ایک دن ملا نصرالدین چائے خانے میں بیٹھے تھے۔ چند لوگ اپنی اپنی بہادری کے قصے سنا رہے تھے۔ ایک امیر سوداگر نے فخر سے کہا، "دنیا میں کوئی ایسا کام نہیں جو پیسوں کے زور پر نہ ہو سکے!"
ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، "اگر آپ اتنے یقین سے کہتے ہیں تو میں آپ سے ایک شرط لگاتا ہوں۔" سوداگر نے پوچھا، "کیسی شرط؟" ملا نے کہا، "میں ایسا کام کروں گا جسے آپ ناممکن سمجھتے ہیں، لیکن آپ کو آخر میں ماننا پڑے گا کہ میں نے شرط جیت لی۔"
اگلے دن ملا نے اعلان کیا کہ وہ بغیر کسی سیڑھی کے گاؤں کی سب سے اونچی دیوار کے اوپر چڑھیں گے۔ لوگ جمع ہو گئے۔ سب سوچنے لگے کہ ملا یہ ناممکن کام کیسے کریں گے۔ ملا نے دیوار کے پاس جا کر زمین پر ایک لمبی لکڑی رکھ دی اور لکڑی کے سائے کو دیکھا۔
پھر ملا نے ہنس کر کہا، "دیکھو! میں دیوار پر چڑھے بغیر اس کے اوپر پہنچ گیا!" انہوں نے دیوار کے اوپر ایک چھوٹا سا پتھر پھینک دیا اور بولے، "میرا مقصد دیوار کے اوپر چیز پہنچانا تھا، خود چڑھنا نہیں!" سوداگر حیران رہ گیا اور شرط ہار گیا۔
ملا نصرالدین نے کہا، "ناممکن کام اکثر اس لیے ناممکن لگتا ہے کیونکہ ہم مسئلے کو صرف ایک طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔"
سبق: عقل، حاضر جوابی اور مختلف انداز سے سوچنے والا شخص مشکل کام کا آسان راستہ تلاش کر لیتا ہے۔
ایک دن ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک پرانے گھر کے پاس سے گزر رہے تھے۔ وہاں انہیں زمین میں ایک عجیب سا نشان نظر آیا۔ ملا نے غور سے زمین کھودی تو اسے ایک پرانا صندوق ملا۔ صندوق کھولنے پر اندر سونے کے سکے اور قیمتی زیورات تھے، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ خزانہ صرف ملا نصرالدین کو نظر آ رہا تھا، باقی لوگوں کو وہاں کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔
ملا نے سوچا، "یہ ضرور کوئی غیبی خزانہ ہے، لیکن اگر یہ میرے لیے ہے تو اسے صحیح کام میں استعمال کرنا چاہیے۔" وہ خزانہ اٹھا کر گھر لے گئے اور کسی کو اس کے بارے میں نہیں بتایا۔
اگلے دن ملا نصرالدین نے اس خزانے سے غریب لوگوں کے لیے کھانا خریدا، یتیم بچوں کے کپڑے بنوائے اور گاؤں کے کنویں کی مرمت کروائی۔ گاؤں کے لوگ حیران تھے کہ ملا اتنے کام کیسے کروا رہے ہیں۔
آخرکار ملا نے مسکرا کر کہا، "خزانہ چھپانے سے دولت نہیں بڑھتی، بلکہ دوسروں کی مدد کرنے سے اس کی اصل قدر ظاہر ہوتی ہے۔" لوگوں نے ملا کی دانائی کی تعریف کی۔ اس دن سب نے سیکھا کہ اصل خزانہ دولت نہیں بلکہ اسے اچھے کاموں میں استعمال کرنا ہے
Task : Story post Story Post no : 48 facbook link : www.facebook.com/profile.php?... youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders ملا نصرالدین کی عدالت میں چالاکی ایک دن گاؤں کے دو آدمیوں میں ایک قیمتی گھوڑے کو لے کر جھگڑا ہو گیا۔ دونوں ملا نصرالدین کے پاس پہنچے اور اپنی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرنے لگے۔ ملا نے دونوں کی بات غور سے سنی، مگر فیصلہ کرنا آسان نہ تھا۔ ملا نصرالدین نے ایک چال سوچی۔ اس نے دونوں آدمیوں سے کہا، "تم دونوں گھوڑے کو اپنے اپنے گھر لے جاؤ، لیکن یاد رکھنا کہ میں ابھی تمہارے ساتھ ایک آدمی بھیج رہا ہوں۔" ایک آدمی گھبرا گیا اور بار بار گھوڑے کی طرف دیکھنے لگا۔ ملا نے فوراً سمجھ لیا کہ یہی شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ اس نے اس سے کہا، "اگر گھوڑا واقعی تمہارا ہے تو تمہیں اس کے بارے میں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔" ملا نے گھوڑے کی چند عادتوں کے بارے میں سوالات کیے۔ اصلی مالک نے فوراً درست جواب دیے، جبکہ دوسرا شخص خاموش ہو گیا۔ آخرکار ملا نصرالدین نے فیصلہ اصلی مالک کے حق میں دے دیا۔ سب لوگ ملا کی حاضر جوابی اور سمجھ داری سے بہت متاثر ہوئے۔ ملا مسکرایا اور بولا، "سچ کو زیادہ دیر چھپایا نہیں جا سکتا، بس اسے تلاش کرنے کے لیے عقل سے کام لینا چاہیے۔" سبق: مشکل معاملے میں جلد بازی کے بجائے غور و فکر اور حاضر جوابی سے کام لینا چاہیے۔ کہانی کو تصویری انداز میں آگے بڑھائیں
ایک دن سلطان نے ملا نصرالدین کو اپنے دربار میں بلایا۔ سلطان نے کہا، "ملا! میں تمہیں ایک مشکل چیلنج دیتا ہوں۔ اگر تم اسے حل کر دو تو تمہیں انعام ملے گا۔" ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا، "حضور! چیلنج کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، عقل اور صبر سے ہر مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔"
سلطان نے ملا کے سامنے ایک عجیب سوال رکھا اور کہا، "بتاؤ، میرے خزانے میں موجود سونے کے سکوں کی صحیح تعداد بغیر گنے کیسے معلوم کی جا سکتی ہے؟" درباری ملا کو مشکل میں دیکھ کر ہنسنے لگے۔ ملا نصرالدین نے کچھ دیر سوچا اور پھر کہا، "مجھے خزانے کے پاس لے چلیں۔"
ملا نے خزانے میں جا کر سکوں کے تھیلے دیکھے۔ اس نے تھیلوں کا وزن کروایا اور ایک تھیلے کے سکوں کا وزن معلوم کیا۔ پھر اس نے حساب لگا کر سلطان کو سکوں کی تعداد بتا دی۔ سلطان نے جب سکوں کو گنوا کر دیکھا تو ملا کا جواب بالکل درست نکلا۔ تمام درباری حیران رہ گئے۔
سلطان نے خوش ہو کر ملا نصرالدین کو انعام دیا اور کہا، "ملا! تم نے ثابت کر دیا کہ عقل اور حاضر جوابی سے مشکل ترین چیلنج بھی حل کیا جا سکتا ہے۔" ملا نصرالدین مسکرایا اور بولا، "حضور! مسئلہ کتنا ہی بڑا ہو، گھبرانے کے بجائے سمجھ داری سے سوچنا چاہیے
ایک گاؤں میں دو کسانوں کے درمیان ایک زمین کو لے کر جھگڑا ہو گیا۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ زمین ان کی ہے۔ وہ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے گاؤں کے لوگوں کے پاس گئے، مگر کوئی فیصلہ نہ کر سکا۔
آخرکار دونوں ملا نصرالدین کے پاس پہنچے اور اپنا مسئلہ بتایا۔ ملا نصرالدین نے دونوں کی بات غور سے سنی اور کہا، "اگر زمین تم دونوں کی ہے تو زمین سے پوچھ لیتے ہیں کہ وہ کس کی ہے!"
دونوں حیران ہو گئے۔ ملا نصرالدین نے کہا، "جو شخص زمین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے، اصل حق دار بھی وہی ہے۔"
دونوں کسان خاموش ہو گئے۔ ایک نے اعتراف کیا کہ وہ زمین کی دیکھ بھال نہیں کرتا، جبکہ دوسرا باقاعدگی سے پانی دیتا اور فصل اگاتا تھا۔
ملا نصرالدین نے فیصلہ سنایا کہ زمین اسی کسان کو ملنی چاہیے جو اس کی محنت سے دیکھ بھال کرتا ہے، جبکہ دونوں کو آپس میں صلح کر لینی چاہیے۔
دونوں کسانوں نے اپنی غلطی مان لی اور ایک دوسرے سے معافی مانگ لی۔
سبق: عقل اور سمجھداری سے بڑے سے بڑا جھگڑا بھی حل کیا جا سکتا ہے۔
ایک دن ملا نصرالدین بازار سے گزر رہے تھے۔ وہاں ایک لالچی سوداگر لوگوں کو مہنگی چیزیں بیچ کر بہت زیادہ منافع کما رہا تھا۔ ملا نے سوچا کہ اسے اس کی لالچ کا سبق سکھانا چاہیے۔
ملا سوداگر کے پاس گئے اور ایک چیز کی قیمت پوچھی۔ سوداگر نے اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ قیمت بتائی۔ ملا نے کہا، “اگر میں تمہیں اس سے بھی زیادہ قیمت دوں تو کیا تم مجھے دو چیزیں دو گے؟” لالچی سوداگر فوراً راضی ہوگیا۔
ملا نے اسے پیسے دیے اور کہا، “ایک چیز ابھی دے دو اور دوسری کل میرے گھر پہنچا دینا۔” سوداگر نے خوشی خوشی پہلی چیز دے دی۔ اگلے دن جب وہ ملا کے گھر پہنچا تو ملا نے کہا، “دوسری چیز تو تم نے کل ہی دے دی تھی، کیونکہ تم نے لالچ میں دو چیزوں کی قیمت ایک ہی چیز کے بدلے قبول کر لی تھی!”
سوداگر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا، “لالچ انسان کو فائدے کے بجائے نقصان کی طرف لے جاتا ہے۔” سوداگر نے اس دن کے بعد لوگوں سے مناسب قیمت لینا شروع کر دی
Task : Story post Story Post no : 42 facbook link : www.facebook.com/profile.php?... youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders ملا نصرالدین اور اڑنے والا قالین ایک دن ملا نصرالدین اپنے گھر میں بیٹھے آرام کر رہے تھے کہ اچانک انہیں ایک پرانا قالین ملا۔ ملا نے سوچا کہ کیوں نہ اس قالین پر بیٹھ کر سفر کیا جائے۔ وہ قالین پر بیٹھے اور مذاق میں بولے، "اڑو میرے قالین!" اچانک قالین ہوا میں اڑنے لگا۔ ملا نصرالدین بہت خوش ہوئے اور آسمان کی طرف سفر کرنے لگے۔ نیچے انہیں گھر، درخت اور سڑکیں بہت چھوٹی نظر آنے لگیں۔ وہ کبھی دائیں جاتے اور کبھی بائیں، کیونکہ انہیں قالین چلانے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد تیز ہوا چلی اور قالین تیزی سے گھومنے لگا۔ ملا گھبرا گئے اور زور زور سے مدد کے لیے پکارنے لگے۔ آخرکار انہوں نے قالین کو ایک درخت کی شاخ کے قریب پہنچایا اور احتیاط سے چھلانگ لگا کر زمین پر اتر آئے۔ ملا نصرالدین نے سکون کا سانس لیا اور کہا، "آج سے میں قالین پر بیٹھ کر سفر نہیں کروں گا، زمین پر چلنا ہی بہتر ہے!" اس واقعے کے بعد ملا نے اپنے دوستوں کو بھی نصیحت کی کہ بغیر سوچے سمجھے کوئی خطرناک کام نہیں کرنا چاہیے۔
bilal Leadershipwala
Task : Story post
Story Post no : 50
facbook link : www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین کی ناممکن شرط
ایک دن ملا نصرالدین چائے خانے میں بیٹھے تھے۔ چند لوگ اپنی اپنی بہادری کے قصے سنا رہے تھے۔ ایک امیر سوداگر نے فخر سے کہا، "دنیا میں کوئی ایسا کام نہیں جو پیسوں کے زور پر نہ ہو سکے!"
ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، "اگر آپ اتنے یقین سے کہتے ہیں تو میں آپ سے ایک شرط لگاتا ہوں۔" سوداگر نے پوچھا، "کیسی شرط؟" ملا نے کہا، "میں ایسا کام کروں گا جسے آپ ناممکن سمجھتے ہیں، لیکن آپ کو آخر میں ماننا پڑے گا کہ میں نے شرط جیت لی۔"
اگلے دن ملا نے اعلان کیا کہ وہ بغیر کسی سیڑھی کے گاؤں کی سب سے اونچی دیوار کے اوپر چڑھیں گے۔ لوگ جمع ہو گئے۔ سب سوچنے لگے کہ ملا یہ ناممکن کام کیسے کریں گے۔ ملا نے دیوار کے پاس جا کر زمین پر ایک لمبی لکڑی رکھ دی اور لکڑی کے سائے کو دیکھا۔
پھر ملا نے ہنس کر کہا، "دیکھو! میں دیوار پر چڑھے بغیر اس کے اوپر پہنچ گیا!" انہوں نے دیوار کے اوپر ایک چھوٹا سا پتھر پھینک دیا اور بولے، "میرا مقصد دیوار کے اوپر چیز پہنچانا تھا، خود چڑھنا نہیں!" سوداگر حیران رہ گیا اور شرط ہار گیا۔
ملا نصرالدین نے کہا، "ناممکن کام اکثر اس لیے ناممکن لگتا ہے کیونکہ ہم مسئلے کو صرف ایک طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔"
سبق: عقل، حاضر جوابی اور مختلف انداز سے سوچنے والا شخص مشکل کام کا آسان راستہ تلاش کر لیتا ہے۔
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
bilal Leadershipwala
Task : Story post
Story Post no : 49
facbook link : www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین اور غائب خزانہ
ایک دن ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک پرانے گھر کے پاس سے گزر رہے تھے۔ وہاں انہیں زمین میں ایک عجیب سا نشان نظر آیا۔ ملا نے غور سے زمین کھودی تو اسے ایک پرانا صندوق ملا۔ صندوق کھولنے پر اندر سونے کے سکے اور قیمتی زیورات تھے، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ خزانہ صرف ملا نصرالدین کو نظر آ رہا تھا، باقی لوگوں کو وہاں کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔
ملا نے سوچا، "یہ ضرور کوئی غیبی خزانہ ہے، لیکن اگر یہ میرے لیے ہے تو اسے صحیح کام میں استعمال کرنا چاہیے۔" وہ خزانہ اٹھا کر گھر لے گئے اور کسی کو اس کے بارے میں نہیں بتایا۔
اگلے دن ملا نصرالدین نے اس خزانے سے غریب لوگوں کے لیے کھانا خریدا، یتیم بچوں کے کپڑے بنوائے اور گاؤں کے کنویں کی مرمت کروائی۔ گاؤں کے لوگ حیران تھے کہ ملا اتنے کام کیسے کروا رہے ہیں۔
آخرکار ملا نے مسکرا کر کہا، "خزانہ چھپانے سے دولت نہیں بڑھتی، بلکہ دوسروں کی مدد کرنے سے اس کی اصل قدر ظاہر ہوتی ہے۔" لوگوں نے ملا کی دانائی کی تعریف کی۔ اس دن سب نے سیکھا کہ اصل خزانہ دولت نہیں بلکہ اسے اچھے کاموں میں استعمال کرنا ہے
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
bilal Leadershipwala
Task : Story post
Story Post no : 48
facbook link : www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین کی عدالت میں چالاکی
ایک دن گاؤں کے دو آدمیوں میں ایک قیمتی گھوڑے کو لے کر جھگڑا ہو گیا۔ دونوں ملا نصرالدین کے پاس پہنچے اور اپنی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرنے لگے۔ ملا نے دونوں کی بات غور سے سنی، مگر فیصلہ کرنا آسان نہ تھا۔
ملا نصرالدین نے ایک چال سوچی۔ اس نے دونوں آدمیوں سے کہا، "تم دونوں گھوڑے کو اپنے اپنے گھر لے جاؤ، لیکن یاد رکھنا کہ میں ابھی تمہارے ساتھ ایک آدمی بھیج رہا ہوں۔" ایک آدمی گھبرا گیا اور بار بار گھوڑے کی طرف دیکھنے لگا۔
ملا نے فوراً سمجھ لیا کہ یہی شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ اس نے اس سے کہا، "اگر گھوڑا واقعی تمہارا ہے تو تمہیں اس کے بارے میں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔" ملا نے گھوڑے کی چند عادتوں کے بارے میں سوالات کیے۔ اصلی مالک نے فوراً درست جواب دیے، جبکہ دوسرا شخص خاموش ہو گیا۔
آخرکار ملا نصرالدین نے فیصلہ اصلی مالک کے حق میں دے دیا۔ سب لوگ ملا کی حاضر جوابی اور سمجھ داری سے بہت متاثر ہوئے۔ ملا مسکرایا اور بولا، "سچ کو زیادہ دیر چھپایا نہیں جا سکتا، بس اسے تلاش کرنے کے لیے عقل سے کام لینا چاہیے۔"
سبق: مشکل معاملے میں جلد بازی کے بجائے غور و فکر اور حاضر جوابی سے کام لینا چاہیے۔
کہانی کو تصویری انداز میں آگے بڑھائیں
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
bilal Leadershipwala
Task : Story post
Story Post no : 47
facbook link : www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین اور سلطان کا چیلنج
ایک دن سلطان نے ملا نصرالدین کو اپنے دربار میں بلایا۔ سلطان نے کہا، "ملا! میں تمہیں ایک مشکل چیلنج دیتا ہوں۔ اگر تم اسے حل کر دو تو تمہیں انعام ملے گا۔" ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا، "حضور! چیلنج کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، عقل اور صبر سے ہر مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔"
سلطان نے ملا کے سامنے ایک عجیب سوال رکھا اور کہا، "بتاؤ، میرے خزانے میں موجود سونے کے سکوں کی صحیح تعداد بغیر گنے کیسے معلوم کی جا سکتی ہے؟" درباری ملا کو مشکل میں دیکھ کر ہنسنے لگے۔ ملا نصرالدین نے کچھ دیر سوچا اور پھر کہا، "مجھے خزانے کے پاس لے چلیں۔"
ملا نے خزانے میں جا کر سکوں کے تھیلے دیکھے۔ اس نے تھیلوں کا وزن کروایا اور ایک تھیلے کے سکوں کا وزن معلوم کیا۔ پھر اس نے حساب لگا کر سلطان کو سکوں کی تعداد بتا دی۔ سلطان نے جب سکوں کو گنوا کر دیکھا تو ملا کا جواب بالکل درست نکلا۔ تمام درباری حیران رہ گئے۔
سلطان نے خوش ہو کر ملا نصرالدین کو انعام دیا اور کہا، "ملا! تم نے ثابت کر دیا کہ عقل اور حاضر جوابی سے مشکل ترین چیلنج بھی حل کیا جا سکتا ہے۔" ملا نصرالدین مسکرایا اور بولا، "حضور! مسئلہ کتنا ہی بڑا ہو، گھبرانے کے بجائے سمجھ داری سے سوچنا چاہیے
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
bilal Leadershipwala
Task : Story post
Story Post no : 46
facbook link : www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین کا پہلا فیصلہ
ایک دن گاؤں کے لوگ ملا نصرالدین کے پاس آئے۔ گاؤں کے دو آدمیوں میں ایک بکری کو لے کر جھگڑا ہو گیا تھا۔ دونوں دعویٰ کر رہے تھے کہ بکری ان کی ہے۔
لوگوں نے ملا نصرالدین سے کہا، "آپ ہی اس مسئلے کا فیصلہ کریں۔" ملا نصرالدین نے دونوں کی بات غور سے سنی اور بکری کو اپنے پاس بلایا۔
ملا نے دونوں آدمیوں سے کہا، "جو شخص بکری کی صحیح پہچان بتائے گا، بکری اسی کی ہوگی۔" ایک آدمی نے بکری کی کئی نشانیاں بتائیں، مگر دوسرا خاموش رہا۔
ملا نصرالدین نے سوالات کر کے حقیقت معلوم کر لی اور فیصلہ سنایا کہ بکری پہلے آدمی کی ہے۔ دونوں نے ملا کا فیصلہ مان لیا۔
اس دن سے گاؤں والوں نے ملا نصرالدین کو اپنا سمجھدار جج مان لیا۔
سبق: اچھا فیصلہ وہی ہے جو غور سے سن کر، حقیقت جان کر اور انصاف کے ساتھ کیا جائے
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
bilal Leadershipwala
Task : Story post
Story Post no : 46
facbook link : www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین کا پہلا فیصلہ
ایک دن گاؤں کے لوگ ملا نصرالدین کے پاس آئے۔ گاؤں کے دو آدمیوں میں ایک بکری کو لے کر جھگڑا ہو گیا تھا۔ دونوں دعویٰ کر رہے تھے کہ بکری ان کی ہے۔
لوگوں نے ملا نصرالدین سے کہا، "آپ ہی اس مسئلے کا فیصلہ کریں۔" ملا نصرالدین نے دونوں کی بات غور سے سنی اور بکری کو اپنے پاس بلایا۔
ملا نے دونوں آدمیوں سے کہا، "جو شخص بکری کی صحیح پہچان بتائے گا، بکری اسی کی ہوگی۔" ایک آدمی نے بکری کی کئی نشانیاں بتائیں، مگر دوسرا خاموش رہا۔
ملا نصرالدین نے سوالات کر کے حقیقت معلوم کر لی اور فیصلہ سنایا کہ بکری پہلے آدمی کی ہے۔ دونوں نے ملا کا فیصلہ مان لیا۔
اس دن سے گاؤں والوں نے ملا نصرالدین کو اپنا سمجھدار جج مان لیا۔
سبق: اچھا فیصلہ وہی ہے جو غور سے سن کر، حقیقت جان کر اور انصاف کے ساتھ کیا جائے
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
bilal Leadershipwala
Task : Story post
Story Post no : 45
facbook link : www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین اور بولنے والا طوطا
ایک دن ملا نصرالدین بازار جا رہے تھے کہ انہیں ایک دکان کے باہر ایک طوطا نظر آیا۔ طوطا بہت باتیں کرتا تھا اور دکاندار کی ہر بات کا جواب دیتا تھا۔
ملا نے دکاندار سے پوچھا، "یہ طوطا اتنا سمجھدار کیسے ہے؟"
دکاندار نے ہنس کر کہا، "یہ جو بھی سنتا ہے، وہی دہراتا ہے!"
ملا نصرالدین نے مذاق میں طوطے سے پوچھا، "کیا تم سچ بولتے ہو؟"
طوطے نے فوراً کہا، "سچ بولتے ہو!"
ملا نے مسکرا کر کہا، "دیکھا! یہ خود بھی نہیں جانتا کہ کیا بول رہا ہے۔"
دکاندار کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ طوطے کا ہر جواب سمجھداری کی علامت نہیں ہوتا۔
سبق: ہر بات دہرانا عقل مندی نہیں؛ اصل عقل صحیح وقت پر صحیح بات سمجھنے میں ہے۔
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
bilal Leadershipwala
Task : Story post
Story Post no : 44
facbook link : www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین اور گاؤں کا جھگڑا
ایک گاؤں میں دو کسانوں کے درمیان ایک زمین کو لے کر جھگڑا ہو گیا۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ زمین ان کی ہے۔ وہ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے گاؤں کے لوگوں کے پاس گئے، مگر کوئی فیصلہ نہ کر سکا۔
آخرکار دونوں ملا نصرالدین کے پاس پہنچے اور اپنا مسئلہ بتایا۔ ملا نصرالدین نے دونوں کی بات غور سے سنی اور کہا، "اگر زمین تم دونوں کی ہے تو زمین سے پوچھ لیتے ہیں کہ وہ کس کی ہے!"
دونوں حیران ہو گئے۔ ملا نصرالدین نے کہا، "جو شخص زمین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے، اصل حق دار بھی وہی ہے۔"
دونوں کسان خاموش ہو گئے۔ ایک نے اعتراف کیا کہ وہ زمین کی دیکھ بھال نہیں کرتا، جبکہ دوسرا باقاعدگی سے پانی دیتا اور فصل اگاتا تھا۔
ملا نصرالدین نے فیصلہ سنایا کہ زمین اسی کسان کو ملنی چاہیے جو اس کی محنت سے دیکھ بھال کرتا ہے، جبکہ دونوں کو آپس میں صلح کر لینی چاہیے۔
دونوں کسانوں نے اپنی غلطی مان لی اور ایک دوسرے سے معافی مانگ لی۔
سبق: عقل اور سمجھداری سے بڑے سے بڑا جھگڑا بھی حل کیا جا سکتا ہے۔
1 month ago (edited) | [YT] | 1
View 0 replies
bilal Leadershipwala
Task : Story post
Story Post no : 42
facbook link : www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین اور لالچی سوداگر
ایک دن ملا نصرالدین بازار سے گزر رہے تھے۔ وہاں ایک لالچی سوداگر لوگوں کو مہنگی چیزیں بیچ کر بہت زیادہ منافع کما رہا تھا۔ ملا نے سوچا کہ اسے اس کی لالچ کا سبق سکھانا چاہیے۔
ملا سوداگر کے پاس گئے اور ایک چیز کی قیمت پوچھی۔ سوداگر نے اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ قیمت بتائی۔ ملا نے کہا، “اگر میں تمہیں اس سے بھی زیادہ قیمت دوں تو کیا تم مجھے دو چیزیں دو گے؟” لالچی سوداگر فوراً راضی ہوگیا۔
ملا نے اسے پیسے دیے اور کہا، “ایک چیز ابھی دے دو اور دوسری کل میرے گھر پہنچا دینا۔” سوداگر نے خوشی خوشی پہلی چیز دے دی۔ اگلے دن جب وہ ملا کے گھر پہنچا تو ملا نے کہا، “دوسری چیز تو تم نے کل ہی دے دی تھی، کیونکہ تم نے لالچ میں دو چیزوں کی قیمت ایک ہی چیز کے بدلے قبول کر لی تھی!”
سوداگر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا، “لالچ انسان کو فائدے کے بجائے نقصان کی طرف لے جاتا ہے۔” سوداگر نے اس دن کے بعد لوگوں سے مناسب قیمت لینا شروع کر دی
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
bilal Leadershipwala
Task : Story post
Story Post no : 42
facbook link : www.facebook.com/profile.php?...
youtube link : https:/youtube.com/@BilalLeaders
ملا نصرالدین اور اڑنے والا قالین
ایک دن ملا نصرالدین اپنے گھر میں بیٹھے آرام کر رہے تھے کہ اچانک انہیں ایک پرانا قالین ملا۔ ملا نے سوچا کہ کیوں نہ اس قالین پر بیٹھ کر سفر کیا جائے۔ وہ قالین پر بیٹھے اور مذاق میں بولے، "اڑو میرے قالین!" اچانک قالین ہوا میں اڑنے لگا۔
ملا نصرالدین بہت خوش ہوئے اور آسمان کی طرف سفر کرنے لگے۔ نیچے انہیں گھر، درخت اور سڑکیں بہت چھوٹی نظر آنے لگیں۔ وہ کبھی دائیں جاتے اور کبھی بائیں، کیونکہ انہیں قالین چلانے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔
کچھ دیر بعد تیز ہوا چلی اور قالین تیزی سے گھومنے لگا۔ ملا گھبرا گئے اور زور زور سے مدد کے لیے پکارنے لگے۔ آخرکار انہوں نے قالین کو ایک درخت کی شاخ کے قریب پہنچایا اور احتیاط سے چھلانگ لگا کر زمین پر اتر آئے۔
ملا نصرالدین نے سکون کا سانس لیا اور کہا، "آج سے میں قالین پر بیٹھ کر سفر نہیں کروں گا، زمین پر چلنا ہی بہتر ہے!" اس واقعے کے بعد ملا نے اپنے دوستوں کو بھی نصیحت کی کہ بغیر سوچے سمجھے کوئی خطرناک کام نہیں کرنا چاہیے۔
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more