AL IRFAN

سب کام چھوڑ کر کچھ دير اس تصویر کو غور سے دیکھیں💔 کچھ محسوس ہو تو اپنے امامِ زمانہ عج کی خاطر اپنے نئے سال میں اپنی ذات پر کام کریں امامِ زمانہ عج کی خاطر اُن عج کے ظہور کی خاطر🙏🏻💔 یقین کریں وہ عج بہت تنہا ہیں۔۔۔۔۔💔



*اللہم عجل لولیک الفرج 💜💎*
Sab kaam chhod kar kuchh der is tasveer ko ghaur se dekhiye. Kuchh mehsoos ho to apne Imam-e-Zaman AJ ke liye apni naye saal mein apni zaat par kaam karein. Imam-e-Zaman AJ ke liye unke zohoor ke liye. Yaqeen karein woh AJ bahut tanha hain. Allahumma ajil lil valiyikal Faraj.

1 year ago | [YT] | 2

AL IRFAN

شخصیت امام علی نقی علیہ السلام
chat.whatsapp.com/JjllQL3dj6l9dga4yqafy0
نسب، کنیت و لقب
آپ کے والد امام محمد تقی علیہ السلام، شیعیان اہل بیتؑ کے نویں امام ہیں۔ آپؑ کی والدہ سمانہ یا سوسن نامی ایک کنیز تھیں۔

امام ہادیؑ اور آپؑ کے فرزند امام حسن عسکری علیہ السلام عسکریین کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ کیونکہ عباسی خلفا انہیں سنہ 233 ہجری میں سامرا لے گئے اور آخر عمر تک وہیں نظر بند رکھا۔

امام ہادیؑ نجیب، مرتضی، ہادی، نقی، عالم، فقیہ، امین اور طیّب جیسے القاب سے بھی مشہور تھے۔ آپؑ کی کنیت ابوالحسن ہے۔ اور چونکہ امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کی کنیت بھی ابوالحسن ہے اسی لئے اشتباہ سے بچنے کے لئے امام کاظمؑ کو ابوالحسن اول، امام رضاؑ کو ابوالحسن ثانی اور امام ہادیؑ کو ابوالحسن ثالث کہا جاتا ہے۔

انگشتریوں کے نقش

امام علی نقی علیہ السلام کی انگشتریوں کے لئے دو نقش منقول ہیں:

"الله رَبّي وهو عِصمَتي مِن خَلقِه". اور "حِفْظُ الْعُهُودِ مِنْ‏ أَخْلَاقِ‏ الْمَعْبُود"۔

ولادت اور شہادت
کلینی، شیخ مفید، اور شیخ طوسی نیز ابن اثیر کے بقول امام ہادیؑ 15 ذوالحجہ سنہ 212 ہجری کو مدینہ کے قریب صریا نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔

شیخ مفید اور دوسرے محدثین کی روایت کے مطابق آپؑ رجب سنہ 254 ہجری کو سامرا میں 20 سال اور 9 مہینے تک قیام کرنے کے بعد شہید ہوئے۔ بعض مآخذ میں آپؑ کی شہادت کی تاریخ 3 رجب نقل کی گئی ہے، جبکہ دیگر مآخذ میں یہ تاریخ  25  یا  26  جمادی الثانی بیان کی گئی ہے۔ اس زمانے میں تیرہواں عباسی خلیفہ معتز برسر اقتدار تھا۔
شہادت امام علی النقیؑ
آپ اپنی 34 سالہ عہد امامت میں عباسی حکمرانوں "مأمون ، معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین اور معتز کے ہم عصر تھے۔ معتز کے حکم پر معتمد عباسی نے آپ کو مسموم کرکے شہید کیا [جبکہ امام حسن عسکریؑ کا قاتل بھی معتمد ہی ہے]۔ معتمد نے معتز کے حکم پر امام ہادی علیہ السلام کو شہید کیا اور امام حسن عسکری علیہ السلام کو معتمد عباسی نے اپنے دور حکومت میں شہید کیا اور یوں شاید معتمد خلافت اسلام کے دعویداروں میں واحد حکمران ہے جس نے دو ائمہ اہل بیت رسولؐ کو قتل کیا ہے گوکہ بعض نے کہا ہے کہ امام ہادی علیہ السلام کا قاتل متوکل عباسی تھا۔
تاہم متوکل کے ہاتھوں امامؑ کی شہادت کی روایت بحار کی درج ذیل روایت سے متصادم ہے : متوکل نے اپنے وزیر سے کہا کہ والیوں کے اجلاس کے دن امام ہادیؑ کو پائے پیادہ اس کے پاس لایا جائے۔ وزیر نے کہا: اس سے آپ کو نقصان ہوگا لہذا اس کام کو بھول جائیں۔ یا پھر حکم دیں کہ دوسرے والی اور امراء بھی پیدل آپ کی طرف آئیں۔ متوکل مان گیا۔ امام جب دربار میں پہنچے تو موسم گرم ہونے کی وجہ پسینے میں شرابور تھے۔ عباسی دربار کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ "میں نے امامؑ کو محل کی دہلیز میں بٹھایا اور آپ کا چہرہ مبارک تولیے سے خشک کرکے عرض کیا کہ اپنے چچا زاد بھائی متوکل نے سب کو پیدل آنے کا کہا تھا لہذا اس سے ناراض نہ ہوں۔ امام ہادی علیہ السلام نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: "تَمَتَّعُواْ فِي دَارِكُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ"(ترجمہ:اپنے گھروں میں بس اب تین دن تک مزے اڑالو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہے)۔ میں نے اپنے ایک شیعہ دوست کو ماجرا سنایا تو اس نے کہا: اگر امام ہادیؑ نے یہ بات کہی ہے تو متوکل تین دن یا مرے گا یا قتل ہوگا چنانچہ اپنا سازوسامان دربار سے نکال دو۔ مجھے یقین نہ آیا لیکن دور اندیشی میں کوئی نقصان بھی نہ تھا چنانچہ میں نے اپنا سب کچھ اپنے گھر منتقل کیا اور تین دن بعد رات کے وقت مارا گیا اور میرا سرمایہ بچ گیا اور میں امام ہادیؑ کی خدمت میں پہنچا اور آپ کی ولایت صادقہ کو تسلیم کر کے شیعیان اہل بیتؑ میں سے ہو گیا۔

زوجہ اور اولاد
امام ہادی علیہ السلام کی زوجہ مکرمہ کا نام سلیل خاتون تھا؛ وہ ام ولد تھیں اور ان کا تعلق "نوبہ" ۔سے تھا اور وہی امام حسن عسکری علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں۔

اکثر شیعہ علماء کے مطابق آپؑ کی چار بیٹے اور بیٹیاں ہیں لیکن آپؑ کی بیٹیوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ خصیبی کے قول کے مطابق آپؑ کے چار فرزند امام حسن عسکریؑ، محمد، حسین اور جعفر ہیں۔ مؤخر الذکر نے امامت کا جھوٹا دعوی کیا چنانچہ جعفر کذاب کے نام سے مشہور ہوا۔

شیخ مفید آپ کے فرزندوں کے بارے میں لکھتے ہیں: امام ہادیؑ کے جانشین حضرت ابو محمد حسن ہیں جو آپؑ کے بعد گیارہویں امام ہیں، اور حسین، محمد اور جعفر اور ایک بیٹی بنام عائشہ، جبکہ ابن شہرآشوب کا کہنا ہے کہ آپؑ کی دوسری بیٹی کا نام علیہ ہے۔ البتہ قرائن اور نشانیوں کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ آپؑ کی ایک ہی بیٹی تھیں جن کے کئی نام تھے۔ علمائے اہل سنت کی روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ کے چار بیٹے اور ایک بیٹی، ہیں۔

امامت
امام ہادیؑ سنہ 220 ہجری میں اپنے والد امام جوادؑ کی شہادت کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے۔ ظاہر ہے کہ امام کی کمسنی کا مسئلہ امام جوادؑ کی امامت کے آغاز پر حل ہوچکا تھا چنانچہ اکابرین شیعہ کے لئے امامت کے وقت یہ مسئلہ حل شدہ تھا اور کسی کو کوئی شک و تردد پیش نہ آیا۔ شیخ مفید کے بقول چند معدودافراد کے سوا امام جوادؑ کے پیروکاروں نے امام ہادیؑ کی امامت کو تسلیم کیا۔ متذکرہ معدود افراد کچھ عرصے کے لئے قم میں مدفون موسی بن محمد (متوفی  296ہجری ) المعروف بہ موسی مبرقع کی امامت کے قائل ہوئے؛ لیکن کچھ عرصہ بعد ان کی امامت کے عقیدے سے پلٹ گئے اور انھوں نے امام ہادیؑ کی امامت کو قبول کیا۔   سعد بن عبد اللہ کہتے ہیں: یہ افراد اس لئے امام ہادیؑ کی امامت کی طرف پلٹ آئے کہ موسی مبرقع نے ان سے بیزاری اور برائت کا اظہار کیا اور انہیں بھگا دیا۔

دلائل امامت
طبرسی اور ابن شہر آشوب کے مطابق، امام ہادی علیہ السلام کی امامت پر شیعیان آل رسولؐ کا اتفاق رائے آپؑ کی امامت کی محکم اور ناقابل انکار دلیل ہے۔ان سب کے ساتھ، کلینی اور ديگر محدثین نے آپؑ کی امامت کے لئے دوسری نصوص اور دلائل کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔

روایات کے مطابق معتصم نے امام جوادؑ کو بغداد بلوایا تو آپؑ نے اس بلاوے کو اپنی جان کے لئے خطرہ اور عباسی خلیفہ کی طرف سے دھمکی، قرار دیا چنانچہ آپؑ نے امام ہادی علیہ السلام کو شیعیان اہل بیت کے درمیان اپنے جانشین کے طور پر پہچنوایا۔ حتی کہ آپؑ نے ایک نصِّ مکتوب بھی مدینہ میں چھوڑ دی تا کہ اس سلسلے میں کوئی شک وشبہہ باقی نہ رہے۔



اس کے علاوہ رسول اللہؐ سے متعدد احادیث منقول ہیں جن میں 12 ائمۂ شیعہ کے اسماء گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام علی نقی الہادی علیہ السلام سمیت 12 آئمہؑ کی امامت و خلافت و ولایت کی تائید کرتی ہیں۔ جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ سورہ نساء کی آیت 59 (آیت اولو الامر) یعنی ("اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم") نازل ہوئی تو رسول اللہؐ نے 12 آئمہ کے نام تفصیل سے بتائے جو اس آیت کے مطابق واجب الاطاعہ اور اولو الامر ہیں؛ امام علیؑ سے روایت ہے کہ ام سلمہ کے گھر میں سورہ احزاب کی آیت 33 (آیت تطہیر) یعنی ("انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا") نازل ہوئی تو پیغمبر نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے کہ وہ اس آیت کا مصداق ہیں؛ابن عباس سے مروی ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہؐ کے جانشینوں کے نام پوچھے تو آپؐ نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے۔

ہم عصر عباسی خلفاء
امام ہادی اپنی امامت کی مدت میں بنی عباس کے کئی ایک خلفاء کے ساتھ ہم عصر تھے جن کے نام حسب ذیل ہیں:

معتصم، جو مامون کا بھائی تھا (دوران حکومت: 218 سے 227 ہجری تک)۔
واثق، جو معتصم عباسی کا بیٹا تھا۔ (دوران حکومت 227 سے 232 ہجری تک)۔
متوکل عباسی، جو واثق عباسی کا بھائی تھا۔ (دوران حکومت 232 سے 248 ہجری تک)۔
منتصر، جو متوکل کا بیٹا تھا۔ (مدت حکومت 6 مہینے)۔
مستعین، منتصر عباسی کا چچا زاد بھائی تھا۔ (دوران حکومت 248 سے 252 ہجری تک)۔
معتز عباسی، متوکل کا دوسرا بیٹا تھا۔ (دوران حکومت 252 سے 255 ہجری تک)۔
امام نقی علیہ السلام کو مؤخر الذکر عباسی حکمران معتز کے زمانے میں بمقام سامرا زہر دیا گیا اور وہیں آپ جام شہادت نوش کرگئے۔ آپؑ سامرا میں ہی مدفون ہوئے

2 years ago | [YT] | 2

AL IRFAN

ماہ رجب کی فضیلت
عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ جب بھی رجب کا مہینہ آتا تو مسلمان پیغمبر اکرمؐ کے گرد جمع ہوتے اس وقت پیغمبر اکرمؐ حمد و ثنائے پروردگار اور گذشتہ پیمغبروں کو یاد کرنے کے بعد فرماتے تھے:

کان رسول الله اذا جاء شهر رجب جمع المسلمون حوله و قام فیهم خطیبا فحمد اللہ و اثنی و ذکر من کان قبله من الانبیاء فصلی علیهم ثم قال ایها المسلمون قد اظلکم شهر عظیم مبارک و هو شهر الاصب یصب فیه الرحمه علی من عبده الا عبدا مشرکا او مظهر بدعة فی الاسلام، الا ان فی شهر رجب لیله من حرم النوم علی نفسه و قام فیها حرّم الله جسده علی النار، و صافحه سبعون الف ملک و یستغفرون له الی یوم مثله، فان عاد عادت الملئکه ثم قال من صام یوما واحدا من شهر رجب اومن من الفزع الاکبر و اجیر من النار

"اے مسلمانوں! عظمتوں اور برکتوں والا مہینہ تمہارے اوپر سایہ فگن ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں خدا کی بندگی کرنے والوں پر رحمتیں نازل ہوتی ہیں سوائے مشرک اور بدعت گزار کے جس نے اسلام میں کوئی بدعت قائم کیا ہو۔ رجب کے مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو بھی اس رات شب بیداری کرے اور خدا کی عبادت میں مشغول رہے تو خدا اس کے جسم کو جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور ایک ہزار فرشتے اس سے مصافحہ کرتے ہیں اور ہزار فرشتے اگلے سال اسی دن تک اس کے حق میں استغفار کرتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا جو بھی رجب کے مہینے میں روزہ رکھے تو قیامت کے دن کی سختی اور خوف سے امان میں رہے گا اور جہنم کی آگ سے نجات ملے گا"۔
اس مہینے میں عبادت کی فضیلت
روزہ رکھنا
رجب میں روزہ رکھنے کے مختلف ثواب کا ذکر ہوا ہے:

بہشت کا واجب ہونا اور جہنم کی آگ سے نجات: امام موسی کاظمؑ فرماتے ہیں: رجب شهر عظیم یضاعف فیه الحسنات و یمحو فیه السیئات من صام یوما من رجب تباعدت عنه النار مسیرة مائة سنة و من صام ثلاثة ایام وجبت له الجنة رجب کا مہینہ ایک با برکت مہینہ ہے جس میں نیکیاں دو برابر اور گناہ اس مہینے میں ختم ہو جاتے ہیں۔ جو بھی اس مہینے میں ایک دن روزہ رکھے جہنم سے ایک سال کے فاصلے تک دور ہو جاتا ہے اور اگر اس مہینے میں تین دن روزہ رکھے اس پر بہشت واجب ہوتی ہے اور جہنم کی آگ اس پر حرام ہو جاتی ہے۔
پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں: اِنَّ فِی الجَنّةِ قَصراً لایَدخُلُه اِلّا صُوّامُ رَجَب بتحقیق بہشت میں ایک ایسا قصر ہے جس میں سوائے رجب میں روزہ رکھنے والوں کے کوئی اور داخل نہیں ہو سکتا۔

حاجتوں کا برآوردہ ہونا اور گناہ سے پاک ہونا، امام رضاؑ فرماتے ہیں: من صام یومین من رجب رضی الله عنه یوم یلقاه و من صام ثلاثة ایام من رجب رضی الله عنه و ارضاه و ارضی عنه خصمائه یوم یلقاه و من صام سبعة ایام من رجب فتحت له ابواب الجنة الثمانیة و من صام من رجب خمسة عشر یوما قضی الله عز و جل له کل حاجة الا ان یساله فی مأثم او فی قطیعة رحم و من صام شهر رجب کله خرج من ذنوبه کیوم ولدته امه و اُعتق من النار و دخل الجنة مع المصطفین الاخیار، جو شخص رجب میں دو دن روزہ رکھے تو جس دن وہ خدا سے ملاقات کرے گا خدا اس سے راضی ہوگا اور خدا اسے بھی راضی کرے گا اور اس سے حقداروں کو بھی اس دن اس سے راضی کرے گا۔ اور وہ شخص جو اس میہنے میں سات دن روزہ رکھے موت کے وقت اس کی روح کیلئے آسمان کے سات دروازے کھول دئے جائیں گے یہاں تک کہ وہ ملکوت اعلی تک پہنچے اور جو شخص آٹھ دن روزہ رکھے بہشت کے آٹھ دروازے اس پر کھول دیئے جائیں گے۔ اور جو شخص پندرہ دن روزہ رکھے خدا اس کی حاجت کو پورا کرے گا مگر یہ کہ اس کی حاجت گناہ اور قطع رحم کے حوالے سے ہو، اور جو شخص پورا رجب کا مہینہ روزہ رکھے تو اس کے سارے گناہ معاف کر دئے جائیں گے گویا کہ وہ تازہ پیدا ہوا ہو اور جہنم کی آگ سے نجات ملے گی اور بہشت میں نیک لوگوں کا ہمنشین ہوگا۔
عذاب قبر سے نجات: ثوبان قبر میں عذاب میں مبتلاء ایک گروہ کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل کرتے ہیں: فلو صاموا هولاء ایام رجب و قاموا فیها ما عذبوا فی قبورهم۔ اگر یہ لوگ رجب میں روزہ رکھتے اور اس میہنے کی راتوں میں شب بیداری کرتے تو ان کے قبر میں عذاب نہ ہوتا۔
عمرہ رجبیہ
احادیث کی روشنی میں رجب کے مہینے میں عمرہ بجا لانا دوسرے مہینوں میں عمرہ بجا لانے سے بہتر ہے۔ معاویہ بن عمار کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: رجب میں عمرہ بجا لانا بہتر ہے یا رمضان المبارک میں؟ امام نے فرمایا: رجب میں عمرہ بجا لانا بہتر ہے۔ای العمرة افضل؟ عمرة فی رجب او عمرة فی رمضان؟ فقال لا بل عمرة فی شهر رجب۔
chat.whatsapp.com/JjllQL3dj6l9dga4yqafy0

2 years ago | [YT] | 2

AL IRFAN

Juloos-e-Amari Loorpur

4 years ago | [YT] | 12