OBAIDULLAH ZEESHAN OFFICIAL

السلام علیکم ورحمت اللّه وبرکاتہ
خوش آمدید ہے آپ سبھی دوستوں کا ہمارے یوٹوب چینل OBAIDULLAH ZEESHAN OFFICIAL میں
ہم آپ سبھی دوستوں کا اپنے اس یوٹوب چینل پر دل کی گھہرایوں سے پرزور استقبال کرتے ہیں

ہمارے چینل پر آنے کے لئے آپ سبھی کا دل سے بہت بہت شکریہ

دوستوں اس چینل کا اصل مقصد ہے آسان زبان میں دین کی باتوں کو عالم کے ہر کونے تک پہونچانا
""""""""""""""""""""""""""

سب سے پہلے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں اور گھنٹی کو بھی دبادیں تاکہ اپلوڈ ہوتے ہی ہماری ہر ویڈیوز نوٹیفیکیشن🔕 کے ذریعے آپ کے پاس سب سے پہلے پہنچتی رہے
"""""""""""""""""""""""""""""

آپ سبھی دوستوں کا بہت بہت شکریہ
"""""""""""""""""""""""""""""



OBAIDULLAH ZEESHAN OFFICIAL

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی یاد میں درد بھرا مرثیہ کلام

علم و ادب کی ایک عظیم شخصیت
دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سابق مہتمم
ممتاز عالمِ دین، عربی ادب کے ماہر، استاد اور داعی
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ
ہم سے رخصت ہوگئے۔

ان کی دینی، علمی، تدریسی اور ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
ان کی وفات اہلِ علم و دانش کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے

اسی عظیم شخصیت کی یاد میں ایک درد بھرا مرثیہ کلام آپ سب کی سماعتوں کی نذر ہے
تمام احباب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس کلام کو ضرور سنیں،
اور حضرت کی مغفرت و بلندیٔ درجات کے لیے دعائیہ کلمات کمنٹ میں ضرور لکھیں

🤲 اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، قبر کو نور سے منور فرمائے، ان کی تمام دینی و علمی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور اہلِ خانہ، شاگردوں اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے

آمین یا رب العالمین 🤲

📿 إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

👇 👇👇
https://youtu.be/P8m5iLvJFbI?si=pYHHt...

21 hours ago | [YT] | 0

OBAIDULLAH ZEESHAN OFFICIAL

😭💔😭
ایک عہدِ علم رخصت ہوگیا

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی وفات پر تعزیتی کلمات

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

بعض شخصیات دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو صرف ایک گھر و خاندان سوگوار نہیں ہوتا، بلکہ ایک پورا علمی ماحول، ایک ادارہ، ایک نسل اور ایک روایت اپنے آپ کو یتیم محسوس کرتی ہے حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی وفات بھی اسی نوعیت کا ایک عظیم علمی سانحہ ہے

آج ندوۃ العلماء کی علمی فضا یقیناً سوگوار ہے، آج درسگاہ کی وہ مجلس اداس ہے جہاں برسوں علم و ادب کے چراغ روشن ہوتے رہے آج وہ آواز خاموش ہوگئی جس سے نہ جانے کتنے طلبہ نے علم کی روشنی حاصل کی، اور آج وہ شخصیت ہم سے جدا ہوگئی جسے بجا طور پر اساتذہ کا استاد، علماء کا مربی، طلبہ کا مشفق سرپرست اور ندوۃ العلماء کی علمی روایت کا ایک مضبوط ستون کہا جاسکتا ہے

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ محض ایک عالم یا مدرس نہیں تھے؛ وہ ایک مکمل علمی شخصیت تھے۔ ان کی ذات میں مدرس کی سنجیدگی، محقق کی گہرائی، ادیب کا ذوق، مصنف کا قلم، مربی کی شفقت، داعی کی فکر اور منتظم کی بصیرت یکجا تھی

انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ علم پڑھنے، علم پڑھانے، علم لکھنے اور علم کو اگلی نسل تک منتقل کرنے میں صرف کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا رشتہ صرف طلبہ سے نہیں تھا؛ ان کے علمی فیض سے اساتذہ، علماء، ادباء، مصنفین اور مختلف علمی حلقے بھی مستفید ہوئے۔

وہ صرف استاد نہیں، اساتذہ کے استاد تھے

کسی استاد کی عظمت کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ اس نے کتنے طلبہ پڑھائے، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ اس کے پڑھائے ہوئے طلبہ نے آگے کتنے چراغ روشن کیے

حضرت مولانا کی شخصیت اس اعتبار سے غیر معمولی تھی۔ ان کے سامنے بیٹھنے والی نسلیں آگے چل کر خود اساتذہ، علماء، مصنفین اور اہلِ قلم بنیں۔ یوں ان کا علمی فیض ایک نسل سے دوسری نسل اور دوسری نسل سے تیسری نسل تک منتقل ہوتا رہا

اسی لیے ان کی جدائی کو محض ایک مدرس کی وفات کہنا ان کے مقام کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ اساتذہ کے استاد اور ایک ایسی علمی روایت کے امین تھے جس کا اثر ان کے بعد بھی ان کے شاگردوں اور تلامذہ کے ذریعے باقی رہے گا

ندوۃ العلماء کے لیے ایک بڑا خلا

دارالعلوم ندوۃ العلماء سے حضرت مولانا کا تعلق محض ملازمت یا انتظامی ذمہ داری کا تعلق نہیں تھا۔ ندوہ ان کی علمی زندگی کا ایک اہم باب تھا اور وہ ندوہ کی علمی روایت کے ایک نمایاں خادم تھے۔

بحیثیت مہتممِ دارالعلوم ندوۃ العلماء انہوں نے ایک عظیم دینی و علمی ادارے کی ذمہ داری سنبھالی۔ مہتمم ہونا صرف انتظامی عہدہ نہیں؛ اس کے ساتھ ادارے کی علمی سمت، تعلیمی نظام، اساتذہ، طلبہ، نظم و نسق اور ادارے کی مجموعی ذمہ داری وابستہ ہوتی ہے

انہوں نے اس ذمہ داری کو ایک امانت سمجھ کر نبھایا

ندوۃ العلماء کی تاریخ میں بہت سے اکابر گزرے ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے دور میں اس ادارے کی علمی شناخت کو مضبوط کیا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ بھی اسی سلسلۂ خدمت کی ایک اہم کڑی تھے۔ ان کی وفات سے ندوۃ العلماء نے صرف ایک مہتمم نہیں کھویا، بلکہ ایک تجربہ کار عالم، ایک بزرگ مربی اور ایک صاحبِ بصیرت علمی شخصیت سے محرومی پائی ہے

عربی زبان و ادب کے عظیم خادم

حضرت مولانا کی شخصیت کا ایک نہایت روشن پہلو عربی زبان و ادب سے ان کی گہری وابستگی تھی

انہوں نے عربی زبان کو محض ایک مضمون کی حیثیت سے نہیں پڑھایا، بلکہ اس کے ذوق، اسلوب، بیان اور ادبی روح کو طلبہ کے اندر منتقل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے لیے عربی ایک زبان ہی نہیں بلکہ اسلامی علمی ورثے تک پہنچنے کا ایک دروازہ تھی

ان کے درس سے گزرنے والے طلبہ جانتے تھے کہ ایک عبارت صرف پڑھی نہیں جاتی، اسے سمجھا جاتا ہے؛ ایک لفظ صرف ترجمہ نہیں ہوتا، اس کے پس منظر، اسلوب اور معنوی جہتوں کو بھی محسوس کیا جاتا ہے

یہی وہ وصف ہے جو ایک عام مدرس کو استادِ فن بناتا ہے

علم کی خدمت، شہرت کے لیے نہیں

حضرت مولانا کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ علم کی خدمت خاموشی، استقامت اور مسلسل محنت کا نام ہے

بہت سے لوگ علم کی بات کرتے ہیں، کچھ لوگ علم حاصل کرتے ہیں، کچھ علم لکھتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی پوری زندگی علم کی خدمت کے لیے وقف کردیتے ہیں

حضرت مولانا نے اپنی زندگی کے طویل عرصے کو اسی خدمت میں گزارا۔ درسگاہ، درس، کتاب، قلم، طلبہ، ادارہ اور علمی مجلس—یہ سب ان کی زندگی کے مختلف پہلو تھے، مگر مقصد ایک تھا:

دین اور علم کی خدمت

ان کی اصل میراث کیا ہے؟

ان کی اصل میراث صرف کتابیں نہیں

ان کی اصل میراث وہ انسان ہیں جنہیں انہوں نے پڑھایا۔

وہ شاگرد جو آج کسی مدرسے میں درس دے رہا ہے، وہ عالم جو کسی خطے میں دین کی خدمت کر رہا ہے، وہ مصنف جو قلم سے علمی کام کررہا ہے، وہ ادیب جو عربی زبان کی خدمت کررہا ہے—ان سب کے پیچھے اگر کہیں حضرت مولانا کی تربیت، اصلاح یا علمی اثر کا ایک حصہ موجود ہے تو یہ ان کے لیے ایسا صدقۂ جاریہ ہے جو ان شاء اللہ ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہے گا

استاد جسم سے رخصت ہوتا ہے، مگر اس کا علم شاگردوں میں زندہ رہتا ہے

ایک خاموش چراغ بجھ گیا

آج ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علمی آسمان کا ایک روشن ستارہ نظروں سے اوجھل ہوگیا ہو۔

لیکن ستارے صرف آسمان پر نہیں ہوتے؛ کچھ ستارے دلوں میں روشنی پیدا کرتے ہیں

حضرت مولانا بھی ایسا ہی ایک چراغ تھے۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والے، ان کا درس سننے والے، ان کی تحریریں پڑھنے والے اور ان سے علمی رہنمائی لینے والے لوگ اس روشنی کو اپنے اندر لے کر آگے بڑھتے رہے

آج چراغ اپنی جگہ موجود نہیں، لیکن اس کی روشنی بہت سے چراغوں میں تقسیم ہوچکی ہے

اہلِ علم کا اٹھ جانا بڑا نقصان ہے

رسول اللہ ﷺ نے علماء کے مقام اور ان کے اٹھ جانے کی اہمیت کو واضح فرمایا۔ اہلِ علم دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ صرف ایک شخصیت نہیں جاتی، بلکہ علم کا ایک تجربہ، ایک ذوق، ایک حافظہ اور ایک علمی مزاج بھی رخصت ہوتا ہے

اسی لیے حضرت مولانا کی وفات پر دل سے یہی صدا نکلتی ہے:

آج ندوہ کا ایک بزرگ سایہ اٹھ گیا،
آج درسگاہ کا ایک شناسا چہرہ اوجھل ہوگیا،
آج علم و ادب کا ایک چراغ بجھ گیا،
اور آج شاگردوں کی ایک پوری دنیا اپنے استاد کی جدائی میں غم زدہ ہے

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی تمام علمی، تدریسی، تصنیفی، دعوتی اور انتظامی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے علم کو صدقۂ جاریہ بنائے، ان کے شاگردوں اور متعلقین کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے

اللہ تعالیٰ ان کے اہلِ خانہ، اساتذہ و تلامذہ، ندوۃ العلماء کے تمام وابستگان اور پوری علمی برادری کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے

اللّٰهم اغفر له وارحمه، وعافه واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله، واجعل قبره روضةً من رياض الجنة، وارفع درجته في المهديين، واخلفه في عقبه في الغابرين۔ آمین یا رب العالمین۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

ایک شخص رخصت ہوا ہے، مگر ایک علمی روایت باقی ہے؛
ایک استاد چلا گیا ہے، مگر اس کے شاگرد باقی ہیں؛
ایک آواز خاموش ہوئی ہے، مگر اس کے الفاظ کتابوں اور دلوں میں زندہ ہیں

1 day ago | [YT] | 106

OBAIDULLAH ZEESHAN OFFICIAL

💞 نَذْرِ شَرِیکِ حَیات 💞

بیوی صرف زندگی کی ساتھی نہیں، بلکہ گھر کی محبت، سکون، عزت اور خوشیوں کی ایک خوبصورت وجہ ہوتی ہے

یہ خوبصورت کلام ایک شوہر کی جانب سے اپنی شریکِ حیات سے محبت، عقیدت اور وفا کا حسین اظہار ہے۔ اس میں بیوی کی حیا، ادب، شرافت، علم، وفا اور محبت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے

🌹 "مِری زِسْت کا پِیار، مِری جان ہو تُم
مِرے گَھر کی اُلْفَت، مِری شان ہو تُم" 🌹

یہ کلام ہر اُس شوہر کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے جو اپنی اہلیہ کو اپنی زندگی کی محبت اور اپنے گھر کی رونق سمجھتا ہے

✍️ بِقَلَم: سمیع اللہ صدیقی مظاہری
🎙️ آواز: عبیداللہ ذیشان
👇👇👇
https://youtu.be/uy9SMgbGofg?si=hgsYu...

2 days ago | [YT] | 3

OBAIDULLAH ZEESHAN OFFICIAL

😭💔😭
ایک علمی چراغ بجھ گیا — حضرت مولانا قاری شبیر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

آہ! آج دل بہت بوجھل ہے، زبان گنگ ہے، آنکھیں اشک بار ہیں اور الفاظ اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے ہیں
ایک ایسی شخصیت ہم سے رخصت ہوگئی جس کی زندگی علمِ دین کی خدمت، درس و تدریس، طلبہ کی تربیت اور دینی ادارے کی آبیاری میں گزری۔ حضرت مولانا قاری شبیر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات صرف ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ ایک علمی و دینی ماحول کے لیے ایسا سانحہ ہے جس کا خلا آسانی سے پُر ہوتا دکھائی نہیں دیتا

حضرت قاری شبیر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ، دربھنگہ، بہار کے ناظم و مہتمم کی حیثیت سے ایک طویل عرصے تک اس عظیم دینی ادارے کی خدمت انجام دیتے رہے۔ تقریباً پینتیس برس کی یہ طویل وابستگی محض ایک منصب کی مدت نہیں، بلکہ ایک پوری زندگی کی قربانی، محنت، اخلاص اور دینی غیرت کی داستان ہے

انہوں نے مدرسے کو صرف ایک عمارت یا تعلیمی ادارہ سمجھ کر نہیں چلایا، بلکہ اسے علمِ دین کی ایک ایسی درس گاہ سمجھا جہاں آنے والا طالب علم علم کے ساتھ تربیت، اخلاق اور دینی شعور بھی حاصل کرے۔ کتنے ہی طلبہ نے ان کی شفقت دیکھی، کتنے ہی لوگوں نے ان کی گفتگو سے رہنمائی پائی، کتنے ہی اہلِ علم نے ان کی علمی بصیرت سے فائدہ اٹھایا—یہ سب ان کے لیے باقی رہنے والا صدقۂ جاریہ ہے

حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ علم و فضل کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ ذوق، صاحبِ مطالعہ، صاحبِ حافظہ اور صاحبِ زبان شخصیت تھے۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی، بیان میں وقار، انداز میں متانت اور مزاج میں ایک خاص علمی شان محسوس ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بصارت کے ایک امتحان سے گزارا، مگر ان کے اندر ایسی بصیرت، قوتِ حافظہ اور علمی صلاحیت عطا فرمائی کہ وہ اپنے گرد و پیش کے بہت سے لوگوں کے لیے خود علم و حوصلے کا چراغ بن گئے

ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کے راستے میں کام کرنے والے انسان کی اصل طاقت ظاہری اسباب نہیں بلکہ اخلاص، عزم اور اللہ پر اعتماد ہے۔ انہوں نے مشکلات کو اپنی راہ کی دیوار نہیں بننے دیا۔ اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائی، علم کی شمع روشن رکھی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک دینی راستہ ہموار کیا

آج جب حضرت قاری شبیر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی آواز خاموش ہوگئی ہے تو مدرسے کے در و دیوار یقیناً ان کی یاد تازہ کرتے ہوں گے۔ وہ جگہیں جہاں کبھی ان کی گفتگو سنائی دیتی تھی، وہ طلبہ جن کی رہنمائی وہ کیا کرتے تھے، وہ اساتذہ اور متعلقین جن کے ساتھ انہوں نے برسوں کام کیا—سب ان کی جدائی کو محسوس کر رہے ہوں گے

کچھ لوگ رخصت ہو کر بھی رخصت نہیں ہوتے
وہ اپنی یادوں میں رہتے ہیں، اپنے شاگردوں میں رہتے ہیں، اپنی خدمات میں رہتے ہیں، اپنے قائم کیے ہوئے علمی ماحول میں رہتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر ان نیکیوں میں زندہ رہتے ہیں جن کا سلسلہ ان کے بعد بھی جاری رہتا ہے

حضرت قاری شبیر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ علمِ دین کی خدمت میں گزارا۔ ان کا اصل تعارف ان کا منصب نہیں، بلکہ ان کی طویل دینی جدوجہد، مدرسے سے وفاداری، طلبہ سے تعلق اور علم کے ساتھ ان کی وابستگی ہے

آج ہم ان کے انتقال پر غم زدہ ضرور ہیں، مگر ایک اہلِ علم کی زندگی کو دیکھتے ہوئے یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ ان کی محنتیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ جن طلبہ نے ان سے علم پایا، جو لوگ ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے، اور جو دینی کام ان کی نگرانی میں آگے بڑھا، وہ سب ان کے لیے ان شاء اللہ اجر کا ذریعہ بنیں گے

اے اللہ!
یہ تیرے بندے کی زندگی تھی، اس نے اپنی بساط کے مطابق تیرے دین کی خدمت کی
اے پروردگار! اس کی تھوڑی سی کوشش کو اپنی رحمت سے بہت زیادہ قبول فرما
اس کی لغزشوں سے درگزر فرما، اس کی خطاؤں کو معاف فرما، اس کی قبر کو نور سے بھر دے، اس کے درجات بلند فرما، اور اسے اپنے محبوب بندوں اور صالحین کی رفاقت نصیب فرما

اے اللہ! مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کے لیے اس جدائی کو آسان فرما۔ ان کے شاگردوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا، ان کے علمی مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرما، اور اس ادارے کو مزید ترقی و استحکام عطا فرما

ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، شاگردوں، اساتذہ اور تمام محبین کو صبرِ جمیل عطا فرما

آج ایک آواز خاموش ہوگئی
ایک چہرہ نظروں سے اوجھل ہوگیا
ایک سایۂ شفقت ہم سے اٹھ گیا
مگر ان کی علمی یادیں باقی ہیں
ان کی خدمات باقی ہیں
ان کے شاگرد باقی ہیں
اور ان شاء اللہ ان کی دینی محنتوں کے اثرات بھی باقی رہیں گے

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا قاری شبیر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو کروٹ کروٹ سکون عطا فرمائے، ان کی قبر کو جنت کا باغ بنائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے

آمین یا رب العالمین
👇😭😭😭
https://youtu.be/1rndZbJ1xn4?si=McFF-...

5 days ago | [YT] | 2