Hello All My Dear.
This channel is all about showing you the opportunities to work and settle overseas where you can improve your standard of living.
Here you will get guidance on the whole process of getting a job overseas with work & visit visa as Pakistani Indian and others.
Disclaimer :
I am not an immigration consultant. This channel is created based on the information I have found in my research, experience, and knowledge. Use it at your own risk.
Beige Travel Trip
بحرین میں منشیات فروشی اور ممنوعہ ادویات کی خرید و فروخت میں ملوث تین ایشیائی باشندوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ بحرینی اخبار الخلیج کے مطابق وزارت داخلہ نے بتایا کہ محکمہ انسداد منشیات نے دو مختلف کارروائیوں کے دوران ملزمان کو حراست میں لیا۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے منشیات اور ممنوعہ ادویات کی بڑی مقدار برآمد ہوئی، جن کی مجموعی مالیت ایک لاکھ 66 ہزار بحرینی دینار سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق دونوں واقعات کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں، جن کے نتیجے میں مشتبہ افراد کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ برآمد ہونے والی تمام اشیاء کو قبضے میں لے کر ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد دونوں مقدمات پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیے گئے ہیں۔
حکام نے منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے اور معاشرے کو اس کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے عوامی تعاون کو اہم قرار دیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ منشیات کی فروخت یا اسمگلنگ سے متعلق کسی بھی سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
وزارت داخلہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اطلاع فراہم کرنے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی اور ان کی معلومات کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاشرے کو منشیات سے محفوظ رکھنا سیکیورٹی اداروں کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
21 hours ago | [YT] | 6
View 0 replies
Beige Travel Trip
اٹلی کی وزارتِ داخلہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 6 نومبر 2026 کی صبح 8 بجے تک رواں سال مجموعی طور پر 27,242 تارکین وطن سمندری راستے سے اٹلی پہنچ چکے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران آنے والے 60,650 افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جبکہ 2024 میں اسی مدت کے دوران 57,716 افراد اٹلی پہنچے تھے۔ صرف نومبر کے ابتدائی دنوں میں 434 افراد سمندری راستے سے اٹلی آئے ہیں، جبکہ گزشتہ سال پورے نومبر میں 4,360 اور 2024 میں 8,124 افراد پہنچے تھے۔ قومیت کے اعتبار سے بنگلہ دیشی شہری سب سے بڑی تعداد میں اٹلی پہنچنے والوں میں شامل ہیں، جن کی تعداد 6,160 ہے، جو مجموعی آمد کا 22.6 فیصد بنتی ہے۔ دوسرے نمبر پر الجزائر کے 3,446 شہری (12.6 فیصد)، تیسرے نمبر پر صومالیہ کے 3,041 شہری (11.2 فیصد)، چوتھے نمبر پر اریٹیریا کے 2,824 شہری (10.4 فیصد) اور پانچویں نمبر پر سوڈان کے 2,043 شہری (7.5 فیصد) ہیں۔ پاکستانی شہریوں کی تعداد 1,719 ریکارڈ کی گئی ہے، جو مجموعی آمد کا 6.3 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ مصر کے 1,525 (5.6 فیصد)، تیونس کے 1,499 (5.5 فیصد)، ایتھوپیا کے 544 (2 فیصد)، مالی کے 485 (1.8 فیصد)، نائجیریا کے 404 (1.5 فیصد)، آئیوری کوسٹ کے 367 (1.3 فیصد)، جنوبی سوڈان کے 363 (1.3 فیصد)، ایران کے 328 (1.2 فیصد) اور گنی کے 310 (1.1 فیصد) شہری شامل ہیں۔ مزید 2,184 افراد (8 فیصد) دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں یا ابھی ان کی شناخت کا عمل مکمل نہیں ہوا۔ دوسری جانب اٹلی سے تارکین وطن کی واپسی کے اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں۔ یکم جنوری سے 4 نومبر 2026 تک مجموعی طور پر 7,506 افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے، جن میں 6,443 افراد کو جبری طور پر ملک بدر کیا گیا، جبکہ 1,063 افراد نے معاونت کے ساتھ رضاکارانہ واپسی اختیار کی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پورے 2025 میں 6,772 اور 2024 میں 5,704 افراد کو واپس بھیجا گیا تھا، یعنی رواں سال کے ابتدائی دس ماہ میں ہی گزشتہ پورے سال کے مقابلے میں زیادہ افراد کی واپسی عمل میں آ چکی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار اٹلی کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔
#italy #italylife #italia #Eurolife #foryou #beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Pakistan #OverseasPakistanis #Immigration #Overseas
21 hours ago | [YT] | 4
View 0 replies
Beige Travel Trip
اٹلی کے شہر پیاچینزا میں ایک 27 سالہ تیونسی شہری معمولی معلومات حاصل کرنے کے لیے پولیس کے امیگریشن دفتر پہنچا، لیکن وہاں ہونے والی جانچ پڑتال کے بعد اس کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع کر دی گئی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ روز صبح پیش آیا، جب مذکورہ شخص کویستورا کے امیگریشن دفتر میں کچھ معلومات لینے کے لیے آیا تھا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں نے اس کے کاغذات اور قانونی حیثیت کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ وہ اٹلی میں غیر قانونی طور پر مقیم ہے۔ مزید تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس کے خلاف ماضی میں متعدد جرائم کے مقدمات درج تھے، جن میں سرکاری اہلکاروں کے ساتھ مزاحمت، چوری، ڈکیتی اور منشیات سے متعلق جرائم شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ جرائم کیگلیاری اور روم کے علاقوں میں پیش آئے تھے۔ اس کی غیر قانونی رہائش اور پولیس کی جانب سے سامنے آنے والی خطرناک سرگرمیوں کے پیش نظر فوری طور پر ملک بدری کا حکم جاری کیا گیا۔ بعد ازاں اسی روز شام کو پولیس کی خصوصی ٹیم اسے تحویل میں لے کر تورینو کے ملک بدری مرکز (CPR) منتقل کر گئی، جہاں اسے ملک سے واپس بھیجنے کے انتظامات مکمل ہونے تک رکھا جائے گا۔ اس واقعے میں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وہ شخص خود امیگریشن دفتر میں معلومات لینے پہنچا تھا، لیکن معمول کی جانچ پڑتال کے دوران اس کی غیر قانونی حیثیت سامنے آنے کے بعد اسے ملک بدری کے عمل کا سامنا کرنا پڑا۔
#italy #italylife #italia #Eurolife #foryou ##beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Pakistan #OverseasPakistanis
1 day ago | [YT] | 5
View 0 replies
Beige Travel Trip
مسٹر پتلو شخصیت عروج سے زوال تک
.
اس کا قول فعل ذاتی زندگی سے ہٹ کر! نظر آنے والی تصویر جو ویڈیو سے لی گئی ہے، ویڈیو بھی سب نے دیکھی ہو گی جس میں اپنی بےگناہی، ساتھ چھوڑ گئے قریبی ساتھی، سرکاری اجازت، چیف مارشل سے اداروں کو سپورٹ کرنا، سارے قتل مجھ پر ڈال دئے، میں نے کچھ نہیں کیا میں تو وہاں تھا ہی نہیں،اور خود کشی کرنے تک کی باتیں۔
.
غربت سے عروج تک! تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے صحیح اور غلط کی پہچان بھول گیا، خود ہی وائس میسجیز ویلاگ پر سننا کہ یہ لوگ مجھے زندگی ختم کرنے کی دھمکیاں دہے رہے ہیں وغیرہ۔ جب ایسے خطرات موجود تھے تو اتنا بڑا پروگرام رکھنے کی کیا ضرورت تھی، شکاری موقع کی تلاش میں ہوتا ہے، اور ویسا ہی ہوا اب اکیلا ہو گیا جب اسے کسی کی ضرورت تھی۔
.
نئی اطلاع کے مطابق اس کے ایک خاص دوست کی طرف سے گرفتاری ہو گئی ہے۔
.
اللہ سبحان تعالی مجھ سمیت سب کو ھدایت دے، اور اس کی بھی مدد کرے آمین
#mrpatlo #patlo #patlonewupdate #beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Pakistan #OverseasPakistanis #Immigration #Overseas
5 days ago | [YT] | 10
View 0 replies
Beige Travel Trip
اٹلی: چند گھنٹوں کے دوران 125 سے زائد تارکین وطن اٹلی میں داخل ، پاکستانی بھی شامل
تفصیلات کے مطابق اٹلی کے جنوبی جزیرے لامپیدوسا میں چند گھنٹوں کے دوران مختلف کشتیوں کے ذریعے مجموعی طور پر 125 سے زائد تارکین وطن پہنچے۔ ان میں سے دو کشتیاں تو براہِ راست جزیرے کے ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں، جبکہ تیسری کشتی کو سمندر میں سفر کے دوران اٹلی کی guardia di finanza کی گشتی کشتی نے روک لیا۔ پہلی کشتی کے ذریعے آنے والے 51 افراد جزیرے کی مغربی سڑک کے قریبی کارابینیریکو ملے، جن میں 8 خواتین اور 6 کم عمر بچے شامل تھے۔ ان کا تعلق آئیوری کوسٹ، گنی اور سیرا لیون سے تھا اور وہ تیونس کے علاقے المہا سے روانہ ہوئے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد تجارتی بندرگاہ کے قریب مزید 62 تارکین وطن کو روکا گیا، جن میں ایک کم عمر بچہ بھی شامل تھا۔ اس گروپ میں افغانستان، بنگلہ دیش، مصر، پاکستان اور صومالیہ کے شہری موجود تھے، جو لیبیا کے شہر زوارہ سے کشتی کے ذریعے روانہ ہوئے تھے۔ تیسری کشتی میں سوار 12 تیونسی شہریوں کو مالیاتی پولیس نے سمندر سے اپنی کشتی میں منتقل کیا اور بعد ازاں پاپا فرانسسکو بندرگاہ پر اتارا۔ تینوں گروپوں کو ابتدائی کارروائی اور شناخت کے لیے لیمپیدوسا کے مہاجرین کے استقبالی مرکز (ہاٹ اسپاٹ) منتقل کر دیا گیا، جہاں اس وقت مجموعی طور پر 369 افراد موجود ہیں۔ حکام کے مطابق اسی شام 120 تارکین وطن کو باقاعدہ مسافر فیری کے ذریعے جزیرے سے منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جو اتوار کی صبح سویرے پورٹو ایمپیڈوکلی کی بندرگاہ پہنچے گی۔
5 days ago | [YT] | 7
View 0 replies
Beige Travel Trip
پاکستانی شہریوں کے لیے قطر قطر ائرپورٹ پہنچ کر ’مفت ویزا‘ حاصل کرنے کی سہولت بحال، مگر شرائط کیا ہیں؟
.
قطر کی وزارت داخلہ کے ماتحت پاسپورٹس اور سرحدی امور سے متعلق محکمے کی ویب سائٹ پر موجود ایک ہدایت کے مطابق پاکستانی، انڈین اور تھائی شہریوں کو 30 روز تک کے لیے مفت سیاحتی ویزا (ویزا آن ارائیول)۔‘ویزا آن ارائیول دیا جا سکتا ہے۔
سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس سہولت کے لیے ایسا پاسپورٹ جو کم از کم تین ماہ کے لیے کارآمد ہو، آمد و رفت کا تصدیق شدہ فضائی ٹکٹ، ’ڈسکور قطر‘ پلیٹ فارم کے ذریعے ہوٹل بکنگ اور منظور شدہ ادارے کی ہیلتھ انشورنس لازمی ہو گی۔
ہوٹل بکنگ لازمی ’ڈسکور قطر‘ کے پلیٹ فارم سے، کم از کم ایک ماہ کی ہیلتھ انشورنس جس کی قیمت 50 قطری ریال (تقریباً 3800 پاکستانی روپے)
5 days ago | [YT] | 13
View 0 replies
Beige Travel Trip
Canada Bill C-12
یہ قانون 26 مارچ 2026 کو شاہی منظوری (Royal Assent) کے بعد نافذ ہوا، جس کا بنیادی مقصد کینیڈا کی سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور ملک کے امیگریشن نظام کی شفافیت اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اس قانون کے تحت امیگریشن کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کی گئی ہیں، جن میں درخواستوں کی جانچ پڑتال، پناہ کے نظام (asylum system) کی کارروائی، اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے قواعد شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد جعلی یا غیر درست دستاویزات کی روک تھام، نظام میں موجود خامیوں کو کم کرنا، اور عوامی صحت اور قومی سلامتی سے متعلق خطرات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کرنا ہے۔
اس قانون کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر عوامی مفاد میں ضرورت ہو تو وہ کسی بھی مخصوص قسم کی امیگریشن درخواستوں کی وصولی یا کارروائی کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے۔ اس میں مستقل رہائش، عارضی ویزا، الیکٹرانک ٹریول اجازت نامہ، ورک پرمٹ اور اسٹڈی پرمٹ شامل ہیں۔ اسی طرح امیگریشن افسران کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ مخصوص قانونی حالات میں پہلے سے جاری شدہ ویزے یا امیگریشن دستاویزات کو منسوخ، معطل یا ان میں ترمیم کر سکیں، اگر یہ نظام کی ساکھ یا سیکیورٹی کے لیے ضروری سمجھا جائے۔ اس سے حکومت کو ایک لچکدار نظام فراہم ہوتا ہے تاکہ وہ جعلی درخواستوں، ویزا کے غلط استعمال یا اچانک بڑھنے والے دباؤ جیسے حالات میں فوری کارروائی کر سکے۔
مزید برآں، اس قانون کے تحت مختلف سرکاری اداروں کے درمیان ذاتی معلومات کے تبادلے کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس میں شناخت، امیگریشن یا رہائشی حیثیت، اور وزارت کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات سے متعلق معلومات شامل ہو سکتی ہیں۔ اس کا مقصد مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرنا ہے تاکہ امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد ہو سکے، شناخت کی تصدیق بہتر طریقے سے کی جا سکے، اور ممکنہ بے ضابطگیوں یا غلط استعمال کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔
پناہ (Asylum) کے نظام میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلے موجود "ڈیزگنیٹڈ کنٹریز آف اوریجن" کا نظام ختم کر دیا گیا ہے، اور اس کی جگہ نئے قواعد متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق جو افراد 24 جون 2020 کے بعد کینیڈا میں داخل ہوئے ہیں، انہیں داخلے کے ایک سال کے اندر پناہ کی درخواست دینا لازمی ہے۔ اگر یہ مدت گزر جائے تو وہ اس عمل کے اہل نہیں رہیں گے۔ اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ بار کینیڈا میں داخل ہوا ہو تو ایک سال کی مدت پہلی بار داخلے کے بعد شمار کی جائے گی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص امریکہ کے ساتھ زمینی سرحد پر غیر مجاز مقام سے داخل ہو اور مقررہ مدت میں درخواست نہ دے تو اس کی درخواست بھی ناقابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ یہ اقدامات اس لیے کیے گئے ہیں تاکہ نظام میں نظم و ضبط قائم رہے اور تاخیر یا غیر قانونی داخلے کے مسائل کو کم کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ، کچھ اہم طریقہ کار بھی متعارف کرائے گئے ہیں جن کے مطابق اگر کوئی درخواست دہندہ کینیڈا میں موجود نہ ہو تو اس کی پناہ کی درخواست یا اپیل پر کارروائی عام طور پر آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔ اگر کوئی شخص خود اپنی مرضی سے اس ملک واپس چلا جائے جہاں اسے خطرہ بتایا گیا تھا، تو اس کی درخواست کو ختم شدہ (abandoned) تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی درخواست دہندہ امیگریشن حکام کی طرف سے طلب کیے گئے ضروری دستاویزات یا انٹرویوز میں شرکت نہ کرے تو بھی اس کی درخواست واپس لی ہوئی یا ختم شدہ سمجھی جا سکتی ہے۔
ان تمام اصلاحات کا مجموعی مقصد یہ ہے کہ کینیڈا کا امیگریشن اور پناہ کا نظام زیادہ منظم، شفاف اور مؤثر بنایا جائے، تاکہ صرف وہی درخواستیں آگے بڑھ سکیں جو مکمل، درست اور دیانتدار بنیادوں پر جمع کروائی گئی ہوں، اور نظام کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
#beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Pakistan #OverseasPakistanis #Immigration #Overseas #Canada
6 days ago | [YT] | 6
View 0 replies
Beige Travel Trip
غیر قانونی مائیگریشن میں مدد بھی جرم ہے
کسی کو بیرونِ ملک ملازمت کے لیے بھیجتے وقت قانونی تقاضے نظرانداز کرنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ غیر قانونی طریقے سے ملک چھوڑنے میں مدد کرنا، اس کی کوشش کرنا یا ایسا معاہدہ کرنا بھی جرم ہے۔ یہ ذمہ داری صرف سفر کرنے والے کی نہیں؛ اسے بھیجنے یا سہولت فراہم کرنے والا شخص بھی قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتا ہے۔
امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعہ 17(2) کے تحت، قانون اور متعلقہ قواعد کے خلاف کسی شخص کو بیرونِ ملک ملازمت کے لیے روانہ کرنے، روانگی میں مدد دینے یا ایسی کوشش کرنے پر:
پہلی مرتبہ جرم ثابت ہونے پر: 5 سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
دوسری مرتبہ یا اس کے بعد جرم ثابت ہونے پر: 7 سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
پروٹیکٹر کا قانونی عمل مکمل کرنا ضروری ہے
بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے کارکن کو مقررہ طریقۂ کار کے مطابق پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کے سامنے پیش ہونا اور ضروری کارروائی مکمل کرنا ہوتی ہے۔ لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کی جانب سے بھرتی کیے گئے کارکن کو یہ عمل مکمل کیے بغیر روانہ کرنا بھی دفعہ 17(2) کے تحت قابلِ سزا ہے۔ صرف ویزا اور ٹکٹ مل جانا تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کا ثبوت نہیں۔
اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لیے ضروری ہدایت
کارکن کی روانگی سے پہلے تمام قانونی تقاضے مکمل کریں اور ان کی تعمیل کا واضح ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ امیگریشن کے عمل میں قانون یا قواعد کی خلاف ورزی ہونے پر متعلقہ پروموٹر کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔ دفعہ 17(3) میں پروموٹر کی ذمہ داری سے متعلق قانونی استثنا بھی موجود ہے، اس لیے ذمہ داری کا تعین متعلقہ حقائق اور قانون کے مطابق ہوگا۔
ملازمت کے خواہش مند افراد اور ان کے گھر والے ’’پروٹیکٹر کی ضرورت نہیں‘‘ یا ’’باقی کاغذات بعد میں بن جائیں گے‘‘ جیسی یقین دہانیوں پر سفر کا فیصلہ نہ کریں۔ ادائیگی اور روانگی سے پہلے ملازمت، ویزا، پروموٹر کے لائسنس اور ضروری قانونی کارروائی کی تصدیق کریں۔
محفوظ مستقبل کے لیے قانونی راستہ اختیار کریں—غیر قانونی مائیگریشن میں حصہ لیں، نہ کسی کی مدد کریں۔
6 days ago | [YT] | 11
View 0 replies
Beige Travel Trip
جب کوئی نیا ورکر جنوبی کوریا جا کر مستقل طور پر آباد ہونے کا سوچتا ہے، تو اس کا سفر سب سے پہلے E-9 ویزا سے شروع ہوتا ہے، جسے نان پروفیشنل ورک ویزا کہا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے ملک میں موجود ہیں تو آپ سیدھے طور پر ہنر مند یا رہائشی ویزے پر کوریا نہیں جا سکتے، بلکہ اس کا باقاعدہ سرکاری راستہ ایمپلائمنٹ پرمٹ سسٹم (EPS) کے تحت طے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، فرض کریں ایک نوجوان احمد پاکستان میں ہے اور کوریا جانا چاہتا ہے؛ اسے سب سے پہلے اپنے ملک میں کوریائی زبان کا بنیادی امتحان (EPS-TOPIK) اور اسکل ٹیسٹ اچھے نمبروں سے پاس کرنا ہوگا۔ جب وہ یہ مراحل پاس کر لیتا ہے، تو اس کا نام کوریا کے سرکاری جاب روسٹر میں درج ہو جاتا ہے، جہاں کوریائی فیکٹریاں یا فارمز ورکرز کا انتخاب کرتے ہیں۔ جاب کنٹریکٹ ملنے کے بعد احمد کو E-9 ویزا ملتا ہے، جس کے تحت وہ کوریا جا کر کسی مینوفیکچرنگ فیکٹری یا زراعت کے شعبے میں کام شروع کرتا ہے۔ E-9 ویزے پر ابتدائی طور پر تین سال کا قیام ملتا ہے، جسے اسی کمپنی کی رضامندی سے ایک سال دس ماہ کے لیے بڑھا دیا جاتا ہے، یعنی احمد کے پاس کوریا میں قانونی طور پر کام کرنے کے لیے کل چار سال دس ماہ کا وقت ہوتا ہے۔ اس پہلے مرحلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ورکر کو سخت محنت کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کو بہتر بنانا ہوتا ہے اور کسی بھی قانونی خلاف ورزی سے بچنا ہوتا ہے تاکہ وہ اگلے مرحلے کے لیے خود کو تیار کر سکے۔
کوریا میں مسلسل چار سال تک قانونی طور پر کام کرنے کے بعد ورکر اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے E-9 ویزے کو E-7-4 ویزا، یعنی ہنر مند کارکن (Skilled Workforce) کے ویزے میں تبدیل کروائے، جو دراصل ایک پوائنٹس سسٹم پر کام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، احمد جب اپنی فیکٹری میں چار سال مکمل کر لیتا ہے، تو اب اس کے پاس E-9 ویزے کے چند ماہ باقی رہ جاتے ہیں اور عام طور پر ورکرز کو اس وقت ملک واپس جانا پڑتا ہے، لیکن اگر احمد نے ان چار سالوں میں کورین امیگریشن اینڈ انٹیگریشن پروگرام (KIIP) یا کوریائی زبان کا امتحان (TOPIK) پاس کر کے لیول 3 یا 4 حاصل کر لیا ہو، اس کی سالانہ تنخواہ تقریباً 26 سے 30 ملین وان یا اس سے زائد ہو، اور اس کی فیکٹری کا مالک اس کے کام سے مطمئن ہو کر اسے سفارشی خط (Recommendation) فراہم کرے، تو احمد کے پوائنٹس مطلوبہ حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان پوائنٹس میں عمر، تنخواہ، تعلیم، اور ایک ہی کمپنی کے ساتھ وفاداری کے اضافی نمبر شامل ہوتے ہیں۔ جب احمد اپنی درخواست جمع کرواتا ہے اور امیگریشن اسے E-7-4 ویزا جاری کر دیتی ہے، تو اس کے سر سے اپنے ملک واپس بھیجے جانے کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ٹل جاتا ہے، اس کا ویزا ہر ایک یا دو سال بعد کوریا کے اندر رہتے ہوئے ہی رینیو ہوتا رہتا ہے، اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی F-3 ویزے پر کوریا بلا کر اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے۔
E-7-4 ویزا حاصل کرنے کے بعد اگلا بڑا قدم F-2 ویزا حاصل کرنا ہوتا ہے، جسے طویل مدتی رہائشی ویزا (Long-Term Residence) کہا جاتا ہے، اور یہ ایک ورکر کو فیکٹری اور مخصوص آجر کی سخت پابندیوں سے مکمل آزادی فراہم کرتا ہے۔ موجودہ روایتی قوانین کے مطابق E-7-4 ویزے پر تقریباً پانچ سال کا عرصہ گزارنے کے بعد ورکر F-2 ویزے (عام طور پر F-2-99 کیٹیگری) کے لیے درخواست دے سکتا ہے، حالانکہ کورین حکومت اس مدت کو کم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر، احمد اب اپنی فیملی کے ساتھ کوریا میں رہ رہا ہے اور پچھلے پانچ سالوں سے ایک ہنر مند ورکر کے طور پر E-7-4 ویزے پر کام کر رہا ہے؛ اس دوران اس نے کوریائی زبان کا پروگرام (KIIP) لیول 4 یا 5 تک مکمل کر لیا ہے، اس نے کچھ بچت کر کے کورین بینک میں ڈیپازٹ یا فلیٹ کے لیے جیونسے (Jeonse) رقم کے طور پر اثاثے بنا لیے ہیں، اور اس کی سالانہ خاندانی آمدنی کوریا کی فی کس آمدنی کے قومی معیار پر پورا اترتی ہے۔ جب احمد ان تمام مالیاتی، زبانی اور ٹیکس ادائیگی کے شواہد کے ساتھ درخواست دیتا ہے، تو اسے F-2 ویزا مل جاتا ہے۔ اس مرحلے پر احمد اب قانونی طور پر کسی ایک مخصوص فیکٹری کے اسپانسرشپ کا پابند نہیں رہتا، وہ آزادانہ طور پر جاب مارکیٹ میں بہتر تنخواہ والی نوکریوں کا انتخاب کر سکتا ہے، اور اس کی شریکِ حیات کو بھی کوریا میں باقاعدہ کام کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔
اس پورے سفر کا آخری اور حتمی مرحلہ F-5 ویزا ہے، جسے پرماننٹ ریزیڈنسی (Permanent Residency یا PR) کہا جاتا ہے، جس کے بعد آپ تاحیات جنوبی کوریا کے مستقل رہائشی بن جاتے ہیں۔ F-2 ویزا حاصل کرنے کے بعد عام طور پر مزید دو سے تین سال کا عرصہ گزارنے پر، یعنی کوریا میں مجموعی طور پر تقریباً دس سے بارہ سال کا طویل، صاف ستھرا اور کامیاب قیام مکمل کرنے کے بعد ایک ورکر F-5 ویزے کے لیے اہل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، احمد اب کوریا کے سماج اور نظام میں مکمل طور پر رچ بس چکا ہے، اس نے کورین سوشل انٹیگریشن پروگرام کا فائنل لیول 5 مکمل کر کے اس کا جامع امتحان (Comprehensive Test) پاس کر لیا ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ وہ کوریائی ثقافت، تاریخ اور قوانین کو روانی سے سمجھتا ہے، اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مالی لحاظ سے اس کی اور اس کی فیملی کی مجموعی سالانہ آمدنی کوریا کی فی کس قومی مجموعی آمدنی یعنی GNI سے دگنی یا امیگریشن کی طے کردہ مطلوبہ حد کے مطابق ہونی چاہیے۔ جب امیگریشن احمد کی تمام تر شرائط کی تصدیق کر لیتی ہے تو اسے F-5 ویزا جاری کر دیا جاتا ہے؛ اس گرین کارڈ نما حیثیت کے بعد احمد کو کبھی بھی نوکری چھوڑنے یا تبدیل کرنے پر ملک بدری کا خوف نہیں رہتا، اسے ہر وقت ویزا ایکسٹینشن کے لیے دفتری چکر نہیں لگانے پڑتے، اسے مقامی بینکوں اور سماجی مراعات تک مکمل رسائی مل جاتی ہے، اور اگر وہ چاہے تو مستقبل میں کورین پاسپورٹ اور شہریت کے حصول کے لیے بھی باضابطہ درخواست دے سکتا ہے۔
#SouthKoreaJobs #Europe #Immigration #southkorea #beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Pakistan #OverseasPakistanis #Immigration #Overseas
6 days ago | [YT] | 9
View 0 replies
Beige Travel Trip
غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائی، 53 غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا گیا
غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائی کے دوران 53 ایشیائی غیر ملکیوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا جن کا مجرمانہ ریکارڈ تھا۔ اس آپریشن کو اٹلی کی سینٹرل امیگریشن ڈائریکٹوریٹ اور بارڈر پولیس نے فرونٹیکس ایجنسی کے تعاون سے انجام دیا۔
چارٹر فلائٹ کے ذریعے ملک بدر کیے گئے افراد میں سے 37 افراد کو اٹلی نے (جس نے آپریشن کو منظم کیا)، 6 کو قبرص نے اور باقی 10 کو یونان نے ملک بدر کیا۔
اٹلی سے واپس بھیجے گئے بہت سے افراد پر افراد پر حملہ، املاک کو نقصان، سرکاری انتظامیہ، عوامی سلامتی، منشیات اور امیگریشن سے متعلق جرائم کا ریکارڈ ہے۔ ان میں ایک شخص بھی شامل ہے جسے گزشتہ اگست میں گوریزیا کی ٹریفک پولیس نے دوینو-اوریسینا (TS) میں شاہراہ کے قریب جنگل میں جان بوجھ کر آگ لگانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، لیکن اگلے ہی دن رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم حال ہی میں اسے ٹریستے کی ریلوے پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا کیونکہ اس نے سرکاری اہلکاروں پر حملہ کیا، دو اہلکاروں کو زخمی کیا جن کی چوٹیں 5 اور 21 دن میں ٹھیک ہونے والی تھیں۔
ایک اور شخص کو سرحد پر پناہ کی درخواست کے طریقہ کار کے بعد ملک بدر کیا گیا۔ سرحد پر پناہ کا طریقہ کار یورپی یونین کے نئے مائیگریشن اور پناہ معاہدے کا حصہ ہے، جس کے تحت یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر ہی پناہ کی درخواستوں کا تیزی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس پورے آپریشن کی نگرانی نیشنل گارنٹر برائے انسانی حقوق اور فرونٹیکس کے فنڈامینٹل رائٹس آفس نے کی۔
#italy #beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Pakistan #OverseasPakistanis #Immigration #Overseas
6 days ago | [YT] | 5
View 0 replies
Load more