Mujhe lagta hai poore fandom ka birthday bas October mein hi aata hai! 😭 kis kis ka birthday isi mahine mein hai? Jaldi se date batao apni! 💜✨" Kal Meri birthday ha please wish kar dyna 18 October
"السلام علیکم! میرے پیارے ریڈرز! مجھے بخار🌡️🤒 ہے، اس وجہ سے میں آپ کو پارٹ نہیں دے پا رہی ہوں۔ جیسے ہی میری طبیعت بہتر ہوگی اور بخار اترے گا، میں پوری کوشش کروں گی کہ جلد از جلد اگلا شاندار پارٹ آپ کی خدمت میں پیش کر دوں۔ تب تک تھوڑا سا انتظار کیجیے گا اور مجھے اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے گا۔" 🤌🏻🤲🏻
Ap logo ko me nahi bolti k copy link karo is ka Matlab ye nahi k ap NY Karna he nahi ap part parhny sy pahly 10 bar copy link nahi kar skty video block ho Rahi ha agr agla part bhi block ho giya TU me 7 din bad part do gi 😩😩
"دوستو! 'ونٹر بیئر (Winter Bear ☕🐻)' کی اگلی قسط میں آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا جنکوک تاہیونگ کو کبھی معاف کر پائے گا یا وہ ہمیشہ کے لیے دور چلا جائے گا؟ اپنی پسندیدہ سچویشن اور خوبصورت آئیڈیاز کمنٹس میں شیئر کریں! ❤️💭"
ناشتہ ختم ہوتے ہی جنکوک صوفے سے اٹھا اور اپنی گھڑی کلائی پر باندھتے ہوئے تاہیونگ کے پاس آیا۔ تاہیونگ اب بھی ڈائننگ ٹیبل پر نظریں جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔ "میں آفس جا رہا ہوں،" جنکوک کی بارعب آواز پر تاہیونگ نے چونک کر اوپر دیکھا۔ جنکوک نے اپنے سیکیورٹی گارڈ اور حویلی کے ملازم کو پاس بلایا۔ "میرا حکم غور سے سنو،" جنکوک نے تاہیونگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔ "یہ حویلی سے باہر قدم نہیں رکھے گا۔ اگر اس نے بھاگنے کی ذرا سی بھی کوشش کی یا اس نے کھانا نہ کھایا، تو تم سب نوکری سے فارغ ہو گے۔" ملازمین نے فوراً احترام سے سر جھکا دیا۔ تاہیونگ نے خوفزدہ ہو کر جنکوک کے کوٹ کا کونہ اپنی نازک انگلیوں میں جکڑ لیا۔ "آـ... آپ مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟" 19 سالہ تاہیونگ کی آنکھوں میں شدید ڈر اور معصومیت تھی، اسے لگا تھا کہ جنکوک اسے کسی اندھیرے کمرے میں بند کر کے چلا جائے گا۔ جنکوک نے نیچے جھک کر تاہیونگ کے معصوم اور ڈرے ہوئے چہرے کو دیکھا۔ اس نے آہستہ سے تاہیونگ کے ہاتھ کو اپنے کوٹ سے الگ کیا، لیکن اپنی گرپ میں نرمی رکھی۔ "میں شام کو واپس آؤں گا،" جنکوک نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھیمی آواز میں کہا۔ "تمہیں جو بھی چاہیے، ملازم سے مانگ لینا... لیکن میری غیر موجودگی میں کوئی چالاکی مت دکھانا۔" تاہیونگ نے ڈرتے ڈرتے ہلکا سا سر ہلا دیا۔ جنکوک مڑا اور باہر جانے لگا، لیکن دروازے کے پاس پہنچ کر ایک لمحے کے لیے رکا اور ملازم سے بولا، "اس کے لیے پھل اور اس کا پسندیدہ جوس کمرے میں بھجوا دینا۔" تاہیونگ نے حیرت سے جنکوک کی پیٹھ کو دیکھا، جو باہر جا رہا تھا۔ جنکوک کے اس سخت رویے اور حاکمانہ انداز کے پیچھے چھپی یہ خاموش توجہ تاہیونگ کے معصوم دل کو الجھا رہی تھی۔
صبح کی پہلی کرنیں جب کھڑکی کے بھاری پردوں کو چیرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں، تو تاہیونگ کی آنکھ کھلی۔ وہ رات بھر روتے روتے بستر کے ایک کونے میں ہی سو گیا تھا۔ اس کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں اور معصوم چہرے پر خوف اور اجنبیت کے تاثرات اب بھی قائم تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے بستر سے نیچے قدم رکھا اور ننگے پاؤں آہستہ آہستہ کمرے سے باہر نکل کر گیلری میں آیا۔ حویلی میں مکمل خاموشی تھی۔ نیچے ہال میں، جنکوک بلیک سوٹ پہنے، ہاتھ میں کافی کا کپ لیے صوفے پر بیٹھا کسی فائل کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کی بارعب اور سنجیدہ شخصیت حویلی کے ماحول پر حاوی تھی۔ تاہیونگ کی آہٹ محسوس ہوتے ہی جنکوک نے فائل سے نظریں ہٹائیں اور اوپر گیلری میں کھڑے تاہیونگ کو دیکھا۔ "نیچے آؤ،" جنکوک کی گہری اور حاکمانہ آواز ہال میں گونجی۔ تاہیونگ نے سہم کر اپنے ہاتھ کی انگلیاں بھیچ لیں اور آہستہ قدم اٹھاتا ہوا نیچے آیا۔ وہ جنکوک سے کچھ فاصلے پر ہی رک گیا۔ "یہاں بیٹھو،" جنکوک نے اپنے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ تاہیونگ ڈرتے ڈرتے کرسی پر بیٹھ گیا۔ ملازم نے فوراً اس کے سامنے گرم ناشتہ اور اس کے لیے دودھ کا گلاس رکھ دیا۔ "مـ... مجھے بھوک نہیں ہے..." تاہیونگ نے بالکل مدہم اور معصوم آواز میں کہا، اور اپنی نظریں نیچے کر لیں۔ جنکوک نے کافی کا کپ میز پر رکھا اور اپنی سخت نظریں تاہیونگ کے معصوم چہرے پر جمائیں۔ "میں نے رات بھی کہا تھا، تاہیونگ... مجھ سے انکار کرنے کی عادت ختم کر دو،" جنکوک نے روکھے لہجے میں کہا۔ "اگر ناشتہ ختم نہیں کیا تو آج پورا دن اس کمرے سے باہر قدم بھی نہیں رکھنے دوں گا۔" تاہیونگ کی آنکھوں میں دوبارہ آنسو تیرنے لگے، لیکن جنکوک کے اس سخت حکم سے ڈر کر اس نے فوراً چمچ اٹھایا اور چپ چاپ کھانے لگا۔ جنکوک نے خاموشی سے اس کے روتے اور کھاتے ہوئے معصوم چہرے کو دیکھا۔ وہ اندر سے تاہیونگ پر سخت نہیں ہونا چاہتا تھا، لیکن اسے اپنے قابو میں رکھنے کے لیے اپنا رعب قائم رکھنا بھی اس کی مجبوری تھی۔
کالی شاندار گاڑی جیسے ہی جنکوک کی عظیم الشان حویلی کے سامنے رکی، تاہیونگ نے ڈرتے ڈرتے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اتنی بڑی اور پراسرار حویلی دیکھ کر اس کا معصوم دل اور زیادہ گھبرا گیا۔ جنکوک نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکل کر تاہیونگ کی طرف دیکھا، جو وہیں کونے میں سیمٹ کر بیٹھا تھا اور باہر آنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ "باہر آؤ،" جنکوک نے سخت اور بارعب آواز میں حکم دیا۔ تاہیونگ نے سہم کر جنکوک کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر اس کے سرخ گالوں پر گر رہے تھے۔ "مـ... مجھے گھر جانا ہے... مجھے بابا کے پاس جانا ہے..." 19 سالہ تاہیونگ نے کانپتی آواز میں التجا کی، اسے اب بھی یہ لگ رہا تھا کہ اس کا باپ غلطی سے اسے چھوڑ گیا ہے۔ جنکوک نے ایک لمبی سانس لی اور گاڑی کے اندر جھک کر تاہیونگ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ اس کی گرفت میں غصہ نہیں تھا، لیکن ایک ایسا اختیار تھا جس سے تاہیونگ انکار نہ کر سکا۔ جنکوک نے اسے باہر نکالا اور حویلی کے اندر لے آیا۔ حویلی کے شاندار ہال میں داخل ہوتے ہی ملازمین صف باندھے کھڑے ہو گئے۔ جنکوک نے تاہیونگ کی روتی ہوئی اور معصوم صورت کو دیکھا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنا روکھا اور سخت رویہ دکھائے، لیکن تاہیونگ کی بے گناہی اور خوف نے جنکوک کے اندر عجیب سی بے چینی پیدا کر دی تھی۔ "اسے اوپر والے ماسٹر بیڈ روم میں لے جاؤ،" جنکوک نے ملازم کو ہدایت دی اور پھر تاہیونگ کے بالکل پاس جھک کر کہا، "آج سے یہی تمہارا گھر ہے۔ بھاگنے کی کوشش کرو گے تو درد تمہیں ہی ہوگا، سمجھے؟" تاہیونگ نے ڈر کر فوراً ہانکلے میں سر ہلا دیا۔ کمرے میں پہنچ کر تاہیونگ بستر کے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور گھٹنوں میں سر دے کر خاموشی سے رونے لگا۔ تھوڑی دیر بعد جنکوک خود کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں گرم دودھ اور کچھ کھانے کی پلیٹ تھی۔ اس نے پلیٹ سائیڈ میز پر رکھی اور تاہیونگ کے پاس بستر پر بیٹھ گیا۔ تاہیونگ خوف سے اور پیچھے ہٹنے لگا، لیکن جنکوک نے اس کا شانہ پکڑ کر اسے روکا۔ "کھانا کھاؤ،" جنکوک نے سخت لہجے میں کہا، لیکن اس کے ہاتھ نے تاہیونگ کے گال سے آنسو صاف کیے۔ "مـ... مجھے نہیں کھانا..." تاہیونگ نے ہچکی لیتے ہوئے کہا۔ "میں نے پوچھا نہیں ہے، حکم دیا ہے،" جنکوک نے ڈش سے ایک نوالہ اٹھا کر تاہیونگ کے سامنے کیا، "اگر خود نہیں کھاؤ گے تو میں زبردستی کھلاؤں گا اور وہ طریقہ تمہیں بالکل پسند نہیں آئے گا۔" تاہیونگ نے خوفزدہ ہو کر اپنے معصوم ہونٹ کھولے اور خاموشی سے نوالہ کھا لیا۔ جنکوک خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، یہ سوچتے ہوئے کہ جس لڑکے کو اس نے صرف اپنے شوق اور رقم کے بل بوتے پر خریدا تھا، اس کا یہ معصوم روپ اس کے سخت دل پر اثر کر رہا تھا۔
♡𝙆𝙞𝙢_𝙈𝙖𝙝𝙞♡
Mujhe lagta hai poore fandom ka birthday bas October mein hi aata hai! 😭 kis kis ka birthday isi mahine mein hai? Jaldi se date batao apni! 💜✨" Kal Meri birthday ha please wish kar dyna
18 October
3 days ago | [YT] | 4
View 3 replies
♡𝙆𝙞𝙢_𝙈𝙖𝙝𝙞♡
"السلام علیکم! میرے پیارے ریڈرز! مجھے بخار🌡️🤒 ہے، اس وجہ سے میں آپ کو پارٹ نہیں دے پا رہی ہوں۔ جیسے ہی میری طبیعت بہتر ہوگی اور بخار اترے گا، میں پوری کوشش کروں گی کہ جلد از جلد اگلا شاندار پارٹ آپ کی خدمت میں پیش کر دوں۔ تب تک تھوڑا سا انتظار کیجیے گا اور مجھے اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے گا۔"
🤌🏻🤲🏻
5 days ago | [YT] | 11
View 3 replies
♡𝙆𝙞𝙢_𝙈𝙖𝙝𝙞♡
Ap logo ko me nahi bolti k copy link karo is ka Matlab ye nahi k ap NY Karna he nahi ap part parhny sy pahly 10 bar copy link nahi kar skty video block ho Rahi ha agr agla part bhi block ho giya TU me 7 din bad part do gi 😩😩
2 weeks ago | [YT] | 13
View 2 replies
♡𝙆𝙞𝙢_𝙈𝙖𝙝𝙞♡
دنیا کی ہر چیز حاصل کر کے بھی
میں تمہاری جانب حسرت کی نگاہ سے دیکھوں گی🥺🤌🏻🍷🫀🔪
2 weeks ago | [YT] | 12
View 1 reply
♡𝙆𝙞𝙢_𝙈𝙖𝙝𝙞♡
"کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ تم لیٹ کر چھت کو گھور رہے تھے
اور پھر تمہارے کان بھیگ جائیں۔۔۔؟
نہیں سمجھے۔۔؟ چھوڑو میں نے بکواس کی۔"
2 weeks ago | [YT] | 12
View 1 reply
♡𝙆𝙞𝙢_𝙈𝙖𝙝𝙞♡
"دوستو! 'ونٹر بیئر (Winter Bear ☕🐻)' کی اگلی قسط میں آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا جنکوک تاہیونگ کو کبھی معاف کر پائے گا یا وہ ہمیشہ کے لیے دور چلا جائے گا؟ اپنی پسندیدہ سچویشن اور خوبصورت آئیڈیاز کمنٹس میں شیئر کریں! ❤️💭"
3 weeks ago | [YT] | 14
View 2 replies
♡𝙆𝙞𝙢_𝙈𝙖𝙝𝙞♡
Bacho like TU kar dia karo part ko
3 weeks ago | [YT] | 8
View 3 replies
♡𝙆𝙞𝙢_𝙈𝙖𝙝𝙞♡
ناشتہ ختم ہوتے ہی جنکوک صوفے سے اٹھا اور اپنی گھڑی کلائی پر باندھتے ہوئے تاہیونگ کے پاس آیا۔ تاہیونگ اب بھی ڈائننگ ٹیبل پر نظریں جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔
"میں آفس جا رہا ہوں،" جنکوک کی بارعب آواز پر تاہیونگ نے چونک کر اوپر دیکھا۔
جنکوک نے اپنے سیکیورٹی گارڈ اور حویلی کے ملازم کو پاس بلایا۔
"میرا حکم غور سے سنو،" جنکوک نے تاہیونگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔ "یہ حویلی سے باہر قدم نہیں رکھے گا۔ اگر اس نے بھاگنے کی ذرا سی بھی کوشش کی یا اس نے کھانا نہ کھایا، تو تم سب نوکری سے فارغ ہو گے۔"
ملازمین نے فوراً احترام سے سر جھکا دیا۔
تاہیونگ نے خوفزدہ ہو کر جنکوک کے کوٹ کا کونہ اپنی نازک انگلیوں میں جکڑ لیا۔
"آـ... آپ مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟" 19 سالہ تاہیونگ کی آنکھوں میں شدید ڈر اور معصومیت تھی، اسے لگا تھا کہ جنکوک اسے کسی اندھیرے کمرے میں بند کر کے چلا جائے گا۔
جنکوک نے نیچے جھک کر تاہیونگ کے معصوم اور ڈرے ہوئے چہرے کو دیکھا۔ اس نے آہستہ سے تاہیونگ کے ہاتھ کو اپنے کوٹ سے الگ کیا، لیکن اپنی گرپ میں نرمی رکھی۔
"میں شام کو واپس آؤں گا،" جنکوک نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھیمی آواز میں کہا۔ "تمہیں جو بھی چاہیے، ملازم سے مانگ لینا... لیکن میری غیر موجودگی میں کوئی چالاکی مت دکھانا۔"
تاہیونگ نے ڈرتے ڈرتے ہلکا سا سر ہلا دیا۔
جنکوک مڑا اور باہر جانے لگا، لیکن دروازے کے پاس پہنچ کر ایک لمحے کے لیے رکا اور ملازم سے بولا، "اس کے لیے پھل اور اس کا پسندیدہ جوس کمرے میں بھجوا دینا۔"
تاہیونگ نے حیرت سے جنکوک کی پیٹھ کو دیکھا، جو باہر جا رہا تھا۔ جنکوک کے اس سخت رویے اور حاکمانہ انداز کے پیچھے چھپی یہ خاموش توجہ تاہیونگ کے معصوم دل کو الجھا رہی تھی۔
1 month ago | [YT] | 11
View 0 replies
♡𝙆𝙞𝙢_𝙈𝙖𝙝𝙞♡
صبح کی پہلی کرنیں جب کھڑکی کے بھاری پردوں کو چیرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں، تو تاہیونگ کی آنکھ کھلی۔ وہ رات بھر روتے روتے بستر کے ایک کونے میں ہی سو گیا تھا۔ اس کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں اور معصوم چہرے پر خوف اور اجنبیت کے تاثرات اب بھی قائم تھے۔
اس نے ڈرتے ڈرتے بستر سے نیچے قدم رکھا اور ننگے پاؤں آہستہ آہستہ کمرے سے باہر نکل کر گیلری میں آیا۔ حویلی میں مکمل خاموشی تھی۔
نیچے ہال میں، جنکوک بلیک سوٹ پہنے، ہاتھ میں کافی کا کپ لیے صوفے پر بیٹھا کسی فائل کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کی بارعب اور سنجیدہ شخصیت حویلی کے ماحول پر حاوی تھی۔
تاہیونگ کی آہٹ محسوس ہوتے ہی جنکوک نے فائل سے نظریں ہٹائیں اور اوپر گیلری میں کھڑے تاہیونگ کو دیکھا۔
"نیچے آؤ،" جنکوک کی گہری اور حاکمانہ آواز ہال میں گونجی۔
تاہیونگ نے سہم کر اپنے ہاتھ کی انگلیاں بھیچ لیں اور آہستہ قدم اٹھاتا ہوا نیچے آیا۔ وہ جنکوک سے کچھ فاصلے پر ہی رک گیا۔
"یہاں بیٹھو،" جنکوک نے اپنے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
تاہیونگ ڈرتے ڈرتے کرسی پر بیٹھ گیا۔ ملازم نے فوراً اس کے سامنے گرم ناشتہ اور اس کے لیے دودھ کا گلاس رکھ دیا۔
"مـ... مجھے بھوک نہیں ہے..." تاہیونگ نے بالکل مدہم اور معصوم آواز میں کہا، اور اپنی نظریں نیچے کر لیں۔
جنکوک نے کافی کا کپ میز پر رکھا اور اپنی سخت نظریں تاہیونگ کے معصوم چہرے پر جمائیں۔
"میں نے رات بھی کہا تھا، تاہیونگ... مجھ سے انکار کرنے کی عادت ختم کر دو،" جنکوک نے روکھے لہجے میں کہا۔ "اگر ناشتہ ختم نہیں کیا تو آج پورا دن اس کمرے سے باہر قدم بھی نہیں رکھنے دوں گا۔"
تاہیونگ کی آنکھوں میں دوبارہ آنسو تیرنے لگے، لیکن جنکوک کے اس سخت حکم سے ڈر کر اس نے فوراً چمچ اٹھایا اور چپ چاپ کھانے لگا۔
جنکوک نے خاموشی سے اس کے روتے اور کھاتے ہوئے معصوم چہرے کو دیکھا۔ وہ اندر سے تاہیونگ پر سخت نہیں ہونا چاہتا تھا، لیکن اسے اپنے قابو میں رکھنے کے لیے اپنا رعب قائم رکھنا بھی اس کی مجبوری تھی۔
1 month ago | [YT] | 5
View 0 replies
♡𝙆𝙞𝙢_𝙈𝙖𝙝𝙞♡
کالی شاندار گاڑی جیسے ہی جنکوک کی عظیم الشان حویلی کے سامنے رکی، تاہیونگ نے ڈرتے ڈرتے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اتنی بڑی اور پراسرار حویلی دیکھ کر اس کا معصوم دل اور زیادہ گھبرا گیا۔
جنکوک نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکل کر تاہیونگ کی طرف دیکھا، جو وہیں کونے میں سیمٹ کر بیٹھا تھا اور باہر آنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔
"باہر آؤ،" جنکوک نے سخت اور بارعب آواز میں حکم دیا۔
تاہیونگ نے سہم کر جنکوک کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر اس کے سرخ گالوں پر گر رہے تھے۔
"مـ... مجھے گھر جانا ہے... مجھے بابا کے پاس جانا ہے..." 19 سالہ تاہیونگ نے کانپتی آواز میں التجا کی، اسے اب بھی یہ لگ رہا تھا کہ اس کا باپ غلطی سے اسے چھوڑ گیا ہے۔
جنکوک نے ایک لمبی سانس لی اور گاڑی کے اندر جھک کر تاہیونگ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ اس کی گرفت میں غصہ نہیں تھا، لیکن ایک ایسا اختیار تھا جس سے تاہیونگ انکار نہ کر سکا۔ جنکوک نے اسے باہر نکالا اور حویلی کے اندر لے آیا۔
حویلی کے شاندار ہال میں داخل ہوتے ہی ملازمین صف باندھے کھڑے ہو گئے۔ جنکوک نے تاہیونگ کی روتی ہوئی اور معصوم صورت کو دیکھا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنا روکھا اور سخت رویہ دکھائے، لیکن تاہیونگ کی بے گناہی اور خوف نے جنکوک کے اندر عجیب سی بے چینی پیدا کر دی تھی۔
"اسے اوپر والے ماسٹر بیڈ روم میں لے جاؤ،" جنکوک نے ملازم کو ہدایت دی اور پھر تاہیونگ کے بالکل پاس جھک کر کہا، "آج سے یہی تمہارا گھر ہے۔ بھاگنے کی کوشش کرو گے تو درد تمہیں ہی ہوگا، سمجھے؟"
تاہیونگ نے ڈر کر فوراً ہانکلے میں سر ہلا دیا۔
کمرے میں پہنچ کر تاہیونگ بستر کے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور گھٹنوں میں سر دے کر خاموشی سے رونے لگا۔ تھوڑی دیر بعد جنکوک خود کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں گرم دودھ اور کچھ کھانے کی پلیٹ تھی۔
اس نے پلیٹ سائیڈ میز پر رکھی اور تاہیونگ کے پاس بستر پر بیٹھ گیا۔ تاہیونگ خوف سے اور پیچھے ہٹنے لگا، لیکن جنکوک نے اس کا شانہ پکڑ کر اسے روکا۔
"کھانا کھاؤ،" جنکوک نے سخت لہجے میں کہا، لیکن اس کے ہاتھ نے تاہیونگ کے گال سے آنسو صاف کیے۔
"مـ... مجھے نہیں کھانا..." تاہیونگ نے ہچکی لیتے ہوئے کہا۔
"میں نے پوچھا نہیں ہے، حکم دیا ہے،" جنکوک نے ڈش سے ایک نوالہ اٹھا کر تاہیونگ کے سامنے کیا، "اگر خود نہیں کھاؤ گے تو میں زبردستی کھلاؤں گا اور وہ طریقہ تمہیں بالکل پسند نہیں آئے گا۔"
تاہیونگ نے خوفزدہ ہو کر اپنے معصوم ہونٹ کھولے اور خاموشی سے نوالہ کھا لیا۔ جنکوک خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، یہ سوچتے ہوئے کہ جس لڑکے کو اس نے صرف اپنے شوق اور رقم کے بل بوتے پر خریدا تھا، اس کا یہ معصوم روپ اس کے سخت دل پر اثر کر رہا تھا۔
1 month ago | [YT] | 6
View 0 replies
Load more