاویہ کے ردعمل میں جو اختلاف سامنے آیا، اس کی بنیاد سیاسی و قبائلی تھی یا دینی و اصولی؟
10. حضرت علی کے حق پر ہونے سے متعلق روایات کو اس تاریخی و سیاسی تعبیر میں کس طرح سمجھا جائے؟
11. اگر ابتدائی سیاسی تنازع وقت کے ساتھ ختم ہوگیا تھا تو اس سے پیدا ہونے والے مذہبی اور اعتقادی اختلافات کیوں برقرار رہے؟
12. کیا اس تاریخی تسلسل سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی اختلافات نے بعد میں مستقل مذہبی شناخت اختیار کرلی؟

۵۔ مشاجراتِ صحابہ کی تعبیر، تکفیر کی بنیادیں اور شیعہ سنی نقطۂ نظر
وقت: 1:11:55 تا 1:34:22

1. آپ کی سابقہ گفتگو سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ تکفیر کی تشکیل میں سیاسی عوامل بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تکفیر کی کوئی مستقل دینی یا اعتقادی بنیاد نہیں؟
2. ایک تاریخی مفروضے کے طور پر، اگر بعد کے ادوار میں تشکیل پانے والی شیعہ مذہبی شناخت رکھنے والے لوگ عہدِ حضرت ابوبکر میں موجود ہوتے تو ان کے عقائد اور سیاسی مؤقف کو کس طرح دیکھا جاتا؟
3. مشاجراتِ صحابہ سے متعلق ڈاکٹر بشر علوی کے نقطۂ نظر کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں؟
4. شیعہ اور سنی اہلِ علم اور عوام کو مشاجراتِ صحابہ اور باہمی تکفیر کے مسئلے پر کیا علمی و فکری مشورہ دیا جا سکتا ہے؟

وحدتِ انسانیت | Wahdat-e-Insaniyat

کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ (CPRD)

#Takfir #مسئلہ_تکفیر #MashajaratESahaba #AliMuawiya #AbuBakr #Khawarij #ShiaSunni #IslamicHistory #TahamiBasharAlvi #WahdatEInsaniyat #CPRD #EP215
#مسئلہ_تکفیر #تکفیر #تکفیر_کی_تاریخ #حضرت_ابوبکر #مانعین_زکوۃ #ارتداد #حضرت_علی #حضرت_معاویہ #علی_اور_معاویہ #جنگ_صفین #خوارج #مشاجرات_صحابہ #شہادت_عثمان #بنو_امیہ #بنو_ہاشم #اموی_علوی_سیاست #شیعہ_سنی_اختلاف #مذہب_اور_سیاست #اسلامی_تاریخ #
Takfir, Takfeer, مسئلہ تکفیر, Abu Bakr, Ridda Wars, مانعین زکوۃ, Hazrat Ali, Hazrat Muawiya, Ali Muawiya War, Ali Muawiya Conflict, Mashajarat Sahaba, مشاجرات صحابہ, Khawarij, Kharijites, Battle of Siffin, Shia Sunni, Shia Sunni Takfir, Umayyad Alid Politics, Islamic History, Islamic Politics, Takfir Religion Politics, Tahami Bashar Alvi, Dr Bashar Alvi, Shamsuddin Hassan Shigri, Wahdat e Insaniyat, CPRD, EP 215

1 week ago | [YT] | 5

Shamsuddin Hassan Shigri

EP 215 | تکفیر: مذہب یا سیاست؟
حضرت علی اور حضرت معاویہ کی جنگ مذہبی تھی یا سیاسی؟ شیعہ سنی اختلاف کیسے تشکیل پایا؟ اور برصغیر میں دیوبندی بریلوی تکفیر کا پس منظر کیا ہے؟
ڈاکٹر محمد تہامی بشر علوی کے ساتھ مسئلۂ تکفیر کی تاریخ، فقہی و کلامی شرائط اور سیاسی تعبیرات پر تفصیلی علمی گفتگو۔
Takfir: Religion or Politics?
Was the Ali–Muawiya conflict primarily political or religious? How did Shia–Sunni divisions and South Asian Takfir controversies develop?
An in-depth scholarly conversation with Dr. Muhammad Tahami Bashar Alvi.
Host: Shamsuddin Hassan Shigri
Channel: Wahdat-e-Insaniyat
Institution: CPRD
Episode: 215 | Duration: 2h 10m
#Takfir #AliMuawiya #ShiaSunni #TahamiBasharAlvi #WahdatEInsaniyat

Link
https://youtu.be/RjkdkAd1UrE?si=bFHof...

1 week ago | [YT] | 9

Shamsuddin Hassan Shigri

کتابوں کے آرڈر کی تفصیلات

1۔ مذاہبِ عالم میں خدائے معبود کی وحدانیت
مصنف: پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری
قیمت بمع ڈاک خرچ: 1,800 روپے

2۔ وحدت الوجود
قیمت بمع ڈاک خرچ: 1,200 روپے

دونوں کی مجموعی قیمت: 3,000 روپے
دونوں کتابیں ایک ساتھ آرڈر کرنے پر خصوصی قیمت: 2,500 روپے بمع ڈاک خرچ

ادائیگی

Account number
IBN number
PK46DU IB000000
1122320001

Account Taital

COUNCIL FOR PLURALISTIC RESEARCH AND DIALOGUE

Bank name

Dubai Islamic Bank

رقم منتقل کرنے کے بعد ادائیگی کا اسکرین شاٹ، مکمل نام، مکمل پتہ اور فون نمبر ارسال کر دیجیے۔

CPRD — کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ

1 week ago | [YT] | 13

Shamsuddin Hassan Shigri

ہندو یا سناتن دھرم میں خدا کا تصور کیا ہے؟

کیا ہندو دھرم میں خدا ایک ہے یا متعدد؟
برہما، وشنو، شِو اور دیگر دیوتاؤں کا تصورِ خدا سے کیا تعلق ہے؟ اور سناتن دھرم کے مذہبی و فلسفیانہ لٹریچر میں وحدانیت کو کس طرح سمجھا گیا ہے؟

انہی اہم سوالات پر انڈونیشیا کی دھرماوانگسا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری سے ان کی کتاب
’’مذاہبِ عالم میں خدائے معبود کی وحدانیت — تاریخی و تنقیدی مطالعہ‘‘
پر تفصیلی گفتگو۔

مکمل پوڈکاسٹ | EP.214
وحدت انسانیت | Wahdat-e-Insaniat

#ہندو_دھرم #سناتن_دھرم #تصور_خدا #توحید #برہما #وشنو #شِو #مذاہب_عالم #تقابل_ادیان #صلاح_الدین_ازہری #ہندومت #مذہب #وحدت_انسانیت #Podcast214 #EP214

1 week ago | [YT] | 16

Shamsuddin Hassan Shigri

نیا پوڈ کاسٹ اپلوڈ ہو چکا ہے | EP 214

خدا کون ہے؟ مذاہب، فلسفہ اور تصوف اس سوال کا کیا جواب دیتے ہیں؟

انسانی فکر کا شاید سب سے قدیم، بنیادی اور مسلسل سوال ’’خدا کون ہے؟‘‘ ہے۔ تہذیبیں بدلیں، فلسفے وجود میں آئے، مذاہب نے مختلف زبانوں میں خدا کا تعارف کرایا، متکلمین نے عقلی و نقلی استدلال قائم کیا اور صوفیہ و عرفاء نے حقیقتِ مطلقہ کو ایک مختلف زاویے سے سمجھنے کی کوشش کی۔

لیکن سوال آج بھی اپنی پوری معنویت کے ساتھ موجود ہے:

کیا خدا کا تصور تمام مذاہب میں ایک ہی ہے؟
خدا، اللہ، ایشورا اور برہما جیسے مختلف نام کیا **ایک ہی ابدی حقیقت** کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یا ان ناموں کے پیچھے تصوراتِ الوہیت بھی بنیادی طور پر مختلف ہیں؟

اور یہ کہنا کہ *’خدا بدیہی ہے‘ آخر اس کا مطلب کیا ہے؟

مہمان شخصیت

اس اہم موضوع پر ہمارے مہمان پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری ہیں، جو طویل عرصے سے تقابلِ ادیان، اسلامی فکر، عربی و اسلامی علوم اور تصوف کے علمی و تدریسی میدان سے وابستہ ہیں۔ ان کا تدریسی و تحقیقی تعلق انڈونیشیا سے ہے اور وہ دھرماوانگسا یونیورسٹی، میدان، انڈونیشیا سے وابستہ رہے ہیں۔

اس نشست کی ایک خاص اہمیت یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر صلاح الدین ازہری محض اس موضوع پر گفتگو کرنے والے محقق نہیں بلکہ زیرِ بحث کتاب ’مذاہبِ عالم میں خدائے معبود کی وحدانیت: تاریخی و تنقیدی مطالعہ‘‘کے مصنف ہیں۔ چنانچہ پوڈکاسٹ میں ہم کتاب کا تعارف ہی نہیں کرتے بلکہ مصنف سے براہِ راست یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے مختلف مذاہب اور فکری روایتوں کے تصورِ خدا کو ایک ہی مطالعے میں جمع کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔

گفتگو ایک وسیع تاریخی و فکری سفر طے کرتی ہے:

قدیم مذاہب میں خدائے معبود کا تصور کیا تھا؟
ہندو مذہبی فکر میں الوہیت، برہمن اور حقیقتِ مطلقہ کو کیسے سمجھا گیا؟
یونانی فلسفے میں خدا کا سوال کس طرح فلسفیانہ مسئلہ بنا؟
یہودیت اور مسیحیت میں خدا کا تصور کیا ہے اور توحید و تثلیث کی بحث کہاں سامنے آتی ہے؟
اسلام کا عقیدۂ توحید تصورِ خدا کو کس طرح بیان کرتا ہے؟
مسلم متکلمین نے ذات و صفاتِ الٰہی کے مباحث کو کیسے سمجھا؟
مسلم فلاسفہ کے ہاں خدا، علتِ اولیٰ اور واجب الوجود جیسے تصورات کیا معنی رکھتے ہیں؟
اور پھر تصوف و عرفان میں خدا اور کائنات کا تعلق کس طرح بیان ہوا؟
بالخصوص ابن عربی اور نظریۂ وحدت الوجود میں خدا، وجود اور کائنات کے باہمی تعلق کو کیسے سمجھا جائے؟

اس پوڈ کاسٹ کا مقصد محض یہ جاننا نہیں کہ مختلف مذاہب خدا کو کیا نام دیتے ہیں۔ اصل علمی سوال اس سے کہیں آگے ہے:

جب مذہب، علمِ کلام، فلسفہ اور تصوف ’’خدا‘‘ کی بات کرتے ہیں تو کیا سب ایک ہی حقیقت کو ایک ہی معنی میں بیان کررہے ہوتے ہیں؟

قدیم مذاہب → یونانی فلسفہ → یہودیت → مسیحیت → اسلامی توحید → مسلم علمِ کلام → اسلامی فلسفہ → تصوف و وحدت الوجود

تصورِ خدا کے اس طویل مذہبی، کلامی، فلسفیانہ اور عرفانی سفر پر خود کتاب کے مصنف کے ساتھ تفصیلی علمی گفتگو۔

مہمان: پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری
مصنف: مذاہبِ عالم میں خدائے معبود کی وحدانیت
میزبان: شمس الدین حسن شگری
EP 214 | وحدت انسانیت
کونسل برائے تکثیری تحقیق ومکالمہ

پوڈ کاسٹ اب وحدت انسانیت پر اپلوڈ ہو چکا ہے۔

دیکھیے، سنیے اور اس بنیادی انسانی سوال پر ازسرِنو غور کیجیے:
’’خدا کون ہے؟‘

#خدا_کون_ہے #تصور_خدا #مذاہب_عالم #توحید #تقابل_ادیان #فلسفہ #تصوف #عرفان #وحدت_الوجود #ابن_عربی #علم_الکلام #اسلامی_فلسفہ #صلاح_الدین_ازہری #شمس_الدین_حسن_شگری #وحدت_انسانیت #WhoIsGod #ConceptOfGod #WorldReligions #ComparativeReligion #IslamicPhilosophy #Mysticism #Sufism #Tawhid #IbnArabi #WahdatAlWujud #EP214

1 week ago | [YT] | 11

Shamsuddin Hassan Shigri

کتاب خریدنے کے لیے
کتاب منگوانے، قیمت اور دیگر تفصیلات کے لیے واٹس ایپ پر پیغام کیجیے:

0340-2442023

کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ (CPRD)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

فہرستِ موضوعات
ف

عرضِ ناشر
شمس الدین حسن شگری

تعارف
پروفیسر ڈاکٹر زریدہ محمد دون

پیش لفظ
پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین

باب اول: قدیم مذاہب میں خدائے معبود سے متعلق مختلف تصورات

خدائے معبود سے متعلق مختلف مذہبی تصورات کے مابین متفقہ اصول

1۔ ہندو عقیدہ میں خدائے معبود کا تصور
ا۔ ہندو عقیدہ میں "اتحاد یا وجودی وحدت" کا تصور
ب۔ وجودی وحدت کی تعریف
ج۔ یونانی اور ہندوستانی فلسفہ میں وجود کی وحدت کا تصور
د۔ ہندو مت کا فکری تانا بانا
1۔ برہمن
2۔ آتماں (Atman)
3۔ کرما (Karma)
4۔ روحوں کا تناسخ
5۔ نجات (موکش)
6۔ ہندو مت کے عقیدہ میں روحوں کا تناسخ
7۔ (تناسخ) یا (پنر جنم) کے نظریہ پر مبصرین کی آراء کا خلاصہ

2۔ بدھ مت کے عقیدہ میں خدائے معبود کا تصور

3۔ (الف) چینی عقیدہ کا آسمانی خدا
3۔ (ب) چین کا شمنی مذہب

4۔ (الف) ایران کے زرتشتی عقائد میں خدائے معبود کا تصور
4۔ (ب) آریوں کے مذہبی عقائد میں خدائے معبود کا تصور
4۔ (ج) زرتشت کی اخلاقی تعلیمات کے تین ستون
4۔ (د) زرتشتی عقیدہ میں خدائے معبود کا تصور

5۔ (ا) قدیم یونان میں خدائے معبود کا تصور
5۔ (ب) افلاطون اور ارسطو کے یہاں خدائے معبود کا تصور
5۔ (ج) اسکندریہ کے فلسفیوں کا جدید افلاطونی نظریہ

باب دوم: یہود و نصاریٰ کے عقائد میں خدائے معبود کا تصور

1۔ بنی اسرائیل کا تاریخی پس منظر
ا۔ یہود اور یہودیت کا ایک تعارف
ب۔ یہودیت
ج۔ یہودی شریعت کے دس احکام

2۔ عیسائیت کا تاریخی پس منظر
ا۔ قرآن مجید میں عیسیٰ ابن مریم کی ولادت
ب۔ کتاب مقدس میں عیسیٰ ابن مریم کی ولادت

3۔ عیسائیوں کے نظریۂ تثلیث میں خدائے معبود کا تصور
ا۔ عیسائیوں کا نظریۂ توحید
ب۔ عیسائیوں کا نظریۂ تثلیث
ج۔ عیسائیوں کا عقیدۂ اتحاد و حلول
د۔ عقیدۂ تثلیث کے بارے میں عیسائیوں کے دلائل

4۔ عیسیٰ علیہ السلام کے اقوال سے نظریۂ تثلیث کی تردید

5۔ عیسائیت کی تحریف میں قسطنطین کا کردار

باب سوم: مسلمانوں کے عقیدۂ توحید میں خدائے معبود کا تصور

موضوع کا تعارف: خدا تعالیٰ پر ایمان

1۔ مسلمان فقہاء کے عقیدۂ توحید میں خدائے معبود کا تصور
(ا) امام ابو حنیفہ (رحمۃ اللہ علیہ)
(ب) امام مالک بن انس (رحمۃ اللہ علیہ)
(ج) امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ)
(د) امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ)

2۔ علمائے کلام کے عقیدۂ توحید میں خدائے معبود کا تصور

(الف) معتزلہ کے نزدیک عقیدۂ توحید میں خدائے معبود کا تصور

1۔ خالص ذاتی صفات
2۔ شکلی شرکت کی صفات

اول: ذاتی صفات
1۔ قدرت و طاقت
2۔ علمیت
3۔ زندگی
4۔ وجود اور وجودیت

دوم: عملی صفات
1۔ کلام کی حقیقت
2۔ قرآن کی تخلیق
3۔ تنزیل (وحی)
4۔ لوح محفوظ

سوم: صفات نفی
الف۔ جسمانی صفات کا انکار
ب۔ مثال کا انکار
ج۔ احتیاج کا انکار
د۔ دوئی کا انکار

2۔ معتزلہ کا خدائے معبود کی صفاتِ حدوث سے انکار
ا۔ جسمانیت کا انکار
ب۔ اعراض سے انکار
ج۔ خدا کی رؤیت سے انکار

3۔ صفات الٰہیہ پر جہمیہ اور معتزلہ کی تردید میں ابن حنبل کا تبصرہ
ا۔ لافانی کے فنا ہونے سے متعلق تصور پر ابن حنبل کی تنقید
ب۔ خدائے معبود کا دیدار اور اس کا ثبوت

4۔ اشاعرہ کے نزدیک عقیدۂ توحید میں خدائے معبود کا تصور
اول: خدا کے وجود پر اشعری کی دلیل
دوم: خدا کی صفات پر اشعری کی دلیل
(ا) ذات معبود کی صفات
(ب) خدا کی صفات، نہ تو عین ذات ہیں اور نہ ہی غیر ذات
ج۔ مخلوقہ معلومات اور خدا کے ازلی علم کے درمیان تعلق
د۔ صفات خبریہ
سوم: قیامت کے دن خدا کے دیدار کا جواز
چہارم: خدا کا کلام (کلام نفسی اور کلام لفظی)

باب چہارم: مسلم فلاسفہ کے نظریۂ الوہیت میں خدائے معبود کا تصور

کندی کے نظریۂ الوہیت کا ایک اجمالی تعارف
(الف) کندی کے فلسفۂ الوہیت میں خدائے معبود کا تصور
(ب) فارابی کے فلسفۂ الوہیت میں خدائے معبود کا تصور
(ج) ابن سینا کے فلسفۂ الوہیت میں خدائے معبود کا تصور
(د) مسلمان فلسفیوں کے فلسفۂ الوہیت پر غزالی کا تبصرہ
(ھ) متکلمین اور فلسفیوں کے یہاں مسئلۂ الوہیت پر ابن رشد کا تبصرہ
(و) معتزلہ اور فلسفیوں کے یہاں مسئلۂ الوہیت پر ابن تیمیہ کا تبصرہ

باب پنجم: صوفیوں کے نظریۂ وحدت وجود میں خدائے معبود کا تصور

1۔ ابن عربی کے نظریۂ وحدت الوجود میں خدائے معبود کا تصور
1۔ (ا) محیی الدین ابن عربی
1۔ (ب) ابن عربی کے نظریۂ وحدت الوجود میں وجود کے مراتب
1۔ (ج) ابن عربی کے نزدیک خیال یا برزخ کا تصور

2۔ ابنِ عربی کی اصطلاح "ألوھہ" یا "الوہیت"

3۔ ابنِ عربی کے تصور "ألوہیت" کے فکری سرچشمے
ا۔ افلوطین کے نظریۂ فیض میں خدائے معبود کا تصور
ب۔ نظریۂ کمون
ج۔ نظریۂ معدوم

4۔ خلاصۂ بحث و تحقیق
أ۔ ابنِ عربی، فارابی اور ابنِ سینا کے یہاں فلسفۂ عقولِ عشرہ کی اہمیت
ب۔ ابنِ عربی اور اسماعیلی باطنی فلسفہ

2۔ ابن سبعین: نظریۂ وحدت وجود مطلق میں خدائے معبود کا تصور
1۔ (ا) ابنِ سبعین کا تعارف
1۔ (ب) ابنِ سبعین کے نظریۂ "وحدتِ وجودِ مطلق" پر علماء کی آراء
(ج) ابنِ سبعین کے نظریۂ «وحدتِ وجودِ مطلقہ» میں خدائے معبود کا تصور

3۔ «وحدتِ الوجود» اور «وحدتِ وجود مطلق» کے درمیان موازنہ

بحث و تحقیق کا خلاصہ

ختامیہ کلمات
(الف) شرک سے مطلق پاکی کا تصور
(ب) رحمت و جمال، اور قہر و غضب سے متعلقہ صفات
(ج) ضمیر و وجدان اسلامی عقیدہ کا ایک بنیادی وسیلہ
(د) باطل مشرکانہ عقائد کا مکمل سد باب

بحث و تحقیق کے مصادر اور مراجع

کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ: تعارف اور اغراض و مقاصد
____

کتابوں کے آرڈر کی تفصیلات

1۔ مذاہبِ عالم میں خدائے معبود کی وحدانیت
مصنف: پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری
قیمت بمع ڈاک خرچ: 1,800 روپے

2۔ وحدت الوجود
قیمت بمع ڈاک خرچ: 1,200 روپے

دونوں کی مجموعی قیمت: 3,000 روپے
دونوں کتابیں ایک ساتھ آرڈر کرنے پر خصوصی قیمت: 2,500 روپے بمع ڈاک خرچ

ادائیگی

Account number
IBN number
PK46DU IB000000
1122320001

Account Taital

COUNCIL FOR PLURALISTIC RESEARCH AND DIALOGUE

Bank name

Dubai Islamic Bank

رقم منتقل کرنے کے بعد ادائیگی کا اسکرین شاٹ، مکمل نام، مکمل پتہ اور فون نمبر ارسال کر دیجیے۔

CPRD — کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ

2 weeks ago | [YT] | 12