"Welcome to syed tajamal Abbas, your go-to destination for soulful Quran recitations and insightful Islamic content. Join us on a journey of faith, reflection, and spiritual growth. Subscribe now to stay updated on our latest videos!"
What do you think?
Tajamal Abbas
طوفانِ نوح: ایمان، تاریخ، اور سائنس کے درمیان ایک سفر
طوفانِ نوح ایک ایسی کہانی ہے جو دنیا بھر کے مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ کہانی ہمیں ایمان، صبر، اور خدا کی رحمت کے بارے میں سکھاتی ہے۔ لیکن اکثر اوقات، اس کہانی پر کچھ اعتراضات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔
آئیے اس پوسٹ میں ان اعتراضات پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور کچھ حقائق پر غور کرتے ہیں:
🔍 1. کیا طوفانِ نوح عالمی تھا؟
کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک عالمی طوفان کے سائنسی شواہد نہیں ملتے۔ تاہم، بہت سے علماء کا خیال ہے کہ طوفانِ نوح ایک علاقائی واقعہ تھا، نہ کہ عالمی۔ قرآن پاک میں بھی ایسی آیات موجود ہیں جو اس طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، سورہ ہود (آیت 44) میں زمین کو پانی نگلنے اور آسمان کو تھم جانے کا حکم دیا گیا ہے، جو ایک محدود علاقے کے لیے زیادہ موزوں لگتا ہے۔
🔍 2. کیا کشتی میں تمام جانوروں کے جوڑے سما سکتے تھے؟
اگر طوفان علاقائی تھا، تو تمام دنیا کے جانوروں کو کشتی میں لانے کی ضرورت نہیں تھی۔ نوح علیہ السلام نے صرف اس علاقے کے اہم جانوروں کے جوڑے کشتی میں رکھے ہوں گے، تاکہ طوفان کے بعد زندگی دوبارہ شروع کی جا سکے۔
🔍 3. کیا اتنی بڑی کشتی بنانا ممکن تھا؟
نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم خدا کی طرف سے ملا تھا۔ قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے کہ خدا نے انہیں کشتی بنانے کی تعلیم دی۔ لہذا، خدا کی مدد سے، نوح علیہ السلام کے لیے اتنی بڑی کشتی بنانا ناممکن نہیں تھا۔
📜 نتیجہ:
طوفانِ نوح کی کہانی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہمیں بہت سے اہم اسباق سکھاتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدا کی رحمت اور انصاف ہمیشہ موجود ہے، اور جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں، وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں۔
آئیے اس کہانی سے سبق حاصل کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط بنائیں۔
#طوفان_نوح #ایمان #تاریخ #سائنس #خدا_کی_رحمت #اسلام #قرآن
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Tajamal Abbas
خدا کا علم بمقابلہ انسانی ٹیکنالوجی: ایک فکری مغالطے کا جواب
آج کل یہ اعتراض کثرت سے کیا جاتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ نے فرمایا ہے کہ "وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں (ماں کے پیٹ) میں ہے،" جبکہ جدید سائنس اور الٹراساؤنڈ ٹیکنالوجی سے تو اب یہ پتہ چل جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، دیکھو، اب تو انسان بھی جان لیتا ہے!
لیکن کیا یہ اعتراض واقعی درست ہے؟ یا یہ ہماری سوچ کی محدودیت ہے؟
آئیے، اس کا حقیقت پسندانہ جواب جانتے ہیں:
قرآن کے الفاظ پر غور: قرآن نے یہ نہیں کہا کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ "کون" (لڑکا یا لڑکی) ہے۔ قرآن نے کہا، وہ جانتا ہے کہ "کیا" (مَا) ہے۔ اس "کیا" میں وہ سب کچھ شامل ہے جو الٹراساؤنڈ کی سمجھ سے باہر ہے۔
الٹراساؤنڈ کا علم بمقابلہ اللہ کا علم: الٹراساؤنڈ صرف ایک مادی چیز بتاتا ہے—وہ بھی حمل کے کئی ہفتوں بعد—جبکہ اللہ کا علم ازلی اور ابدی ہے۔ اللہ جانتا ہے:
بچے کی تقدیر کیا ہوگی؟
وہ نیک بنے گا یا بدکار؟
اس کی عمر کتنی ہوگی اور وہ کس وقت اور کہاں مرے گا؟
اس کا رزق کتنا ہوگا؟
اس کے ڈی این اے اور آنے والی نسلوں کا مستقبل کیسا ہوگا؟
ان باتوں کو دنیا کی کوئی بھی مشین کبھی نہیں بتا سکتی۔
غیب کی پانچ چابیاں: حدیثِ مبارکہ (صحیح بخاری) کے مطابق، رحم میں موجود بچے کے بارے میں علمِ غیب سے مراد یہ ہے کہ وہ خوش قسمت ہوگا یا بدقسمت، اور اس کی زندگی کتنی ہوگی۔ یہ وہ غیب ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
خلاصہ: الٹراساؤنڈ سے صرف بچے کی جنس کا پتہ چلتا ہے، جبکہ قرآن جس علم کا ذکر کر رہا ہے وہ بچے کی مکمل حقیقت، روح اور تقدیر کا علم ہے۔ لہذا، الٹراساؤنڈ قرآن کی آیت پر کوئی اعتراض نہیں، بلکہ انسان کے اپنے علم کی حدود کا اعتراف ہے۔
#Quran #Islam #Science #Knowledge #DivineKnowledge #Ultrasound
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Tajamal Abbas
ایک تلخ سچ—کیا ہم محسن کش قوم ہیں؟
آج دل بہت بوجھل ہے اور یہ تلخ سچائی تسلیم کرتے ہوئے روح کانپتی ہے کہ ہم بطور قوم شاید بزدلی اور منافقت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی اپنے سچے لیڈروں اور محسنوں کی قدر نہیں کی۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح: جنہوں نے ہمیں ایک آزاد وطن دیا، ان کی آخری سانسیں ایک خراب ایمبولینس میں سڑک کنارے تڑپتے ہوئے گزریں۔ ہم انہیں نہ بچا سکے، نہ وہ احترام دے سکے۔
ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو: ایک کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا اور دوسری کو سرِعام گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔ ہم تماشائی بنے دیکھتے رہے۔
عمران خان: جو قوم کے لیے کھڑا ہوا، آج وہ بھی کس حال میں ہے اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: وہ انسان جس نے ہمیں ایٹم بم بنا کر دیا، جس نے اس ملک کو ناقابلِ تسخیر بنایا، ان کی زندگی کے آخری ایام کی ویڈیوز دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ ہم نے اپنے سب سے بڑے محسن کو بھی نظر بند رکھا اور تنہائی میں مرنے دیا۔
ہم صرف نعرے لگانے والی قوم ہیں؟ یا واقعی ہم میں اتنی منافقت آ چکی ہے کہ ہم اپنے ہی ہیروز کو مٹتا دیکھتے رہتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے؟ اب بھی وقت ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
#WakeUpPakistan #OurHeroesOurPride #PakistaniHistory
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Tajamal Abbas
آخری بار ملو چائے کے ڈھابے پہ وہی
ہم نے یادوں کے کئی نقش جہاں چھوڑے تھے
تیری قسموں کا، نہ یادوں کا حوالہ دوں گا
نہ یہ پوچھوں گا کہ اب ترکِ تعلق کیوں ہے
مجھ سے جب عہد و پیمان باندھ لیے تھے تم نے
پھر کسی اور سے تم کو محبت کیوں ہے؟
آخری بار ملو، نا یہ پوچھوں گا تیری چائے میں چینی کتنی
اور بسکٹ بھی وہی ساتھ میں اب کھاؤ گی
نہ نام پوچھوں گا، نہ ذکر کروں گا اس کا
نہ یہ پوچھوں گا تم آج کہاں جاؤ گی
آخری بار ملو۔۔۔
میں تو دیکھوں گا جفا کاروں کا حلیہ کیا ہے
بے وفائی میں شکل کچھ تو بدلتی ہوگی
آنکھ سے آنکھ ملاؤ گی تو کیسے جاناں
بات کیا جم کے تیرے منہ سے نکلتی ہوگی
آخری بار ملو رسمِ محبت ہے یہی
آؤ اک شام مناتے ہیں پھر سے بچھڑنے کے لیے
یاد رکھنے کا میرے پاس نہ امکان رہے
آج بس آ کے ملو دل سے اترنے کے لیے
#fypシ゚ #viral #urdupoetry #urdushayari
3 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Tajamal Abbas
حج: صرف ایک سفر نہیں، روح کی بیداری (منفرد معلومات)
سبحان اللہ! حج کا مہینہ قریب ہے اور لاکھوں لوگ اللہ کے گھر کی طرف گامزن ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حج کو ہم پر کیوں فرض کیا اور اس کے پیچھے کیا گہری حکمتیں ہیں؟ آئیے کچھ ایسی باتیں جانتے ہیں جو شاید آپ نے پہلے اس انداز میں نہ سنی ہوں:
1۔ یہ فرض کیوں کیا گیا؟ (اصل مقصد)
برابری کا سب سے بڑا سبق: دنیا کا کوئی قانون یا ملک بادشاہ اور غریب کو ایک ہی لباس میں ایک ساتھ کھڑا نہیں کر سکتا۔ حج میں سب "احرام" پہنتے ہیں، جہاں نہ کوئی امیر ہے نہ غریب، نہ کوئی گورا ہے نہ کالا۔ اللہ نے یہ دکھایا کہ اس کے نزدیک سب برابر ہیں، عزت صرف تقویٰ کی ہے۔
نئے سرے سے زندگی کا آغاز: حج کا اصل مقصد انسان کو گناہوں سے پاک کر کے بالکل ویسا بنانا ہے جیسا وہ پیدا ہوا تھا۔ یہ ایک "اسپیریچوئل ری سیٹ" (Spiritual Reset) ہے۔
2۔ حج کے وہ حقائق جو بہت کم لوگ جانتے ہیں 🌟
میدانِ عرفات (قیامت کا منظر): عرفات میں قیام حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔ یہ صرف ایک میدان نہیں، بلکہ یہ اس دن کی یاد دہانی ہے جب سب لوگ اللہ کے سامنے حساب کے لیے کھڑے ہوں گے۔ یہاں کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔
حجرِ اسود کا راز: کیا آپ جانتے ہیں کہ حجرِ اسود کا مطلب "کالا پتھر" ہے، لیکن احادیث کے مطابق جب یہ جنت سے اتارا گیا تھا تو دودھ سے زیادہ سفید تھا؟ انسانوں کے گناہوں نے اس کا رنگ تبدیل کر دیا۔ یہ پتھر قیامت کے دن گواہی دے گا کہ کس کس نے اس کا بوسہ لیا یا اشارہ کیا۔
زمزم کا معجزہ: ہزاروں سال گزر گئے، لاکھوں کروڑوں گیلن پانی روزانہ نکالا جاتا ہے، لیکن یہ چشمہ کبھی خشک نہیں ہوا اور نہ اس کے ذائقے میں فرق آیا۔
3۔ حج کے فضائل اور فائدے ✨
غربت اور گناہوں کا خاتمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حج اور عمرہ بار بار کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں غربت اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کی میل کو دور کرتی ہے۔ یعنی حج سے رزق میں برکت آتی ہے۔
خواتین کے لیے بہترین جہاد: ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کا جہاد "حجِ مبرور" (مقبول حج) ہے۔
Hajj2026 #HajjInformation #IslamicKnowledge #Makkah #ZulHijjah #حج_مبارک
4 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Tajamal Abbas
🌍 زمین پر پانی کا معجزہ: قرآن اور جدید سائنس کا حیرت انگیز توازن 🌊
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری زمین پر موجود پانی کا ایک ایک قطرہ دراصل خلا (Space) سے آیا ہے؟ اور یہ بات جدید سائنس نے اب جا کر معلوم کی ہے، جبکہ قرآن پاک نے 1400 سال پہلے ہی اس حقیقت کو بیان کر دیا تھا!
آئیے دیکھتے ہیں کہ زمین پر پانی کی پیدائش، اس کے ذخائر اور توازن کے بارے میں قرآن اور سائنس کیا کہتے ہیں:
1۔ پانی کی پیدائش: زمین کا اپنا پانی نہیں تھا! (Water from Space)
جدید سائنس کیا کہتی ہے؟
سائنسدانوں کی جدید تحقیق کے مطابق، جب زمین نئی نئی بنی تھی تو یہ انتہائی گرم تھی اور یہاں پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔ پھر کروڑوں سال پہلے، خلا سے برفانی شہابِ ثاقب (Water-rich Asteroids/Comets) زمین پر آ کر گرے۔ ان شہابِ ثاقب کے ذریعے پانی زمین پر "نازل" ہوا، جو بعد میں سمندروں اور دریاؤں کی شکل اختیار کر گیا۔
قرآن پاک کا معجزہ:
اللہ تعالیٰ نے سورہ المومنون (آیت 18) میں بالکل یہی لفظ استعمال فرمایا:
وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْكَنَّاهُ فِي الْأَرْضِ
"اور ہم نے آسمان سے ایک خاص مقدار میں پانی اتارا، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا..."
ذرا غور کریں! قرآن نے واضح طور پر کہا کہ پانی "آسمان سے اتارا گیا" ہے، جو کہ جدید سائنس کی سو فیصد تصدیق کرتا ہے۔
2۔ پانی کا ایک مقررہ توازن (The Fixed Measure of Water)
جدید سائنس کیا کہتی ہے؟
سائنس کے مطابق زمین پر پانی کا مجموعی حجم (Total Volume) ہمیشہ یکساں رہتا ہے۔ واٹر سائیکل (Water Cycle) کے ذریعے پانی سمندروں سے بھاپ بن کر اڑتا ہے، بادل بنتا ہے اور دوبارہ بارش کی صورت میں زمین پر آ جاتا ہے۔ زمین پر پانی نہ تو کبھی کم ہوتا ہے اور نہ ہی زیادہ، بلکہ اس کا توازن مقرر ہے۔ اگر یہ توازن بگڑ جائے تو زمین پر زندگی ختم ہو جائے۔
قرآن پاک کا معجزہ:
اوپر دی گئی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "بِقَدَرٍ" یعنی 'ایک خاص مقدار یا حساب کے ساتھ'۔
اسی طرح سورہ الزخرف (آیت 11) میں فرمایا:
وَالَّذِي نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ
"اور وہ جس نے آسمان سے ایک حساب (مقررہ مقدار) کے ساتھ پانی اتارا۔"
3۔ زمین کے اندر پانی کا ذخیرہ (Underground Water Reservoirs)
جدید سائنس کیا کہتی ہے؟
بارش کا پانی جب زمین پر گرتا ہے، تو زمین کی تہیں اسے اپنے اندر چوس لیتی ہیں اور یہ پانی زمین کے نیچے "ایکوافِرز" (Aquifers) یعنی زیرِ زمین چشموں اور ذخائر کی صورت میں جمع ہو جاتا ہے۔ یہ پانی وہاں لاکھوں سال تک محفوظ رہتا ہے اور خراب نہیں ہوتا، جسے ہم کنوئیں یا بورنگ کے ذریعے نکالتے ہیں۔
قرآن پاک کا معجزہ:
اللہ تعالیٰ نے سورہ الزمر (آیت 21) میں اس نظام کو یوں بیان فرمایا:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ
"کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے زمین کے اندر چشموں کی شکل میں چلا دیا (ذخیرہ کر دیا)۔"
💡 سوچنے کا مقام (Conclusion)
چودہ سو سال پہلے، جب نہ تو کوئی سائنسی لیبارٹری تھی اور نہ ہی خلا میں دیکھنے والی دوربینیں، اس وقت صحرائے عرب میں نازل ہونے والی کتاب کا پانی کے ان گہرے رازوں کو اتنی باریکی سے بیان کرنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں، بلکہ کائنات کے خالق کا سچا کلام ہے۔
سبحان اللہ!
#ScientificMiracles #QuranAndScience #IslamicKnowledge #AmazingFacts #IslamicPost
4 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Tajamal Abbas
اسلام آباد کے فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک 14 سال کا لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ نام تھا *سلیم*۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش، اور کالے رنگ کی پالش۔
دن بھر وہ لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوتے کے 20 روپے۔ دن میں 15-20 جوتے پالش ہو جاتے تو 300-400 بن جاتے۔ اتنے میں گھر کا چولہا جلتا تھا۔ گھر میں امی اور چھوٹی بہن *ماریہ* تھی۔ ابا ایک حادثے میں چلے گئے تھے، جب سلیم 10 سال کا تھا۔
لوگ آتے، جوتے دیتے، اور کہتے "جلدی کر بچے، وقت نہیں ہے۔" کوئی حال نہ پوچھتا۔ سلیم چپ چاپ کام کرتا رہتا۔
رات کو جب مسجد کے باہر لائٹیں بند ہو جاتیں، تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں کھولتا۔ وہ کتابیں اسے ایک استاد دے گیا تھا، جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد کہتا تھا، "سلیم، ہاتھ داغی ہیں تو کیا ہوا، دماغ صاف رکھو۔"
سلیم پڑھتا تھا۔ میٹرک، ایف ایس سی، سب رات کو ہی کیا۔ دن میں جوتے، رات میں فارمولے۔ لوگ ہنستے تھے، "جوتے پالش کرنے والا ڈاکٹر بنے گا؟"
سلیم کچھ نہ کہتا۔ بس ماریہ کی کاپی پر لکھے نام کو دیکھتا رہتا۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنائے گا۔
18 سال کی عمر میں سلیم نے ایف ایس سی میں 98% لیے۔ اسکالرشپ ملی، NUST اسلام آباد میں داخلہ ہو گیا۔ داخلے کی فیس کے لیے اس نے 2 سال کی کمائی اکٹھی کی تھی — 1 لاکھ 80 ہزار۔ امی روتی رہی، "بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کر، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔"
سلیم نے کہا، "امی، اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔"
یونیورسٹی میں بھی سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ دن کو لیب میں کام، رات کو پڑھائی، اور ہفتے میں 2 دن پرانے کام والے دوستوں کے ساتھ جا کر انہیں اکاؤنٹنگ سکھاتا۔
گریجویشن کے بعد اس نے ایک چھوٹی سی IT کمپنی شروع کی — صرف 3 لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کا کمرہ۔ پہلا سال ناکامی کا تھا۔ پیسے ختم، قرض چڑھ گیا۔
لیکن سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ وہی بات یاد تھی جو استاد نے کہی تھی، "سلیم، دھول میں بیٹھ کر بھی اگر خواب دیکھو تو وہ سچ ہوتے ہیں۔"
5 سال بعد اس کی کمپنی نے ایک ایپ بنائی جو پاکستان بھر میں چل پڑی۔ آج سلیم کی عمر 29 سال ہے۔ اسلام آباد کے G-6 میں اس کا اپنا دفتر ہے، 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
اور ماریہ؟ وہ اب ڈاکٹر ہے۔ پمز ہسپتال میں۔
آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے باہر سے گزرتا ہے، تو رکتا ہے۔ وہاں اب بھی ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے، ہاتھ میں پالش کا ڈبہ لیے۔
سلیم اتر کر اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے، اور کہتا ہے، "بیٹا، جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری ہے خواب چمکانا۔ جب کبھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔"
لوگ کہتے ہیں سلیم اب بلینئر ہے۔
سلیم کہتا ہے، "نہیں، میں اب بھی وہی لڑکا ہوں۔ بس فرق یہ ہے کہ اب میرے خواب بھی میرے ساتھ بیٹھ کر چمکتے ہیں
4 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Tajamal Abbas
کیا لوہا زمین میں پیدا ہوا یا اسے اتارا گیا؟ 👇
قرآن پاک کی سورہ الحدید (آیت 25) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ
"اور ہم نے لوہا اتارا جس میں شدید جنگی طاقت اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں۔"
سائنسی حقیقت: جدید سائنس نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ لوہا اصل میں زمین کی اپنی دھات نہیں ہے، بلکہ یہ کائنات سے 'اتارا گیا' ہے۔
ستارے جب اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں ہوتے ہیں، تو ان کے اندر عظیم دھماکے ہوتے ہیں جنہیں Supernovae کہتے ہیں۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں لوہا بنتا ہے اور شہابِ ثاقب کے ذریعے زمین پر گرتا ہے۔ قرآن نے 1400 سال پہلے لفظ "أَنزَلْنَا" (ہم نے اتارا) استعمال کر کے یہ سائنسی حقیقت واضح کر دی تھی!
خلاصہ: قرآنِ پاک ہدایت کی کتاب ہے اور اس کا ہر بیان سائنسی حقائق کے عین مطابق ہے۔ زمین کی گولائی اور لوہے کے آسمان سے اتارے جانے جیسے معجزات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ اللہ کا سچا کلام ہے۔
👉 اس معلوماتی پوسٹ کو صدقہ جاریہ سمجھ کر اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شیئر کریں! ✨
#QuranAndScience #IslamAndScience #MiraclesOfQuran #IslamicKnowledge
4 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Tajamal Abbas
📢 ووٹ کا حق یا نوجوانوں سے خوف؟
پاکستان کے سیاسی ایوانوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ووٹنگ کی قانونی عمر کو 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
ظاہری طور پر یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ 18 سال کا نوجوان "ناسمجھ" ہوتا ہے اور اس میں سیاسی شعور کی کمی ہوتی ہے۔ لیکن حقیقتِ حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں؛ اصل خوف اس ملک کا وہ نوجوان ہے جو آج اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہا ہے اور ایک مخصوص سیاسی نظریے (عمران خان) کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ قانون سازی نوجوانوں کی بہتری کے لیے نہیں، بلکہ ان کی سیاسی طاقت کو کچلنے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے۔
❓ ہمارا سوال: یہ دوہرا معیار کیوں؟
اگر 18 سال کا نوجوان ملک کا مستقبل طے کرنے کے لیے "ناسمجھ" ہے، تو پھر ان سوالوں کے جواب کون دے گا:
مذہبی اور قانونی ذمہ داری: اسلام اور ملکی قانون کے مطابق 18 سال کی عمر میں ایک انسان بالغ ہو جاتا ہے، وہ شادی کر کے ایک پورے خاندان کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل مان لیا جاتا ہے۔ تو پھر ووٹ دینے کے لیے وہ نااہل کیسے ہو گیا؟
ملک کا دفاع: اسی 18 سال کی عمر میں ہمارا نوجوان فوج میں بھرتی ہو کر سرحدوں پر جان کا نذرانہ دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ جو نوجوان ملک کی حفاظت کے لیے گولی کھا سکتا ہے، کیا وہ ایک بیلٹ پیپر پر مہر لگانے جتنا میچور (Mature) نہیں؟
معاشی بوجھ اور نوکریاں: 18 سال کی عمر میں نوجوان پر نوکری کرنے اور ٹیکس دینے کا دباؤ ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر وہ ٹیکس دینے کے لائق ہے، تو اپنے نمائندے چننے کے لائق کیوں نہیں؟
⚠️ نتیجہ:
نوجوانوں کو ناسمجھ کہنا سراسر ناانصافی اور ان کی ذہانت کی توہین ہے۔ اگر آپ انہیں ہر ذمہ داری کے لیے تیار سمجھتے ہیں، تو ان سے ان کا سب سے بڑا آئینی اور جمہوری حق مت چھینیں۔ یہ فیصلہ میچورٹی کا نہیں، بلکہ نوجوانوں کی سیاسی بیداری سے خوف کا نتیجہ ہے۔
#28thAmendment #RightToVote #YouthOfPakistan #Democracy
4 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Tajamal Abbas
کیا زمین گول ہے یا چپٹی؟ 🌍 قرآنِ پاک پر اعتراض کا علمی اور سائنسی جواب!
السلام علیکم دوستو!
آج کل سوشل میڈیا پر کچھ لوگ قرآنِ پاک کی آیات کا غلط مفہوم نکال کر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) قرآن زمین کو چپٹی (Flat) کہتا ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ یا پھر یہ معترضین کی کم علمی ہے؟
آئیے عربی لغت، قرآنِ پاک کی آیات اور جدید سائنس کی روشنی میں اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ قرآن زمین کی شکل کے بارے میں کیا کہتا ہے! 👇
1️⃣ زمین کو "بچھانے" یا "ہموار" کرنے کا اصل مفہوم کیا ہے؟
قرآنِ پاک میں جہاں بھی زمین کو فرش کی طرح بچھانے (بِسَاطًا)، گہوارہ بنانے (مَهْدًا)، یا ہموار کرنے (سُطِحَتْ) کا ذکر آیا ہے، اس کا تعلق انسانی نقطہِ نظر (Visual Perspective) سے ہے۔
انسانی فائدہ: اللہ تعالیٰ نے زمین کو ہمارے لیے اتنا وسیع اور ہموار بنایا ہے کہ ہم اس پر آسانی سے چل پھر سکیں، گھر بنا سکیں اور کھیتی باڑی کر سکیں۔
سائنسی حقیقت: ایک بہت بڑے گولے (Sphere) کا ہر حصہ اس پر رہنے والی چھوٹی مخلوق کو ہمیشہ "چپٹا" اور ہموار ہی محسوس ہوتا ہے۔ اگر زمین ہر جگہ سے بظاہر گول نظر آتی، تو زندگی گزارنا ناممکن ہو جاتا۔
2️⃣ قرآن سے زمین کے گول ہونے کے واضح سائنسی ثبوت 🔍
قرآنِ پاک میں کئی ایسی آیات ہیں جو زمین کی گولائی (Spherical Shape) کی طرف صاف اشارہ کرتی ہیں:
🌟 رات اور دن کا ایک دوسرے پر لپیٹنا (سورہ الزمر، آیت 5):
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے۔"
یہاں عربی کا لفظ "يُكَوِّرُ" (تکویر) استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے "کسی چیز کو پگڑی کی طرح گولائی میں لپیٹنا"۔ رات اور دن کا ایک دوسرے کے اوپر گولائی میں لپیٹنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب زمین خود گول ہو!
🌟 مشارق اور مغارب (کئی مشرق اور کئی مغرب):
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے خود کو مشرقوں اور مغربوں کا رب کہا ہے۔ اگر زمین چپٹی ہوتی، تو پوری دنیا کا ایک ہی مشرق اور ایک ہی مغرب ہوتا۔ لیکن زمین کے گول ہونے اور گھومنے کی وجہ سے ہر ملک کا سورج نکلنے اور ڈوبنے کا وقت الگ ہے۔
🌟 لفظ "دَحَاهَا" کی گہری حکمت (سورہ النازعات، آیت 30):
عربی لغت کے مطابق، لفظ "دَحَى" کا ایک مطلب شتر مرغ کے انڈے سے بھی لیا جاتا ہے۔ جدید سائنس کہتی ہے کہ زمین بالکل مکمل گول نہیں ہے، بلکہ یہ اوپر اور نیچے سے تھوڑی چپٹی ہے، جو کہ شتر مرغ کے انڈے جیسی شکل (Geoid) بنتی ہے۔ سبحان اللہ!
3️⃣ مسلم علماء کا صدیوں پرانا اتفاق 📜
یہ بات یاد رہے کہ مسلم سائنسدانوں اور جید علماء نے آج سے ہزار سال پہلے ہی قرآن کی روشنی میں زمین کے گول ہونے کا اعلان کر دیا تھا:
امام ابن حزمؒ (وفات 1064ء) نے اپنی کتاب میں لکھا کہ قرآن و حدیث کے دلائل سے یہ ثابت ہے کہ زمین گول ہے۔
امام ابن تیمیہؒ نے بھی تمام جید علماء کا اجماع نقل کیا کہ زمین سمیت تمام آسمانی اجسام گول ہیں۔
🎯 خلاصہ (Conclusion):
قرآنِ پاک ہدایت کی کتاب ہے، اور اس کا کوئی بھی بیان مسلمہ سائنسی حقائق کے خلاف نہیں ہے۔ جہاں زمین کو "بچھونا" کہا گیا، وہ انسانوں کی سہولت کے لحاظ سے ہے، اور جہاں نظامِ کائنات کا ذکر آیا، وہاں اس کے گول ہونے کا واضح ثبوت دیا گیا ہے۔
اس معلوماتی پوسٹ کو صدقہ جاریہ سمجھ کر اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شیئر کریں تاکہ سب کو حقیقت کا پتہ چل سکے! ✨
#QuranAndScience #IslamAndScience #MiraclesOfQuran #IslamicKnowledge
4 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Load more